
میں عمر کے اس حصہ میں قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہوں اور مرنے سے پہلے ریکارڈ سیدھا کرنا چاہتا ہوں- آخرت کا خوف بھی ہے- ثبوت ميرے ہاتھ ميں ہيں- ميں جو چاہے وہ کرسکتا تھا- قلم ميرے ہاتھ ميں ہے- ميں جو چاہے وہ لکھ سکتا تھا- مگرميں نے حتی الامکان جذبات ميں بہے بغيرسچ لکھنے کی کوشش کی ہے- اگر ایک یا دو لوگ بھی اس داستان کو پڑھ کر اپنے آپ کو بچالیں- تو میں سمجھوں گا کہ محنت کارآمد ہوئی- جب کوئی کسی کو سچے يا جھوٹے الزامات لگا کر ننگا کرتا ہے- تو انسانی فطرت ہے کہ پہلے انسان اپنی برہںگی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر ناکام ہوجائے تو پھر الزام لگانے والے کو ننگا کرنے کی کوشش کرتا ہے- ايک حمام ميں سب ننگے ہوجائیں تو شرم کيسی- ارشد کے اپنے کزن بھائی زاہد کا جب رازافشا ہوا تو وہ چالیس 40 سيکنڈ اپنے آپ کونيلوفرپر گندے الزامات لگانے سے نہيں روک سکا- ہمارے دوست شعيب بیس 20 گھنٹے صبرنہيں کرسکے وہ بھی مجبورآ- جب ضمیرشاہ کی بات کو نيلوفر نے افشا کر ديا- تاکہ شعیب کو ورغلاکے مجھے راستے سے ہٹا کراپنا کمال سے ملنے کا راستہ صاف کرسکے- توشعیب رات گزارکر ارشد کی غیر موجودگی میں آئے اور مجھ پر الزامات جڑديے- آپ کو نیلوفر کی تعریف تو کرنا چاہیے کہ اس نے کتنی چالاکی سے میرے اپنے گواہ کو توڑ کر اپنے ساتھ ملالیا-
ميں نے اپنی محبتوں کی وجہ سے بیالیس 43 سال تک اپنی زبان "جزوی طورپر" بند رکھی- مگر ميری زبان بندی کو ميری کمزوری اور ميرا جرم سمجھا گیا- پہلے ميں نے ارشد کا انتظار کيا کہ وہ يا اس کی بيوی ريکارڈ درست کريں گے- پھر ميں نے انتظار کيا کہ مونا اور ندا اپنے گھر کی ہو جائيں- تاکہ ان کی زندگی متاثر نہ ہو- ميرے دل ميں ان کے لئے بڑی محبت تھی- پھر ميں نے باقی بيٹیوں کی شاديوں کا انتظار انسانی ہمد ردی کی وجہ سے کيا- جب کہ يہ ڈومين ميں نے چھبیس 26 دسمبر 2007 کو اٹھارہ 18 سال پہلے ہی خريد ليا تھا- ابھی بھی میں بڑے ہی دکھ میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ يہ سب لکھ رہا ہوں- فتنے کو زنا اور قتل سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے- میں اسی فتنے کوقلمبند کررہا ہوں- جس نے میری زندگی کو بدل کے رکھ دیا- شايد کچھ نوجوان سبق حاصل کرکے اپنے آپ کو بچالیں- زیادہ تر واقعاتی شہادتيں ہيں اور میں نے حتی الامکان ذاتی رائے سے پرہیز کیا ہے- اگر بيچ ميں کوئی ذاتی رائے محسوس ہو تو اس کونظر انداز کرديں- ابھی بھی میں تفصیلات تہائی سے بھی کم لکھ سکا ہوں- اگلے 3 ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کروں گا-
کبھی کبھی اولاد کے کئے کی سزا والدین کو بھگتنا پڑتی ہے- اور کبھی والدین میں سے کسی کے کئے کی سزا اولاد کو بھگتنا پڑتی ہے- ميری استدعا ہے کہ براہ مہربانی نيلوفر کی حرکتوں پر بيٹیوں کو ملوث نہ کريں اورنہ طعنے ديں- حضرت ابراہيمء کے والد آزر نافرمانوں ميں سے تھے- ارشد کو بھی نظرانداذ کرديں- حضرت لوط ء کی بيوی نافرمانوں ميں سے تھی-ارشد نے اپنی بیوی سے محبت کی انتہا کردی-
آپ کواس لکھے ہوئے حقائق ميں کچھ باتيں متضاد محسوس ہوں گی- کيوںکہ مختلف وقتوں ميں ہوئی ہيں يا کہی گئی ہيں- ميں نے ان کو ٹھيک کرنے کی کوشش نہيں کی ہے- کچھ بے ايمان لوگ ہماری مقدس کتاب تک ميں ايسی باتيں نکالنے کی کوشش کرتے ہيں- جو بظاہر متضاد محسوس ہوتی ہوں-
ویسے يہ دنيا ہے بھی بڑی عجيب- يہاں لوگ محبت یا مہربانی کو کمزوری سمجھتے ہيں- محبت بھی ايمان کی طرح گھٹتی پڑھتی ہے اور کبھی نفرت ميں بھی بدل جاتی ہے- آخر لو ميرج کے بعد طلاق کيوں ہو جاتی ہے- ميں نے سوچ ليا تھا کہ جب تک ميرے دل ميں ارشد کی محبت ہے- ميں چپ رہوں گا- ليکن افسوس پچھلے 43 بیاليس سالوں ميں ہم صرف تين دفعہ اس کے گھر سے باہر ہی ملے ہیں- میں نے اپنا نام اور ضمیر سمیت کچھ لوگوں کے نام اس کہانی میں بدل دیے ہیں- ضمیر ایک فوضی کردار ہے- لیکن اس کے کردار سے منسلک واقعات سچے ہیں- اس کہانی میں آپ کو کچھ لوگوں کا دوغلا پن نظر آئے گا- دو چہروں والے منافق لوگ-
= بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے، ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے=
میرے لیے دنیا کو سمجھنے میں ایک نسل کا گیپ آگیا - آج ميں سمجھتا ہوں کہ ميں جب بیس 20 سال کی عمرمیں سعودی عرب پہںچا تو سماجی معاملات کو سمجھنے ميں اپنی عمر سے دس سال چھوٹا تھا- ميں مند رجہ ذيل يقين رکھتا تھا-
اچھا دوست ہمیشہ مخلص ہوتا ہے-
ہر داڑھی والا شخص اچھا اور سچا ہوتا ہے-
پا ںچ وقت کا نمازی بڑا ایما ندار ہوتا ہے-
قسم کھا کر کوئی شخص جھوٹ نہیں بول سکتا-
کسی بھی کتاب یا اخبار میں چھپی ہوئی ہربات سچی ہوتی ہے-
اگر آپ کسی شخص کے ساتھ برا نہیں کریں گے تو وہ شخص بھی آّپ کے ساتھ برا نہیں کرے گا-
کیسا غلط اعتبار تھا میرا-
ارشد، ضمیر، شعیب اور میں نے 1977 کے درمیان ميں جدہ میں ایک ہی کمپنی میں کام شروع کیا-

ارشد کے ہاں رہائیش سے تقریبآ ڈیڑھ سال پہلے، 1978 کے آخرمیں جبکہ میری عمر ابھی بائیس 22 سال کی تھی- ایک چھبیس 26 سال کی عورت کںول نے ہمارے جدہ کے گھر آنا شروع کیا- جہاں کسی دوسرے ساتھی کی فیملی عارضی طور پہ آئی ہوئی تھی- کںول کو میں بھابھی کہتا تھا- لیکن وہ شوہر کے سامنے بھی مجھے صرف نام سے بے دھڑک بلاتی تھی - کںول کے 4 بچے تھے- سب سے بڑا پانچ 5 سال کا بیٹا تھا- اور تین چھوٹی بیٹیاں تھیں- کںول کا شوہر دانش ابھی اپنی فیملی کو پاکستان سے جدہ لایا تھا- اور ہمارے پڑوس میں آگیا تھا- کنول نے ہی دانش سے میری جان پہچان کرائی- جو کہ اس کا خالہ زاد بھی تھا- دانش سے میری واقفیت کے ایک ہفتہ بعد کی بات ہے، میں شعیب اور دانش بیٹھے ہوئے تھے- شعیب نے دانش کومذاق اڑانے کے انداذ میں ہنستے ہوئے میرے متعلق بتایا کہ جعفر ابھی تک کسی عورت سے لطف اندوز نہیں ہوا ہے- عجیب بات یہ ہوئی- جو کہ کچھ ہفتوں کے بعد مجھے کنول نے بتائی- کہ اس کے شوہر دانش نے اسی دن جاکر اپنی بیوی کنول سے اس بات کا ذکر کیا- کہ جعفر کو ابھی تک کسی عورت نے ایسے نہیں چھوا ہے- کںول کا صرف ایک ہی کمرے کا پیںتالیس 45 گز کا چھوٹا سا مکان ہمارے مکان سے جڑا ہوا تھا- کںول نے صرف تین ہفتے کی میل ملاقات کے بعد ہی مجھے ایک لو لیٹرلکھا- اس کے جواب میں جب میں نے اس کو کہا کہ مجھ سے بھائی کی طرح محبت کرلے تو وہ بولی کہ بکواس نہ کریں- اس کے دو مزید خطوں کے بعد جب میں اس کے گھر پر اس کو گروسری کا سامان پہہںچانے گیا- تو واپسی پر وہ دروازے پر میرا راستہ روک کرخود سپردگی کی حالت میں کھڑی ہو گئی- وہ اپنے نام کںول کی مناسبت سے سفید رنگ کی شلوار اور سفید ہی رنگ کی فراک پہنے ہوئی تھی- اورمیری معمولی سی مزاحمت کے بعد میں اسے کس کرنے پر آمادہ ہو گیا- یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا اور مجھے اپنے ہوںٹوں پر ایک گھنٹے تک خوشگوار میٹھی سوئیاں سی محسوس ہوتی رہیں- کنول نے اپنے دوسرے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ جب اس کا شوہر اسے کس کرتا ہے تو وہ آںکھیں بند کرکے یہ تصور کرتی ہے- جیسے میں اسے کس کررہا ہوں- کنول مجھ سے اصرار کرنے لگی کہ اسے کسی اور کے گھر اکیلے میں لے جاؤں- کچھ دنوں کے بعد وہ میرا ساتھیوں سے جھگڑا کروا کرمجھے اپنے گھر میں عارضی مدت کے لئے شفٹ کرانے میں کامیاب ہوگئی- کیوں کہ کمرہ ایک ہی تھا- سب زمین پر بچھے گدوں پر ہی سوتے تھے- اس کا شوہر دانش مجھے سوتا سمجھ کر کںول کے ساتھ ہمبستری کرلیتا تھا- دانش اندھیرے میں کنول پر پہلے کافی دیر تک اورل سیکس پرفارم کرتا تھا- جوکہ کںول کو بہت پسند تھا- کنول بتاتی تھی کہ وہ کبھی دانش کے منہ پراکڑوں بیٹھ جاتی تھی- تاکہ دانش کی زبان گہرائی تک پہںچ سکے- کنول دانش کے اورل سیکس پر تبصرہ کرتی تھی کہ اگر کوئی اورعورت ہوتی تو اس طرح دانش کے اورل سیکس کرنے پراس کے پیر دھو دھو کر پیتی- بعد میں دانش کے شاور میں جانے پر کنول میرے برابر میں آکر لیٹ جاتی تھی- میں ناراض ہوتا تھا اور وہ ہاتھ جوڑکرمعافیاں مانگتی تھی- مجھ پر نفسیاتی اثر یہ پڑا کہ کھانا کھانے کے دوران مجھے ابکائیاں آنے لگیں- اور کبھی بھوکے پیٹ اٹھ جانا پڑ جاتا- کںول اب آزادی سے میرے ساتھ سیکس پر باتیں کرنے لگی تھی- کنول نے بتایا کہ اس کا شوہر اسے بلیو فلم دکھا چکا ہے- اس نے بتایا کہ شادی سے پہلے اس کے شوہر کے تعلقات کسی اورعورت سے رہ چکے تھے- کنول نے یہ بھی بتایا کہ پہلے بھی کئی لڑکوں نے کنول سے دوستی کرنی چاہی- ایک دو دفعہ کنول نے یہ بھی کہا کہ وہ تصور کیا کرتی تھی- کہ کاش کبھی کوئی وڈیرہ کنول کو زبردستی بندوق کے زور پہ اغوا کرکے اپنے گھر لے جاتا- کنول نے بتایا کہ جب بھی کوئی اس کے افئیر کی جھوٹی افواہ اڑاتا ہے تو اس کے شوہر کی بستر کی محبت میں اضافہ ہو جاتا ہے- کنول کو اس کا شوہر ایک ایسی ہی افواہ کی وجہ سے اس دفعہ پاکستان سے جدہ لے آیا تھا- کنول نے ایک پاکٹ سائزڈائری دکھا کر اس میں سے کچھ عشقیہ اشعار پڑھ کر بتایا کہ یہ اس کے جیٹھ نے اس کی محبت میں لکھے ہیں- جس کا اس کے شوہر کو علم تھا- غیر شادی شدہ جیٹھ کا چارسال پہلے جوانی ہی میں انتقال ہو چکا تھا- کںول مجھ سے اصرارکرنے لگی کہ میں اس کی چھوٹی بہن سے شادی کرلوں- تاکہ ساری زندگی ہم جدا نہ ہوں- مجھے یہ بات کچھ اچھی نہیں لگی- دو ہفتوں کے بعد دانش اورکںول ہم تین دوسرے غیر شادی شدہ ساتھیوں کے ساتھ ایک تین بیڈ روم کے اپارٹمںٹ میں شفٹ ہوگئے- اس کو خوب فرنش کرلیا- اور ٹیلیفون بھی لگوالیا- اسی دوران میری جاب پوسٹںگ 7 گھنٹے دور کی جگہ پر ہوگئی- جہاں سے مجھے ہردو ہفتے بعد ایک دو دن کے لئے مین آفس جدہ آنا پڑتا تھا- اسی جدہ کے گھر میں ٹھیرتا تھا- اس بات کا کسی کو يقین نہیں آئے گا- کہ کنول مجھ سے اپنی محبت جتانے کے لئے مجھ سے کہتی تھی کہ وہ دعا کرتی ہے کہ اس کے چاروں بچے ایک ساتھ مرجائيں- تاکہ وہ مجھ سے شادی کرسکے- اگرچہ اس شدت کو دیکھ کر میں نے اسے ایک آدھ دفعہ تھپڑ بھی رسید کیا- مگر پھر اس کی محبت میں چاروں بچے قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا- کنول کہتی تھی کہ اس کی یہ شادی نہیں چلے گی- چاہے میں ہوں یا نہ ہوں- کنول نے جدہ میں اپنی ایک سہیلی کو بھی ہمارے افئیر کے متعلق رازدار بنالیا- اس نے اپنی دوست سے کہا کہ اس میں ہرج بھی کیا ہے- جبکہ وہ دانش کے ساتھ بیوی کے سارے فرائض پوری کرتی ہے- اس نے اپنی دوست کو ہںس کر بتایا کہ میں بڑی مشکل سے اس کے قابو میں آیا ہوں- میں کںول کے لیے ایک جیتی ہوئی ٹرافی بن گیا تھا- کںول مجھے اپنی جدہ کی نئی بنی دوستوں کی ان کے شوہروں کے ساتھ بیڈ روم کی کی رںگین کہانیاں سن کر مجھے بھی سنانے لگی- دوڈھائی ماہ بعد ہی ایک ساتھی نجم نے ہمیں گھر میں کس کرتے دیکھ لیا- اور ہمارے اس سلسلہ کو ختم کرنے پر کمربستہ ہوگیا- ایک ہفتہ کے بعد کںول نے مجھے بتایا کہ نجم نے اس کو کس کرنے کی کوشش کی ہے- میرے یقین نہ کرنے پر کنول نے چپ چاپ اس کا اعتراف اس کی آواز میں گھر کے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کرکے مجھے سنایا- لیکن نجم ساتھ میں کوئی مناسب سی وضاحت پھی کررہا تھا- کہ اس نے کنول کو غیرت دلانے کے لئے کس کرنے کی کوشش کی تھی- نجم کنول کو سمجھانے کی مہم پر لگ گیا اور سب کے سامنے کسی اور فرضی عورت کے افئیرکے متعلق سب کے درمیان باتیں کرنے لگا- کنول نے کہا کہ اب سب نجم پہ شک کریں گے- ایک روز کنول نے بتایا کہ دو دن پہلے نجم اس کو سمجھاتے ہوئے تقریبآ رونے سے لگا- کنول ہںس کر مجھ سے بولی- کہ اب کیا میں نجم کو دودھ پلاؤں- کنول اب نجم سے چڑ کر نجم کے سامنے میرے دوسرے شہر میں ہونے پر باربار یہ گانا ٹیپ ریکارڈر پر نجم کو سناتی تھی جب گھر پر کوئی اور نہیں ہوتا تھا- = ہائے ہائے یہ مجبوری، یہ موسم اور یہ دوری، مجھے پل پل ہے تڑپائے، تیری دو ٹکیا کی نوکری پہ میرا لاکھوں کا ساون جائے= آخرکار دو ہفتے کے بعد میری غیر موجودگی میں نجم نے بھانڈا پھوڑدیا- عشق اورمشک چھپائے نہیں چھپتے- ایسے معاملات کبھی بھی زیادہ دیر تک چھپے نہیں رہتے- کںول کے شوہر دانش نے باقی لوگوں سے پرزور تردید کی اور الٹا نجم کو مورد الزام ٹھیرا کر نجم کو گھر سے نکال دیا- میں توقع کررہا تھا کہ کںول دانش کو اپنی اورمیری محبت کا سچ بتادے گی- جیسا کہ وہ مجھ سے شدید محبت کی دعویدار تھی- لیکن وہ دانش سے جھوٹ بول کرکسی بھی تعلقات کا انکار کر گئی- غالبآ دانش کو یقین دلانے کے لئے جھوٹی قسمیں بھی کھائی ہوں گی- دانش نے مجھ سے بھی بات کرنی چاہی- کںول نے کسی سے کہہ کر مجھے گھر بلوایا- وہ انتہا ئی بولڈ عورت تھی- مگر میرے اندر ہمت نہیں تھی- کہ میں اس کے شوہر دانش کا سامنا کر سکوں- اس لئے میں نے اپنے دوست شعیب کو سارے معاملات سے آگاہ کرکے اپنا چھوٹا موٹا ضروری سامان شعیب کے ہاتھ اس گھر سے مںگوا لیا- فرنیچر چھوڑدیا- اور میں نے کوئی ایک درجن ساتھیوں سے قطع تعلق کرلیا- تاکہ ان کے سوالوں سے بچ سکوں- شعیب نے مجھ سے نجم کی باتیں سن کر میری حمایت میں غصہ میں کہا کہ کچھ غیر متعلق لوگ اپنے آپ کو فوجدارسمجھ کر "چ" کے پٹواری بن جاتے ہیں- میں نے شعیب سے نجم کے عجیب سے روئیے کے متعلق رائے لینی چاہی- تو شعیب نے کہا کہ نجم جیلس ہو گیا تھا- میرے دل میں شعیب کی محبت دوچند ہو گئی- کہ شعیب کو میری برائی سے کوئی غرض نہیں ہے- شعیب سے میری دوستی میں شدت ایک عورت ہی کی وجہہ سے آئی اور شعیب سے میری دوستی خراب بھی ایک عورت ہی کی وجہہ سے ہوئی- شعیب نے میری کنول سے شادی کی خواہش پرایک شدید لیکچر دیا- کہ جب سے دنیا بنی ہے- تب سے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جو عورت ایک بار ابنے شوہر سے بے وفائی کرے- وہ کسی اور سے وفاداری نبھائے- اسی دوران انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے دانش کی غیرموجودگی میں کنول کے گھرجاکرکںول کی آزمائش کرچکے تھے اوراندازہ لگایا تھا کہ کنول فلرٹ ٹائپ کی نہیں ہے- کچھ ماہ بعد دانش نے کنول اور بچوں کو زیادہ اخراجات کی وجہ سے مستقل پاکستان بھجوادیا اور خود مزید ایک سال دانش نے جدہ میں اکیلے ہی گزار ديا- پھر مستقل پاکستان چلا گیا- مگر میں دانش سے پھر کبھی نہیں ملا- کنول کے پاس میرے کراچی کے گھر کا فون نمبر تھا- اس نے کسی لڑکے کے ہاتھوں میرے گھر فون کرکرکے میرے کراچی پہںچنے کی تاریخ معلوم کی اور میرے کراچی چھٹیوں پر پہںچنے پراسی لڑکے کو میرے گھر پر بھیج کرپیغام دے کرملنا چاہا- وہ جوان لڑکا کسی فلمی ہیرو کی طرح بہت ہینڈسم اور لمبا چوڑا تھا- نئی 750 سی سی کی بھاری اور قیمتی موٹر سائیکل پر آیا تھا- کنول نے اگلے سال میرے پوچھنے پرکوئی افسوس ظاہر کئے بغیر سرسری طور سے بتایا- کہ اس لڑکے کو اس لڑکی کی ماں نے زہر دے کر مروادیا- جس لڑکی کے ساتھ وہ لڑکا شادی کرنا چاہتا تھا- بہرحال کنول نے میری والدہ سے ہمارے گھر پر ملاقات کرکے ہماری محبت ظاہر کرکے شادی کا ارادہ بتایا- میں نے اپنی والدہ کو ایک اور مجبوری بھی بتائی مگر انہوں نے اس کو میرا بہانہ سمجھا- میرے والدین نے کہہ دیا کہ اگر مجھے کںول سے شادی کرنی ہے تو پاکستان سے باہر ہی کرنا اور بیوی کو کبھی ان کے گھر نہ لاؤں- کںول نے مجھے ایک دفعہ یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ میں خواہ مخواہ میں احساس جرم کا شکار ہوں جبکہ ہر چھٹے ساتویں گھر میں شادی شدہ عورتوں کے افئینز چل رہے ہیں- مگر مجھے اس وقت یقین نہیں آیا- کںول اتنی بولڈ تھی کہ اس نے کوئی بہانہ کرکے پاکستان میں مجھے اپنے والدین سے اور اپنے بہن بھائی سے بھی ملوایا- میں نے دیکھا کہ اس کی بہن تو انتہائی خوبصورت لڑکی تھی- جیسے کوئی ماڈل- کنول نے کراچی میں مجھے اپنی کئی دوستوں سے بھی بے دھڑک ملوايا- کیوںکہ میں کںول کے لیے ایک جیتی ہوئی ٹرافی بن گیا تھا- میں نے بھی پاکستان میں کنول کو اپنے دو دوستوں سے ملوایا- ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ میری پاکستان میں غیر موجودگی میں انہی دو دوستوں میں سے ایک نے کںول پر ٹرائی مارنے کی کوشش کی اور مںہ کی کھائی- لوگ بے وفا عورتوں کو کٹی پتنگ ہی سمجھتے ہیں- بہرحال میں چھٹیوں میں چار دفعہ کراچی گیا تو کنول سے ملتا رہا- آخری دو چھٹیوں میں ملنے پر وہ اپنے شوہر دانش سے چھپ کر تھوری سی دیر کے لئے آتی تھی- اور بتاتی تھی کہ اب دانش کی کنول کے ہرجائی پن کے باوجود اس سے محبت بہت بڑھ گئی ہے- میں بیوقوفوں کی طرح کنول سے شادی کے لئے انتظار کرتا رہا- اپنی طرف سے کنول کی حوصلہ افزائی نہیں کی- بس چپ چاپ انتظارکیا- اور وہ مجھ سے دور ہوتی گئی- یہاں تک کہ نیلوفر کے کمال سے افئیرکے بعد جب مجھے زندگی کی حقیقتوں کا پتہ چلا- تو اس کے بعد میں صرف ایک دفعہ اور صرف 15 منٹ کے لیے کنول سے ملا- پھر کبھی نہیں ملا-

شعیب سے میری دوستی بہت گہری ہوتی چلی گئی- یہاں تک کہ میں انہیں ان کے تجربوں کی وجہہ سے اپنا ان داتا سمجھنے لگا- انہوں نے مجھے امریکہ کا خواب دیا- انہوں نے مجھے کھانا پکانا اور برتن دھونا سکھایا- کاڑی چلانے کے کجھ قوانین بتائے- کچھ ٹرکس سکھائیں- ان کا پسندیدہ پرفیوم آج بھی میرا پسندیدہ ہے- چائے میں ان کا دودھ کے بدلے کافی کریم کا استعمال میں آج تک کرتا ہوں- ان کی پسندیدہ کافی کا برانڈ مجھے آج تک پسند ہے- وہ جب اپنے ایک بہت پرانے پاکستان میں مقیم دوست کی تعریف کرتے تھے- تو میرا خون جلتا تھا- دوسرے شہر میں جاب ہونے پر جب جدہ آتا تھا- توان سے پوچھتا تھا- کہ میری غیر موجودگی میں انہوں نے اور دوست تو نہیں بنالئے- میرے سب ساتھیوں اور ارشد سمیت میرے سب دوستوں کو میری شعیب سے محبت کا علم تھا-
میں جدہ میں ارشد کے گھر 1980 کے بالکل شروع میں رہا ئش کے لئے پہںچا- تقریبآ تین سال آٹھ 8 ابریل 1983 تک رہا- جہاں تقريبآ تين سال ميں نے بہت محبتوں کے ساتھ گزارے- جہاں مونا اور ندا کے نام ان کی پيدائش کے وقت ارشد کے والد کے علاوہ ميں نے بھی تجويز کيے تھے- يہ نام پہلے سے ميری کزنز کے بھی تھے- شعيب ہی مجھے ارشد کے ہا ں لے کر آئے تھے- ہم نے ارشد کی بيوی کو وہاں پہلی دفعہ دیکھا جب ارشد نے ملوايا- نظرآرہا تھا کہ ارشد کچھ ہی ماہ ميں باپ بننے والا ہے- ارشد کے گھر سے باہر نکلنے کے بعد گاڑی ميں بيٹھ کر شعيب نے مجھے گھر ملنے پرمبارکباد د يتے ہوئے ارشد کی بيوی سے منسوب کرتے ہوۓ ايک انتہائی نا منا سب طنزيہ بات چپکادی- کہ مبارک ہو- یہاں بھی وہی کرنا جو اس سے پہلے کیا تھا- - - - - - - - - - شعیب کی یہ بات مجھے بہت بری لگی اور ميں نے گاڑی ميں ہی شعيب سے برا مان کر اس وقت تک اگلی بات نہيں کری جب تک شعيب نے معافی نہ ماںگ لی- مگر يہ بات ميرے دل و دماغ ميں جم کر بيٹھ گئی اور اس بات کے ڈ ر نے تين سال بعد خوف ميں مجھ سے غلط قدم اٹھوائے- اوراسی بات کے ڈرسے ميں پہلے دن سے ہی نيلوفر کو بھابھی کے بجائے باجی کہتا تھا- جبکہ نیلوفر مجھے جعفر بھائی کہتی تھی- کاش ميں اسی وقت ا س گھر کوملتوی کرکے کوئی اور گھر تلا ش کرتا- بعد میں میرے اور شعیب کے درمیان بات ہوئی کہ ارشد تو ہینڈسم اور پڑھا لکھا ہے- یہ کیسے اس نے معمولی شکل کی، کم پڑھی لکھی اور کمتر فیملی بیک گراؤںڈ کی عورت سے شادی کرلی- ( آگیا دل گدھی پہ تو پری کیا ہے)- واضع ہوا کہ لاڑکانہ کے اس للّۖو کو جب پہلی بارشادی سے پہلے چوما چاٹی کا موقع ملا تو وہ اسی کو اپنی ساری دنیا سمجھ بیٹھا- اور اپنے والد کی مزاحمت پر شادی کے لئے خودکشی تک کی دھمکی دے ڈالی- اس زمانے میں پاکستان میں دیکھا گیا کہ ان معمولی شکل و صورت کی لڑکیوں کی بھی اچھی جگہ شادی ہوجاتی تھی جو کہ شاطر ہوتی تھیں اورخود لڑکے پھاںس لیتی تھیں- جبکہ خوبصورت لڑکیاں جوشریف اورماں باپ کی فرماں بردار ہوتی تھيں- رشتہ کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی تھیں- اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا ہے-
ارشد اوراس کی بیوی اس سے پہلے کسی اور گھر میں سلیم، ڈڈن اور کزن زاہد کے ساتھ کئی مہینے رہے تھے- اسی دوران ڈڈن کے والد بھی جدہ آئے تھے- میں سلیم اور ڈڈن سے ارشد کے ہاں رہائیش کے دوران کبھی واقف نہ ہوا کیوںکہ ارشد اور زاہد نے سلیم اور ڈڈن سے تعلقات منقطع ہونے کی وجہ سے کبھی بھی ان کا ذکر تک نہیں کیا- البتہ یونس کی فیملی اور گجراںوالہ سے جدہ آئے ہوئے ملک سرفراز سے کبھی کبھی ارشد کے گھر پہ ملاقات ہو جاتی تھی اور کبھی کبھی ياسین کا ذکر یہ لوگ کرلیتے تھے- یہ سب لوگ آپس میں پاکستان سے واقف کار تھے اور تقریبآ ایک ہی وقت میں آگے پیچھے جدہ کام کرنے پہںچے تھے- سلیم کو سعودی عرب ائیرلائںز میں جاب مل گئی تھی-
میں شعیب ڈار، ضمیرشاہ (فرضی نام) اور ارشد قدوسی ہم چاروں واقف کار تھے- سعودی عرب میں پہلی ملازمت ہم چاروں نے ایک ہی کمپنی میں جون 1977 سے شروع کی تھی- وہیں پر میری ارشد سے واجبی سی واقفیت ہوئی- تقریبآ دس ماہ کے بعد ہم چاروں مختلف کمپنیوں میں چلے گئے تھے اور میں دوسرے شہر چلا گیا تھا- ارشد کی اگلی کمپنی کا نام مافر تھا اور اس نے اس درمیان میں اکیس بائیس 21/22 سال کی عمر میں ہی شادی کرلی تھی- مجھے رہائش کی اور ملازمت کی تلاش تھی اورارشد کو کرایہ دار کی- مجھے شعیب 1980 کے شروع میں ا رشد کے ہاں لے کر آئے- یہ دو کمروں اورایک باتھ روم کا نوے 90 گز کا چھوٹا سا گھر تھا- ایک بڑے کمرے میں ارشد اپنی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا جس کو میں نے نقشہ میں ماسٹر بیڈ روم لکھا ہے اور چھوٹے کمرے میں ارشد کا خوبصورت کزن برادر زاہد رہ رہا تھا جس کو میں نے بیڈ روم ٹو 2 لکھا ہے- میں اور زاہد ساتھ میں روم میٹ بن گئے- نیلوفر زاہد کو زاہد بھائی کہتی تھی- زاہد نے بہاولپورمیں کافی وقت گزارا تھا- زاہد کے بڑے بھائی ہاتف نے کبھی سعودی عرب میں جاب نہیں کی- زاہد ہم سولہ سترہ 17/16 جاننے والوں میں واحد باقاعدہ نمازی بندہ تھا- زاہد جدہ میں زاہد ٹریکٹرز میں جاب کررہا تھا- کچھ ہی ماہ کے پعد زاہد نے شادی کرلی اور الگ گھر میں چلا گیا- شعیب نے 1984 میں شادی کی اور مجھے یہ سعادت 1987 میں حاصل ہوئی-

تقریبآ تین سال اس گھر میں ارشد کی فیملی کے ساتھ گزارے
میری اکیس 21 سال کی عمر تک کسی دوست نے کبھی بھی مجھ سے زنا کرنے کا اعتراف نہیں کیا تھا- ضمیرشاہ (فرضی نام) پہلا دوست تھا جو عورتوں سے اپنے جنسی تجربات کا سب کے سامنے اکثر فخریہ ذکر کیا کرتا تھا- وہ اپنے آپ کو ایک پلے بوائے ظاہر کرتا تھا- اس نے سب سے پہلے یہ کام چودہ 14 سال کی عمر میں ایک لڑکی کے ساتھ سنیما ہاؤس کے باکس میں کیا تھا- ضمیر نے اسلامی سزا کی چار 4 گواہوں والی شرط بتا کریہ تک کہا کہ ہمیں پیدا کرنے والے کو پتہ تھا- کہ اس گناہ سے بچا نہیں جاسکتا ہے- اس لئے زنا کی سزا کے ثبوت کے لئے اتنی تقریبآ نا ممکن کڑی شرط رکھی ہے- ضمیر کا یہ جواز گمراہ کن تھا- ضمیرشاہ کے کچھ جنسی تجربے اور فتوحات ادھر مذکورہیں- فلاح جان عرف فلّو Fallu جومحلہ میں اس کے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا- اس کی ماں کے ساتھ زنا کیا- ضمیر نے فخریہ بتایا کہ اس نے راجہ اندر کی طرح ایک ساتھ دو لڑکیوں کے ساتھ کیا- جو کہ فیملی پلاننگ میں کام کرتی تھیں- ان لڑکیوں نے ضمیرشاہ پر اورل سیکس بھی کیا- ایک آوارہ عورت کو صرف ایک روپیہ دے کر یہ کام کرلیا- اور اس عورت نے کہا کہ پانی کڈ چھڈے آ- (ان دنوں میں آپ ایک روپیے سے صرف ایک کون آئس کریم ہی خرید سکتے تھے)- ضمیر نے ایک بیہودہ بڈھے کے مںہ میں بھی اپنے آپ کو فارغ کیا- کالج کی کئی لڑکیاں بھی بیچلرہاؤس میں آجاتی تھیں- ضمیرشاہ کے دوست بھی کبھی ساتھ میں شامل ہو جاتے تھے- اگر ایک دوست زنا کرتا تھا تو دوسرا دوست کی ہول سے جھانک کر مزہ لیتا تھا- ضمیر شاہ پاکستان چھٹی پرگیا- تو جب یہ کام ایک بری عورت کے ساتھ کررہا تھا- تو اس کے دوست نے جو اسی کمرے میں برابر کے بیڈ پر سورہا تھا، صبح اٹھ کر کہا- کہ یار ساری رات تمھارا کمبل ہلتا رہا ہے- جب کچھ لڑکوں کوایک لڑکی کوسژک پر چھیژتے ہوئے پایا- تو ضمیر نے اس لڑکی شاہدہ کو اپنے اسکوٹر پر بٹھا کر اس کے گھر چھوڑکر اس کی عزت بچائی- بعد میں اسی لڑکی شاہدہ کو اگلی ملاقات ہی میں آمادہ کرکے اپنا کام کرلیا- دوسروں سے عزت بچائی اور خود عزت لوٹ لی- پھر بعد کے دنوں میں شاہدہ ضمیرشاہ کے دوستوں میں بھی تقسیم ہوئی- شاہدہ کی شادی کے بعد بھی ضمیر کی جستجواس کے لئے رہی- شاہدہ مذہب کے معاملے میں بھی کافی ریگولر تھی- ضمیر نے جب پاکستان چھوڑا تو ائیرپورٹ پر الوداع کہتے ہوئے شاہدہ بلک بلک کر روتی رہی- ضمیر نے مجھ سے کہا کہ جعفر اگر تم میری جگہ ہوتے توشاہدہ کا رونا دیکھ کر جذباتی ہو کر تم اس سے شادی کر لیتے- یہ ذکر بھی ہوا کہ ایک مختلف لڑکوں کے ساتھ سیکس کی شوقین لڑکی نے تو ہنس ہںس کر فخریہ بتایا- کہ اس سمیت کچھ لڑکیاں جب تک کم از کم سات گھوڑوں کی سلامی نہ لے لیں، اور ہرگھوڑا سلیوٹ نہ کرلے، وہ زندگی سے مطمئین نہیں ہو پاتیں- چاہے اس وجہ سے بدنامی بھی ہورہی ہو= (ہم پہ الزام تو ایسے بھی ہے، ویسے بھی سہی - نام بدنام تو ایسے بھی ہے، ویسے بھی سہی) = ضمیرسے واقفیت ہونے کے دوسال بعد اس کے عورتوں میں مقبولیت کے قصے جب اس کا نام بتائے بغیرمیں نے ایک سعودی صحرائی دوست کو سنائے تو اس نے بھی رشک کیا- ضمیرشاہ کوامریکہ سے بھی اس وجہہ سے بھاگنا پڑا تھا- کہ وہ دو لڑکیوں سے ایک ہی وقت میں فلرٹ کررہا تھا- اور جب دونوں کو پتہ چل گیا اور ضمیر کوان سے امیگریشن والوں کو رپورٹ کرنے کی دھمکی ملی- تو ضمیر کو غیر قانونی رہنے کی وجہہ سے امریکہ سے بھاگنا پڑا- شعیب کی ضمیرشاہ سے دوستی امریکہ ہی میں ہوئی تھی- اور وہیں دونوں نے سعودی عرب آنے کے لئے ساتھ میں پلاننگ کی تھی- اوپرلکھی ہوئی باتوں میں سے بہت سی باتوں کا علم ارشد کو بھی تھا- میں سوچتا تھا کہ اگرضمیر جیسے لوگ صرف دو کںواری لڑکیوں کو بھی چالو کرلیتے ہوں- اور وہ دو لڑکیاں تین تین لڑکوں کو بھی لائین پر لگا لیتی ہوں- پھر وہ چھ لڑکے مزید بارہ شریف لڑکیوں کو خراب کرلیں تو یہ بڑی تعداد بنتی ہے- دیے سے دیا جلتا ہے- میں ڈرتا تھا کہ جب ایسی کوئی لڑکی جب شادی کرے گی تو جس کے حصہ میں آئے گی- تو اس کا شوہر یا تو بے وقوف بنے گا یا مجبورآ گزارا کرے گا- ایک مسئلہ یہ ذہن میں آتا تھا کہ اگر کوئی شریف لڑکا پہلے سے تجربہ کار نہیں ہے تو ایسی لڑکی کو پہچان نہیں سکتا- اور اگرکوئی لڑکا پہلے تجربہ کرچکا ہو تو اس کو کوئی حق نہیں پہںچتا کہ شادی سے پہلے تجربہ کرچکنے والی بیوی پر اںگلیاں اٹھائے- زاہد نے رائے دی- کہ بہتر یہی ہے کہ شادی کے بعد کسی ذہنی تکلیف سے بچنے کے لئے بیوی سے اس کے ماضی کے بارے میں کرید نہ کی جائے-
لیکن ضمیرشاہ ایک بے حد مدد کرنے والا دوست تھا- ارشد کے ہاں اس کا بلا کھٹکے بے حد آنا جانا تھا- مجھے، شعیب اور ارشد کو ضمیرشاہ سے بہت محبت ہو گئی تھی- اور جس سے محبت ہو- اس کے سارے عیب غائب ہو جاتے ہیں- ارشد تو ضمیر سے یہ تک کہہ چکا تھا کہ شاید ہم اپنے بچوں کی شادیاں آپس میں کردیں- تاکہ ہماری دوستی اور مضبوط ہوجائے- بعد کے واقعات سے اندازہ ہوا کہ یہ بہترین رشتہ ہوتا- کیوںکہ دلہن کی ماں اور دولہا کے باپ کی کچھ عادتیں ملتی جلتی ہوتیں- جیسے بیک وقت دو دو کے ساتھ فلرٹ کرنا- اتفاق سے دونوں کی ماؤں کو بھی اپنی اولادوں کی عشقیہ حرکتوں کا پتہ تھا- افسوس ارشد کا اور ضمیر کا ساتھ چھوٹ گیا اور رشتہ داری نہیں ہو سکی-
ضمیر کی مندرجہ ذیل باتوں کا ارشد کوعلم نہیں تھا- ضمیرشاہ اور اس کی مںگیتر ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے- ضمیر کا وہاں پر ایک لڑکی اولگا ڈی سوزا سے بھی چکر چل گیا- ضمیر کو اس کی مںگیتر نے اولگا کے ساتھ دیکھ لیا تو وہیں ضمیر پر غصہ ہوئی- بعد میں بڑی مشکل سے جھوٹ بول کر ضمیر اپنی منگنی بچا سکا- اور اولگا کو الگ طریقہ سے بات بنا کر مطمئین کرسکا- ضمیر شاہ اور نیلوفر کی کچھ عادتیں بہت ملتی جلتی تھیں- جیسے بیک وقت دو دو سے عشق لڑانا- شعیب نے ایک دفعہ مجھے ضمیر شاہ کے متعلق بتایا- کہ کچھ دن پہلے ضمیر نے انتہائی دکھ کے ساتھ شعیب سے ذکرکیا- "کہ ایک دفغہ ضمیراپنے گھرمیں ہی کسی لڑکی کے ساتھ غلط کام میں مشغول تھا- کیونکہ گھرمیں کوئی اورنہیں تھا- کہ اچانک ضمیر کی ماں غیرمتوقع طور پر جلدی گھر میں آگئیں اور ضمیر کو برا کام کرتے دیکھ لیا- ضمیرشاہ کو انتہائی شرمندگی اٹھانی پڑی"- (عجیب بات یہ ہے کہ اپنی ماں کے سامنے زنا کا آشکارا ہوجانے والے لوگ اپنے گریبان میں جھاںکے بغیر دوسروں کو شرافت کا درس بھی دے جاتے ہیں)-
ضمیرشاہ کی ایک اورغلط بات یہ بھی تھی کہ وہ دوسروں کی رازکی باتیں مجھے بتا جاتا تھا- مثلآ پاکستان میں اسکا ایک انتہائی گہرا دوست لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں سے بھی برا فعل کر جاتا تھا- یا بھر ضمیرشاہ کا ایک بڑا بھائی جو ابھی ہائی اسکول ہی میں تھا- سڑک پر ایک لڑکی کے ساتھ بوس و کنارکرتا ہوا پکڑا گیا- پولیس کیس بھی بن گیا- تو اس کے ٹیچرنے اس کے نیک اور محترم والد شاہ صاحب کی عزت میں کہا- کہ شاہ کے جتنے انڈے، سب کے سب گندے- شاید ضمیر یہ سمجھتا تھا کہ اس کا زنا حلال ہے- باقیوں کا بدکاری- ضمیر کے ایک اور بڑے بھائی نے جب محلہ کے ایک لڑکے کوکسی لڑکی کو چھیڑنے پر برا بھلا کہا- تو اس لڑکے نے جواب میں غصہ میں کہا کہ ابے یہ تیری کون لگتی ہے- بھائی نے جذباتی ہوکر اس لڑکی ہی سے شادی کرلی-
ضمیرشاہ کی باتیں کافی دفغہ سیکس پر شروع ہوتی تھیں اور سیکس پر ہی ختم ہوتی تھیں- ہمارے جب ایک انجینئرنوست کا بیڈ ٹوٹنے پرضمیر نے رپیئرکرایا- توہمیں ہںستے ہوئے بتایا- کہ اپنی بیوی کو زور سے دھکے مارنے پر بیڈ ٹوٹا ہوگا- حد تو یہ ہے کہ ایک دوست نے جب فرنچ کٹ داڑھی رکھ لی- تو ضمیر نے کہا- کہ جب وہ اپنی بیوی کو وہاں رانوں کے درمیان میں چاٹتا ہوگا تو اس کی بیوی کوداڑھی کی وجہہ سے وہاں پربہت گدگدی ہوتی ہوگی-

ارشد کے والد جولائی 1980 ميں رمضانوں ميں جدہ آئے- ہم دوست مل کر ان کے ساتھ اکثر تاش کھيلا کرتے تھے- مونا کی پيدائش تیرہ 13 اگست 1980 کو ہوئی- ارشد کے والد مولانا رشید گںگوہی کے بہت معتقد تھے- بیٹوں کے نام ارشد اور راشد اسی لئے رکھے تھے- اگر اور بیٹے ہوتے تو ان کے نام رشید، مرشد، رشدی اور ارشاد اور لڑکیوں کے نام رشیدہ ، راشدہ رکھ سکتے تھے- جب ارشد کے والد اپنا حج کا پروگرام اچانک چھوڑ کر حج کيے بغيراکتوبر 1980 کے وسط ميں حج سے صرف چار پانچ دن پہلے اچانک پاکستان واپس چلے گۓ تو سب کو بڑی حيرت ہوئی- ايک ساتھی ضمير(فرضی نام) نے تو يہ تک مجہے مذاق ميں کہا- کہ ان کو گرل فرينڈ سے دوری برداشت نہ ہو سکی ہوگی- ٹچو لگانا چاہا ہوگا- ميں نے کہا- شرم کرو- وہ اس عمرميں کچھ نہيں کرسکتے- تو ضمیر نے ہںس کر جواب ديا کہ چژا بھی تو چژی پہ چژھ کر جلدی سے ٹچو لگا ليتا ہے-
نیلوفر نے ایک دفعہ باتوں باتوں میں ارشد کے سامنے ہی بتایا- کہ اس کی ایک گہری دوست کزن نے حیرانگی سے پوچھا- کہ تم نے ارشد میں کیا دیکھ کراس سے شادی کی- زاہد کے شادی کرنے پر دوسرے گھر میں چلے جانے کے بعد ارشد کو تین چار دفعہ اپنی جاب کی طرف سے گھر چھوڑ کر دوسرے شہر جانا پڑا- میں اور ارشد کی بیوی رات کو گھر میں اکیلے ہوتے تھے- کبھی ایک رات اور کبھی دو راتیں- شعیب کو اور دوسرے لوگوں کو بھی پتہ چلتا تھا کہ ارشد شہر کے باہر گیا ہوا ہے- میں ہلکی سی شرمندگی کی وجہ سے شام کا زیادہ سے زیادہ وقت رات گئے تک گھر سے باہر شعیب کے ہاں گزار دیتا تھا- بہرحال اسی بات پر ایک دفعہ ارشد نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے زیادہ اپنی بیوی پر ٹرسٹ کرتا ہوں- حالاںک اس گھر میں میرے آنے سے پہلے سلیم اور ڈ ڈ ن کا نیلوفر کے ساتھ اسکینڈ ل ارشد کے علم میں آچکا تھا- جس کا مجہے اس وقت تک علم نہیں تھا-
نومبر 1980 ميں ارشد ، نيلوفر اور ارشد کے چھوٹے بھائی راشد نے ميری بہن کی کراچی ميں شادی ميں شرکت کی- ميں نے ان سب کا تعارف اپنے گھر والوں سے کرايا- نیلوفر نے میرے ساتھ فوٹوگرافر سے فوٹوگراف بھی کھںچوائے- تقريبآ سات سو لوگ تقريب ميں شرکت کے لئے شادی ہال ميں آئے تھے- ارشد اور راشد آپس میں بہت بے تکلف تھے- ان دنوں ميں دونوں بھائی آپس ميں لڑکيوں کی باتيں بھی بلا تکلف دوستوں کی طرح کر ليا کرتے تھے- ارشد اور راشد نے مجھے آپس میں اس بے تکلفی کا مظاہرہ کرکے دکھایا- کوئی ڈیڑھ سال بعد ارشد نے مجھے بتایا کہ راشد نے جوابھی کالج میں تھا ارشد سے ایک موٹرسائیکل خرید کر اسے دینے کی فرمائیش کی ہے- جس پرارشد نے راشد کو منع کرتے ہوئے کہا کہ جب خود کمانے لگو تو اپنے پیسوں سے خود خرید لینا- ارشد سعودی عرب آنے سے پہلے پاکستان میں خود کبھی کوئی موٹرسائیکل نہیں رکھ سکا تھا- کوئی بیس بائس سال بعد ارشد قدوسی نے بتایا- کہ اب راشد اللہ والا ہو گیا ہے- (راشد جمیل پیرزادہ)-
دسمبر 1980 ميں ارشد اپنی فیملی کے ساتتھ تقريبآ 6 ماہ کے لئے اپنی کمپنی مافرکی طرف سے خميس مشيط چلا گيا- اسی گھر ميں عارضی طور پر ضمير نے، ضمير کے چھوٹے بھائی صداقت نے اور ميرے کمرے ميں سکندر نے پڑاؤ ڈال ليا- ليکن جب جون 1981 ميں ارشد واپس آگيا تو ميرے سوا سب لژکے دوسری جگہوں پر منتقل ہو گئے- اسی 6 ماہ کے دوران صداقت کا سعودی پڑوسی کی لڑکی سے معمولی سا چکرچل گيا- بس مین دروازے پر ہی کھڑے ہوکے باتیں ہوتی تھیں- ايک دفعہ صداقت پڑوسی کے دروازے کے باہر رات کر گيارہ بجے کھڑا تھا- دور کی گلی ميں پوليس کار کی جھلک ديکھ کر بھاگا- مگر پولیس والا شک کی بنا پرصداقت کو پکڑکر لے گيا- بڑے بھائی ضميرشاہ نے کوشش کرکے تين دن کے بعد حوالات سے نکلواليا- ميں نے اور سکندر نے فيصلہ کرليا کہ بڑے بھاںی کو کبھی نہيں بتائيں گے کہ صداقت کا چکرپڑوس کی لژکی کے ساتھ چل رہا تھا- اور وہ وہاں سے پھاگتے ہوئے پکڑا گيا تھا-
اس دوران میں، ارشد اور ارشد کی فیملی آپس ميں بہت قريب آگئے اور آپس کی محبتوں کی وجہ سے یہ سب بھول گئے- کہ کون کیسا ہے یا کہاں سے آیا ہے- مونا نے پہلی دفعہ میرے کمرے ہی میں میرے اور ارشد کے درمیان قدم اٹھائے اور ہم دونوں ہی خوشی کے مارے کھلکھلا کر ہںس پڑے-
ایک دفعہ میں رات گئے بہت دیر سے گھرپہنچا- دوستوں کے ساتھ بیٹھ گیا تھا- تو خلاف توقع ارشد اور نیلوفر کواپنے انتظار میں جاگتے ہوئے پایا- ارشد میرے اوپر شدید غصہ ہوا اور میرے اوپرچیخا کہ بتا کر جانا تھا کہ دیرسے آؤگے- تاکہ وہ دونوں پریشان نہ ہوتے- ارشد چیخ رہا تھا- اور میں دل ہی دل میں بہت خوش ہورہا تھا- کہ اس کو میری اتنی فکر ہے- مجھے بڑا احساس تحفظ ہوا-
میں ارشد کو اس کے ڈیل ڈول کی مناسبت سے مذاق میں کبھی کبھی گھوڑا کہہ دیا کرتا تھا- مجھے ہںسی آئی جب نیلوفر نے بھی ایک دو دفعہ اپنے آپ کو ہںستے ہوئے گھوڑی کہا- ہم آپس میں کافی بے تکلف ہوچکے تھے- میں، ارشد اور نیلوفر اکثر شام میں ارشد کے ہی کمرے میں ثی وی پروگرام اور وی، سی، آر پرانڈین فلمیں دیکھا کرتے تھے- (فلور پلان دیکھیں)-
نيلوفر کے سگے والد سعودی عرب ميں ہی کام کرتے تھے ليکن انہوں نے اس دوران ميں کبھی بھی نيلوفر سے ملنے يا فون کرنے کی زحمت نہيں کی- وہ نيلوفر کی ماں کو بہت پہلے طلاق دے چکے تھے- ارشد کی والدہ کوبھی ارشد کے والد ارشد کے بچپن ميں ہی طلاق دے چکے تھے- ارشد کی شادی پر ارشد کی والدہ تشريف لائيں ليکن ارشد نے ان کو معاف نہيں کيا اور وہ شادی کے دوران صد مے سے بيہوش ہو گئيں- بہرحال ارشد اپنی بیوی نیلوفر کے شادی کے بعد کے بار بار دوسرے لڑکوں سے افئیرز پر اس کو بار بار معاف کرتا رہا- لیکن اپنی ماں کو کبھی مکمل طور سے دل سے معاف نہیں کرسکا- نیلوفر کی ایک سوتیلی بہن سیما تھی جو نیلوفر سے آٹھ نو سال چھوٹی تھی- اور ایک نیلوفر سے سولہ سترہ 16/17 سال چھوٹا سوتیلا بھائی بھی تھا- جو کہ ذہنی طور سے معذور تھا-
ميرے اس وقت کے بیس اکیس 20/21 دوستوں ميں سے تقریبآ سب ہی کے عشقیہ افئیرز چل چکے تھے- صرف دو 2 دوست ہی ايسے تھے جن کی اگر کسی لڑکی کی طرف غلطی سے بھی نظر پڑجاتی تھی تو وہ نظريں ہٹا ليتے تھے- ان ميں ايک ارشد تھا- غير عورتوں سے بالکل لا تعلق- اس کے علاوہ ميں سمجھتا تھا کہ نيلوفر بہت شریف اور معصوم عورت ہے- ميں نیلوفر کا بہت احترام بھی کرتا تھا- اس حد تک کہ ایک دفعہ ارشد نے مجھے بے تکلف دوستانے کی وجہ سے ایک فوٹوگراف دکھایا- زنانہ عروسی کپڑے پھولوں کے درمیان بستر پر پڑے ہوئے تھے- ارشد بولا کہ یہ اس کی شادی کی رات کی یادگاری فوٹوگراف ہے- جب وہ اپنی بیوی کے کپڑے اتار چکا تھا- ميں کچھ نہیں بولا مگرمجھے برا لگا کيوںکہ میرے دل میں اس کی بیوی کا بہت احترام تھا- پھر تقریبآ انہی دنوں میں ہمارے ایک اور بے حد بےتکلف دوست ضمیر شاہ (فرضی نام) نے میرے اور ارشد کے سامنے اپنے مںہ کے اندرانگلی ڈال کر ایک جھٹکے سے انگلی باہر نکال کربوتل سے کارک اکھاڑنے کی آواز زور سے نکالی اور ہںس کرمذاق میں بولا کہ جب کسی لڑکی کی سیل پہلی دفعہ کھولی جاتی ہے تو ایسی آواز آتی ہے- پھر ضمیر نے ہںس کر ارشد سے پوچھا کہ کيا شادی کی رات تمہيں یہ آواز آئی تھی- تو ارشد نے بھی برا مانے بغیر ہںس کر جواب دیا کہ ہاں بڑے سے زور یہ آواز آئی تھی- اس وقت مجھے ضمیر پر بے حد غصہ آیا کيوںکہ میرے دل میں ارشد کی بیوی کا بہت احترام بڑھ گیا تھا- اور میں نے سوچا کہ ضمیر کی شادی پر بدلہ لینے کے لئے یہی سوال میں ضمیر سے بھی پوچھوں گا- لیکن ضمیر شاہ سے میرے تعلقات 1983 ہی میں نیلوفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے-
= دکھا دکھا کے محبت، جتا جتا کے خلوص- بہت قریب سے لوٹا ہے دوستوں نے مجھے=
نیلوفر نے مجھ سے کئی دفعہ یہ بھی کہا کہ ہمارے گھر میں ارشد کے کئی دوست آکربحیثیت کرایہ دار ساتھ میں رہ چکے ہیں- لیکن سب سے اچھے دو ہی تھے- ایک آپ اور دوسرے زاہد بھائی- ارشد کے خاندان سے مجھے بہت محبت ہو گئی تھی- ارشد کا گھرميرے لئے ايک گوشہ عافيت اختيار کرگيا تھا- يہ گھر ميرے لئے مسجد بھی تھا اور حرم بھی-
ميں نے اپنے ايک دوست کی امريکہ منتقل کرانے کی پيشکش ٹھکرادی کہ گھر چھوڑ کر کيوں جاؤں- ایک دفعہ سعودی عرب ميں ہی ايک دوسرے شہر کی زيادہ تنخواہ والی ملازمت ٹھکرادی-
زاہد شادی کے فورآ بعد اپنی بیوی کا ارشد تک سے پردہ کرایا کرتا تھا- جس پر ارشد کو کبھی کبھی زاہد پر غصہ بھی آیا کرتا تھا- جس کا اظہار وہ مجھ سے اور اپنی بیوی سے بھی کرلیا کرتا تھا-
اکتوبر 1981 ميں ميں يونان دو ہفتے کے لئے تفريحی ٹوؤر پر گيا اور سات 7 دن کا چار ملکوں کے لئے کروزشپ لے ليآ- وہيں شپ پر ايک خوبصورت امريکن گوری لڑکی سے دوستی بھی ہو گئی- سات دن کے بعد بندرگاہ پر اتر کر اس گوری نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں اگلے پاںچ دنوں کے لئے مجھے ساتھ رہنے کی پیشکش کی- لیکن میں نے اس کو کںول سے بے وفائی سمجھا اور منع کردیا- اس امریکن لڑکی نے 1986 ميں ميری اميگريشن ميں بھی بہت مد د کی- ارشد نے اس لڑکی کے ساتھ میرے فوٹو دیکھ کر اس دوستی پرخوشی کا اظہار کيآ- لیکن فوٹو دیکھ کر جب نیلوفر نے اسے موٹی بھیںس کا خطاب دیا- تو ارشد نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم کیوں جیلس ہورہی ہو- میں نے سوچا کہ نندیں اکثر بھابھیوں سے جلتی ہیں-
ایک دفعہ جب ارشد اورنیلوفر اپنے نئے شادی شدہ دوست نسرین کے ہاں سے ہوکر آئے- تونیلوفران کے ہاں کے نئے فرنیچراور سجے ہوئے گھرکا ذکر کرکے جیلس ہوکرہذیانی اندازمیں پاگلوں کی طرح ہںسنے لگی- تو ارشد کھسیانا سا ہو گیا-
اسی دوران ایک دن ارشد نے مجھے بتايا کہ اس کو ميرے پچھلے ساتھيوں ميں سے (جن سے ميں اب نہيں ملتا تھا) کسی ايک نے ميری چار بچوں کی ماں کںول کے ساتھ ميرے تين سال پرانے لو افئيرکے متعلق بتا ديا ہے- ارشد نے کہا مجھے پتہ ہے کہ اس ميں تمھاری غلطی نہيں تھی- ارشد نے مزيد کہا کہ اگرميں اس عورت کا شوہر ہوتا تو اس کو طلاق دے ديتا- (انسان کو بڑا بول کبھی نہيں بولنا چاھيے- بعد میں ارشد کو کنول کے شوہر کی بہ نسبت اپنی بیوی نیلوفر کے افئیرز کے متعلق بیس گنا زیادہ علم ہوا اور ارشد نے نیلوفر سے شادی برقرار رکھی)- مجھے شعیب پہ شک ہوا کہ شاید شعیب نے ارشد کو بتادیا- لیکن دو سال کے بعد طائف میں شعیب کے سامنے ارشد نے خود بتایا- کہ اس نے میرے کمرے ميں رکھے ہوئے بریف کیس کے نمبروں والے دونوں تالوں کے نمبروں کو کسی طرح سے ٹریس کرتے ہوئے بریف کیس کو کھول کر میرے اور کںول کے درميان لکھے گئے محبت بھرے چٹ پٹے دو درجن خطوط کو تفصيل سے پڑھ لیا تھا- وجہہ یہ بتائی کہ میرے کردار کا پتہ چل سکے- (بہت خوب- میرے ارشد کے ساتھ دو سال رہنے کے بعد اس کوکھوج لگانے کا ہوش ہوا)- کاش ارشد اس وقت مجھے گھر سے جانے کا بول دیتا- تو مجھے شکایت بھی نہ ہوتی اور آگے آنے والے میری شخصیت کو مسخ کرنے والے معاملات سے میں بچ بھی جاتا-
ارشد کے ساتھ ایک دفعہ گفتگو کے دوران شادی اور محبت کے سلسلے میں بات ہو رہی تھی- تو ہم دونوں اس بات پہ متفق ہوئے- کہ محبت، سیکس اور شادی تین مختلف معاملے ہیں اور ضروری نہیں کہ ایک ہی شخص میں یہ ساری چیزیں مل جائیں- محبت ایک پوشیدہ جذبہ ہے- اور ایک سے زیادہ لوگوں سے ہوسکتی ہے- سیکس ایک حیوانی جذبہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ بیوی ہر خواہش پوری نہ کرسکے- ورنہ شادی شدہ لوگ رنڈیوں کے پاس کیوں جاتے ہیں- اور شادی ایک سماجی معاملہ ہے اور ذمہ داری بھی ہے- کس کو پتہ تھا کہ ہمیں ڈیڑھ سال کے بعد اس بات کا تجربہ بھی ہوجائے گا- جب خود ارشد کی بیوی یہ بات ثابت کردے گی کہ کچھ عورتيں بھی یہی یقین رکھ سکتی ہیں-
ارشد نے ایک لطیفہ ایک ایسی بیوی کا سنایا جو بہت شہوت پرست تھی- اور اکثر جب بھی سیکس کی خواہش دوسرے لوگوں کے سامنے کوڈ الفاظ میں کرتی تھی تو اپنے خاوند سے کہتی تھی کہ مجھے ڈراؤ- جب یہ بہت کثرت سے بار بارہونے لگا- تو ایک دن شوہر نے تنگ آکربجائے سیکس کرنے کے ہاؤ کرکے اسے ڈرا دیا- بعد میں پیچھے مڑکردیکھنے پریہ مجھے خود ارشد کی اپنی کہانی لگی-
نومبر 1981 ميں ہمارے گھر ميں فون لگ گيا– دسمبر ميں ميری اپنی لاپرواہی کی وجہہ سے میری جاب چھوٹ گئی تو جنوری 1982 ميں ميں نے کاروبار کی ٹھانی- میں نے خاندانی نسخہ سے حقہ کی تمباکو بنواکر پاکستان سے والد کی معرفت جدہ امپورٹ کی- ساتھ میں جدہ ہی میں دو اور افراد کے ساتھ پارٹنرشپ میں کنسٹرکشن کی کمپنی بنالی- جو کہ دو قسم کے کاروباروں کو ایک ہی وقت میں شروع کرنا ایک بڑی غلطی تھی- جس کا خمیازہ بھی مجھے بھگتنا پڑا-
جنوری 1982 کے آخر ميں ارشد کی پھوپھی اپنے بيٹے رفيق قدوسی کے ساتھ تقريبآ بیس 20 دن کے لئے عمرہ کے لئے تشريف لائيں- وہ لوگ زمبابوے ميں رہائش پزير تھے- ميری سب سے خوب نبھی-
جب ندا اس دنیا ميں آئی- میں ہسپتال جاکر ندا کو دیکھنا چاہتا تھا- لیکن جھجھک آڑے آئی- دوسرے دن ارشد نے ہسپتال سے آکر مجھے بتايا- کہ تمہاری بہن (نیلوفر) تمہارے کھانے کا پوچھ رہیں تھیں- کہ کھانا چھوڑکے گئی تھی جعفر بھائی کے لئے- کیا انہوں نے کھانا کھاليا- اس خاندان کے لئے میرے احترام اور میری محبت نے آسمان کو چھو لیا- کہ اس حالت ميں اور اس افراتفری ميں بھی دونوں کو ميرا کتنا خیال ہے- میں نے سوچ لیا کہ جب میں شادی کروں گا- تو اپنی بیوی کو پہلے دن ہی بتا دوں گا- کہ اگر تمہیں مجھے خوش رکھنا ہے تو پہلے ان لوگوں کو خوش رکھنا ہو گا- ان لوگوں کے ساتھ تقریبآ تین سالہ رہائیش کے دوران ہم متعد د بارحرم ساتھ گئے- کئی عمرے بھی ساتھ کئے-
ندا تھوڑی سی بڑی ہوئی اور ميں اس سے کھیل رہا تھا اور اسے اپنے سر سے بلند کرکے اچھال رہا تھا- اس کو نمبر 2 آگیا اور اس کا ڈائیپر لیک کرگیا- میری قميض پر ایک دھار کی صورت میں آ گرا، چہرہ بچ گیا- ان دونوں کے ساتھ ميں بھی ہںس پڑا- ایسا حادثہ زندگی ميں میرے ساتھ پھر کبھی نہيں ہوا-
ستمبر 1982 ميں ميرا پھر پاکستان جانا ہوا- ارشد بھی فيملی کے ساتھ پاکستان گيا ہوا تھا- جدہ میں گھر خالی تھا- اکتوبر ميں جدہ واپس آيا تو اپنے کمرے کو جلا ہوا پايا- فائربريگيڈ نے ہماری غير موجودگی ميں پڑوسی کی کال پر خالی گھر کی آگ بجھائی تھی- شارٹ سرکٹ کی وجہہ سے آگ لگی تھی- ارشد کا کمرہ محفوظ تھا- سعيد صاحب نے وجہ پوچھی کہ ارشد کا کمرہ آگ لگنے سے کيوں بچ گیا- اور صرف میرا کمرہ کیوں جلا- توميں نے ہںس کرجواب دیا کہ-"برق گرتی ہے توبيچارے مسلمانوں پر"-
ايک شادی شدہ ساتھی نوازشريف کوجومجھ سے طاقت ميں دوگنا تھا، اور ابھی میرے کمرے کے دروازے تک ہی آیا تھا، میں نے دھکے دے کر گھر سے نکال ديا- کيوںکہ اس نے اپنا خواب بتاتے ہوئے نيلوفر کوخواب میں ہی ايک غلط حرکت کرتے دیکھا تھا- سعودی عرب کے سخت قوانین کی وجہہ سے وہ طاقت میں مجھ سے زیادہ ہونے کے باوجود ڈر گیا تھا- بعد ميں مشترکہ دوست سکندر نے شکوہ بھی کيا کہ وہ صرف اپنا خواب بتا رہا تھا- میں نے کہا کہ اگر اس نے ایسا خواب دیکھا بھی تھا- تو مجھے بتانے کی کیا تک تھی- شعيب نے تفصيل معلوم کرنا چاہی تو ميں نے شرم ميں بتانے سے منع کرديا- پھر ميں نوازشريف سے کبھی نہيں ملا- دو تين ماہ بعد نوازشريف کا جوانی ہی ميں انتقال ہو گيا- نواز شریف کا ایک اور شادی شدہ بھائی بھی وہيں قریب ميں رہتا تھا- يہ واقعہ غالبآ اگست یا ستمبر 1982 کا ہے-

صداقت کا سعودی پڑوسی کی لڑکی سے معمولی سا چکرچل گيا
اتوار 16 جنوری 1983 کو نیلوفر کچن کے فرش پر بيٹھ کر بغيردوپٹہ کے کام کر رہی تھی قمیص کا گلا بہت ہی زيادہ نيچے تک کھلا ہوا تھا- میں نے يہ ديکھ کر اپنی آنکھيں ہٹا ليں- نیلوفرمیری تعریف کرتے ہوۓ کہنے لگی کہ جب میں نے ارشد کو بتایا کہ جعفربھائی میری ایسی حالت میں اپنی نظریں ہٹا لیتے ہیں تو ارشد بولے کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہاری طرف ديکھيں- پھر نیلوفر نے بتایا کہ پڑوس کی سعودی عورت نے اس کو بتایا کہ اگرچہ اس گھر کے دوسرے لڑکے پڑوسی کے برابر والے گھر کا دروازہ کھلا ہونے کی صورت میں گزرتے ہوۓ اند ر جھاںکتے تھے لیکن جعفر ہمیشہ نظریں نیچی کرکے گزرتا ہے- میں اس کو اپنی تعریف سمجھا= نیلوفرنے مجھے یہ بھی بتایا کہ آج سلیم کا فون آیا تھا- نیلوفر نے کہا کہ اس نےارشد کوسلیم کے فون کے متعلق نہیں بتایا کیوںکہ ارشد شکی مزاج ہیں- نیلوفر نے کہا آخر اس طرح سے بات کرنے میں حرج ہی کیا ہے- (اس وقت تک مجھے علم نہیں تھا کہ سلیم ہے کون)-
مںگل 18 جنوری 1983 کو نیلوفرنے اپنی اسی حالت میں جبکہ اسکا سینہ آدھے سے زیادہ نظرآرہا تھا پھر یہی باتیں دوبارہ دہرائیں کہ میری ایسی حالت میں آپ اپنی نظریں نیچی کرلیتے ہیں- میں نے پھراپنی نظریں ہٹا ليں اور کوئی غیر معمولی بات نہیں محسوس کی- میں اس بات کو صرف اپنی تعریف ہی سمجھا- پھر نیلوفر نے میرے غير شادی شدہ دوست کمال کا ذکر کیا جو اپنی چچی اور چچا سعید صاحب کے ساتھ رہتا تھا- سعید صاحب کی طلاق ہونے کے بعد یہ ان کی دوسری شادی تھی- کمال اسی کںسٹرکشن کمپنی میں آفس کلرک کے طور پر کام کررہا تھا- جہاں میں بزنس میں آنے سے پہلے ڈيڑھ سال کام کرنے کے بعد ایک سال پہلے جاب چھوڑ چکا تھا- اور اپنا بزنس شروع کردیا تھا- نیلوفر نے بتایا کہ کمال اس کی ارشد کی غیر موجودگی میں بہت تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ بہت خوبصورت ہیں- پھر نیلوفر اکثر کمال کی باتیں کرنے لگی-
کمال میرا دوست تھا اور نیلوفر سے اس کے تعلقات کی وجہہ سے میں ڈرنے لگا تھا کہ کہیں کمال نیلوفر کو وہ باتیں نہ بتادے جو میں ابھی تک شعیب اور ارشد تک سے چھپاتا آیا تھا-
نیلوفرکی کمال سے عشق کی کہانی اٹھارہ 18 جنوری 1983 مںگل سے نیلوفر نے مجھے سنانا شروع کی- وہ بری طرح سے میرے پیچھے پڑگئی- چھ 6 مارچ 1983 کو میں ارشد کے گھر سے مکمل طور سے نکل گیا– اگرچہ اپنا آخری سامان کپڑے وغیرہ آٹھ 8 اپریل کو ارشد کے ہاں سے اثھائے- لیکن اس سیںتالیس 47 دن یا سات ہفتے کے اس ڈرامے نے میرے دل و دماغ کی دنیا ساری زندگی کے لئے بالکل ہی تہہ وبالا کرکے رکھ دی- لیلوفر کی عمر اس وقت تقریبآ چھبیس 26 سال کی تھی-
پھر ایک دن نیلوفر نے ہںستے ہوئے بتایا کہ جب اس نے ارشد سے شکایت کی کہ ارشد تم مجھے پيار کم کرتے ہو- تو ارشد نے جواب ديا- تو ميں کيا ہر وقت تمھيں پچ پچ کرتا رہوں-
اسی دوران نیلوفر نے مجھ سے شکایتآ یہ بات کہی کہ ارشد کے والد مجھ سے کہتے ہیں- يہ پہنو وہ پہنو- ان کو کيا حق ہے يہ کہنے کا-
نيلوفر نے بتايا کہ ارشد اس پر بہت شک کرتے تھے- کہتے تھے پتہ نہيں يہ بچے ميرے ہيں بھی يا نہيں– (مونا اور ندا)- جب ارشد کے والد نے ارشد سے کہا کہ بچے تم سے بہت ملتے ہيں تو ارشد کو يقين آيا کہ یہ بچے ارشد کے ہی ہیں- ( اس وقت تک ڈی این اے ٹسٹںگ مارکیٹ میں موجود نہیں تھی– جو کہ 2000 میں متعارف کرائی گئی)-
DNA Testing
نیلوفر مجھ کو اپنے اور کمال کے عشق کے متعلق روز باتیں سنانے لگی- تو میں نے اس کو بولا کہ یہ معاملات اگر ایسے ہی چلتے رہے تو کسی ایک کے گھر پر ضرور اثرانداز ہوگا- یا تو آپ کے گھر پر بات آئے گی- یا کمال سیریس ہوکر اپنی زندگی خراب کرلے گا- یا میں بیچ میں رگڑا جاؤں گا- مجھے یہ وقت آنے سے پہلے یہ گھر چھوڑنا پڑے گا- کیوںکہ اس قسم کے معاملات کا میں پہلے مشاہدہ کرچکا ہوں- لیکن نیلوفر نہ مانی اور مستقل لگی رہی- میں نیلوفرکومقدس سمجھتا آیا تھا لیکن نیلوفر کی اس دوہری شخصیت کا مشاہدہ میرے ذہن کو پراگندہ کرنے لگا-
نیلوفرنے پھر کہا کہ جب کمال مجھے کس کرتے ہیں تو آںکھیں بند کرکے ایسا لگتا ہے جیسے ارشد مجھے کس کر رہے ہیں- جب میں نے کہا کہ کمال آپ کے ساتھ سیریس نہیں ہوگا تو نیلوفربولی کہ میں جانتی ہوں کہ کمال مجھ سے کیا چاہتے ہیں- کمال کہہ چکے ہیں کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتے- میں نے کہا کہ کمال کی آپ کے لئے گندی خواہش رکھنے کے باوجود بھی آپ اس کو چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں- بڑے شرم کی بات ہے- نیلوفرخاموش ہوگئی- اس دوران میرے ساتھ ایک اور معاملہ یہ ہوا کہ مجھے کھانا کھاتے وقت ابکائیاں آنے لگیں- اس وجہہ سے میں کھانا چھوڑکراکثر بھوکا رہ جاتا تھا-
یکم فروری 1983 مںگل کو پہلی د فعہ شعیب کو کمال اور نیلوفر کے افئیر کے متعلق ڈھکے چھپے الفاظ ميں بتایا- جب کمال اور نیلوفر کے تعلقات میں شدت آتے دیکھی- شعيب کے تين سال پہلے کے کہے ہوئے انہی طنزيہ جملوں کے ڈ ر سے ان کو گواہ بنانا چاہا جو ميرے ذہن ميں چپکے ہوئے تھے- کہ شعيب ميرے اوپر جھوٹا الزام بھی آنے پرميری بات کا يقين نہيں کريں گے- ميں نے ان سے اسی ڈر کی وجہہ سے يہ بھی کہا کہ اب ميرا اس گھر ميں رہنا منا سب نہيں ہے- جس کی انہوں نے تائيد کی- ميری خواہش تھی کہ وہ مجہے اپنے گھر عارضی طور پررہنے کے لئے بلاليں جب تک ميرا کوئی اور انتظام نہيں ہوجاتا- مگر وہ نظر انداز کرگئے جبکہ ميں اس وقت کاروبار ميں ابتدائی نقصانات کی وجہہ سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور انتہائی شديد مالی مشکلات کا شکار تھا لیکن آگے کے لئے بہت پرامید تھا- شعيب نے کمال اور نيلوفر کے افئير کے متعلق سن کر مجھے ہدايت کی کہ ميں نيلوفر سے کہوں کہ وہ حسيب صاحب کی بيوی کوبتائے اگر ارشد ميں کوئی طبی کمزوری ہے- تاکہ حسيب صاحب کی بيوی حسيب صاحب کو بتائيں اور حسيب صاحب ارشد کو لے کر کسی ڈاکٹر کے پاس جائيں- ميں نے نيلوفر کو يہ مشورہ دے ديا- نيلوفر تھوڑی شرمندہ سی ہوئی مگر کچھ نہيں بولی- ليکن دو تين دن کے بعد نيلوفر نے مجھ سے کہا کہ جعفر بھائی آپ ٹھيک کہتے ہيں- ارشد اس معاملے ميں ميرا بالکل خيال نہيں رکھتے ہيں-
بہت ہی بعد ميں، ميں یہ سمجھ سکا کہ شعيب کے اس مشورے کو ماننا میری بہت بڑی غلطی تھی- نیلوفرشاید يہ سمجھی تھی کہ یہ بات میں نے اپنی طرف سے کہی ہے- میں شعیب سے زندگی کے معاملوں میں بہت کچھ سیکھتا تھا- ان کواپنا ان داتا سمجھتا تھا اور ان کی باتیں مانتا تھا- بعد میں پیچھے مڑکردیکھنے پر یاد آیا کہ شعیب شادی کے بعد کی آشنائی کوہمیشہ جنسی تعلق چاہنے کی وجہ سمجھتے تھے اور یہ بات کافی حد تک صحیح بھی تھی- اسی دوران میں، میں نے شعیب سے پوچھا کہ یہ عورت مجھے کیوں یہ سب کچھ بتاتی ہے- راز کو راز کیوں نہیں رہنے دیتی- شعیب نے کہا کہ وہ احساس جرم کی وجہہ سے یہ سب کچھ مجھے بتاتی ہے- بعد میں شعیب کی یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی-
تین 3 فروری 1983 جمعرات کو میں ارشد کے کہنے پر نیلوفر کو سعید صاحب کے ہاں سے لے کر گھر پر ڈراپ کرنے چلا گیا- ارشد کو کہیں اور جانا تھا- نیلوفر راستے میں بولی- میں آپ کے ساتھ کار میں اکیلے بیثھ کر کمال کو جیلس کرنا چاہتی تھی- جلانا چاہتی تھی- میں نیلوفر کی اس بات پر تھوڑا حیران بھی ہوا-
پانچ 5 فروری 1983 ہفتہ کو شعیب اور میں کمال کے ہاں گئے اس کو سمجھانے کے لئے- اس سے باتیں کیں سمجھانے کے انداذ میں- واپسی میں راستے میں شعیب نے کہا کہ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ کمال مان جاۓ گا- میں نے کہا کہ ہم کمال کو حرم لے جا کر قسم اٹھواتے ہیں کہ وہ نیلوفر کا پیچھا چھوڑ دے- شعیب نے یہ کہہ کر اتفاق نہیں کیا کہ حرم آکے مارے گا تو نہیں اگر وہ جب بھی نہیں مانا تو- یہ شعیب کا غلط فیصلہ تھا- حرم جانے سے کم ازکم یہ فائدہ ہو جاتا کہ نیلوفر کا کمال کے ساتھ کی نازیبا باتیں سنا کرمیرے کانوں میں زہر گھولنا بند ہو جاتا- اور جو کچھ یہ دونوں کرتے- چپ چاپ کرتے-
شعيب نے انہی معاملات ميں کسی بات پر مجھے ايک دينی کتاب نکال کر دکھائی- جس ميں لکھا تھا کہ مياں بيوی کے درميان دلوں کو جوڑنے کے لئے اگرجھوٹ بھی بولنا پڑے تو وہ جائز ہے- مجھے نہيں پتہ کہ اس گراؤنڈ پر انہوں نے بعد میں میرے خلاف ارشد سے کتنا جھوٹ بولا- ليکن يہ قانون کسی جرم پہ لاگو نہيں ہوتا- جيسا کہ غيبت کا قانون جرم پہ لاگو نہيں ہوتا ورنہ کوئی بھی غيبت کی وجہہ سے مجرم کے خلاف عدالت میں کبھی گواہی نہ دے سکے-
چھ 6 فروری 1983 اتوار کو میں نے نیلوفر کو ایسے ہی بتایا کہ میں کمال کو لے کر حرم مکہ مکرمہ جارہا ہوں قسم اٹھوانے کے لئے- تاکہ وہ آپ کا پیچھا چھوڑ دے یا آپ کو بہن سمجھے- نیلوفر غصہ ہوکر بولی- آپ کیوں کمال کے پیچھے پڑ گئے ہیں- بات اس سے بھی آگے ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں-
مںگل آٹھ 8 فروری 1983 :- ںيلوفراپنے بیڈ روم میں بستر پہ نیم دراز تھی اور ميں کرسی پربیٹھا تھا- اس نے کمال کے ساتھ کی کچھ نازیبا باتیں بتا کراپنا مںہ ہاتھوں ميں چھپا کر شرمانے کی اداکاری کرتے ہوۓ کہا- پہلے ميں نے آپ کے لۓ سوچا تھا- يہ بات بھی ميں نے شعيب کو اگلی ملاقات ميں بتا دی- (چار ماہ بعد زاہد کے انکشافات پرگنتی کرنے پر اندازہ ہوا کہ نیلوفرمجھے اپنا نواں یار بنانا چاہتی تھی)- کچھ دنوں کے بعد جبکہ ميں، کمال اور شعيب ميرے کمرے ميں بيٹھے ہوئے تھے تو شعيب نے پھر کمال کو سمجھانے کی کوشش کی- يہاں تک کہ شعيب نے کمال کے پير تک چھولئے کہ تم ارشد کی بيوی کا پيچھا چھوڑ دو- (میں نے بعد میں ارشد کو بھی شعیب کی یہ پیر چھونے کی بات بتائی)- ميرے دل ميں شعيب کی عـزت دوچند ہوگئی ليکن ہم دونوں نے محسوس کيا کہ کمال نہيں رکے گا- ميں نے شعيب سے پھر پوچھا کہ آخر يہ عورت کمال سے متعلق عشقيہ باتيں مجھے کيوں بتاتی رہتی ہے- شعيب کا جواب تھا کہ وہ احساس جرم کی وجہ سے تم کو يہ سب کچھ بتاتی ہے- بعد کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ شعيب کا يہ تجزيہ غلط تھا- ويسے بھی ميں ان کو نیلوفر کی ساری باتيں ارشد کی عـزت کا پاس رکھنے کی وجہ سے نہيں بتاتا تھا- نیلوفرجو گندی باتيں مجھ سے کرتی تھی، ان میں سے تھوڑی سی باتيں میں نے نیچے لکھی ہيں-
تیرہ 13 فروری 1983 اتوار کو میں نے اپنا سامان ارشد کے گھر میں پیک کرنا شروع کردیا اور نیلوفر کو بتا دیا- کہ میں یہ گھر چھوڑ رہا ہوں- میں شعیـب کے ہاں منتقل ہونا چاہ رہا تھا کسی قسم کے فساد سے بچنے کے لیے- نیلوفر گھبرا گئی اور مجھے مونا اور ندا کا واسطہ دے کر رکنے کو کہا- پھر مجھے یہ کہہ کر رکنے کا کہنے لگی کہ میں ارشد کو کیا بتاؤں گی، آپ کے گھر چھوڑ کر جانے کی وجہہ- جب میں نہیں مانا تو نیلوفر نے شعیب کو فون کیا اور مجھے روکنے کو کہا- نیلوفر کو شعیب کو بتانا پڑا کہ میں گھر کیوں چھوڑ رہا ہوں- اس نے اپنے اور کمال کے افئیر کے متعلق شعیب کو بتادیا- نیلوفر کو پتہ نہیں تھا کہ میں شعیب کو پہلے ہی ڈھکے چھپے الفاظ میں بتا چکا ہوں- شعیب نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے فون کیا اور رکنے کو کہا- کاش میں اس دن شعیب کی بات نہ مانتا اور گھر چھوڑ کر چلا جاتا تو مجھے وہ سب کچھ نہ سہنا پڑتا جو بعد میں بھگتنا پڑا-
ريکارڈںگ - مجھے اپنے اوپر الزام آنے کا شروع ہی سے ڈر تھا- اسی ڈر کی وجہہ سے ميں نے شعیب سے پوچھا کہ کیا ہم نیلوفر کی باتیں ریکارڈ کرلیں- شعیب نے منع کرتے ہوۓ کہا کہ پہلے انہوں نے بھی يہی سوچا تھا ليکن اس لئے مناسب نہیں سمجھا کہ کل اگر ارشد سے ہماری دشمنی ہوجاۓ- تو ہم اس ریکارڈںگ کوغلط نہ استعمال کرلیں- ميں شعیب کی اس بات سے اور زیادہ ڈر گیا کہ شعیب میرے اوپربھروسہ نہیں کر رہے- اگر ان کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو وہ خود ضرور ریکارڈنگ کرتے- مجھے ارشد سے اس وقت کی بے پناہ محبت کی وجہہ سے شعیب کی یہ بات بھی سمجھ میں نہيں آئی کہ ارشد سے کیوں دشمنی ہو جاۓ گی-
شعیب نے کہا - کہ کیا ہم ارشد کو نیلوفر اور کمال کے افئیر کے متعلق بتا دیں- مگر میں نے منع کردیا- کہ طلاق ہوسکتی ہے کیوںکہ ارشد بہت غیرت مند شخص ہے- شعیب کو منع کرنا میری غلطی تھی-
شعيب نے اپنی مںگيتر کی پاکبازی کی تعريف کرتے ہوئے بتايا کہ ايک دفعہ انہوں نے اپنی مستقبل کی ہونے والی بيوی کا صرف ہاتھ پکڑا تھا تو وہ سخت ناراض ہوگئیں تھيں-
اگرچہ نیلوفر نے میرے ساتھ پہلے بھی کافی گندی باتیں کیں تھیں لیکن اب نیلوفر شعیب کو اپنا افئیر بتانے کے بعد اور نڈر ہوکر مجھ سے مزید کھل کر باتیں کرنے لگی- نيلوفرنے بھولی بنتے ہوئے شوہرکے ساتھ جںسی ملاپ کے متعلق کہا کہ شادی سے پہلے اس کو پتہ نہيں تھا کہ شادی کے بعد ايسا سب کچھ بھی ہوتا ہے- (واہ ری معصوميت)-
نيلوفرنے بتايا تھا کہ ارشد کہتے ہيں کہ کتيا کہيں باہر سے کراکے آ (آجا)- میں نے نہیں پوچھا کہ کیوں- نہ ہی ميں سمحھ سکا کہ ہمارے معاشرے میں کوئی شوہر کیوں ایسا اپنی بیوی کو کہے گا- کچھ مہینوں بعد ارشد کو یہ بات اور درج ذیل باتیں بتانے پر اور ارشد کے اعتراف کرنے پر پتہ چلا کہ نیلوفر نے جھوٹ نہیں کہا تھا-
نيلوفرنے بتايا تھا کہ ارشد مجہے ويڈيو پر گندی فلم دکھاتے ہيں جسے ديکھ کر مجھے الٹیاں آتی ہے- (ارشد نے تھوڑے دن پہلے ہی وی سی آر خریدا تھا- اور یہ کیسٹ وہ ہمارے ایک مشترکہ غیرشادی شدہ دوست کے گھر سے اٹھا لایا تھا- وہاں پر میں نے ایک ہفتہ پہلے ہی ارشد کے ساتھ اپنی زندگی کی پہلی بلیو فلم تھوڑی سی شرمندگی کے ساتھ اسی کیسٹ سے دیکھی تھی- سعید صاحب بھی تھے اور دو دوسرے دوست اپنے سگے بھائیوں کے ساتھ موجود تھے-
نيلوفرنے بتايا کہ ارشد میرے مںہ میں بھی ڈالتے ہیں حالاںکہ اسی زبان سے کلمہ بھی پڑھا جاتا ہے- (ایک درخواست ميں ارشد کے دامادوں سے ضرور کروں گا کہ اس بات سے حوصلہ پاکر اپنی بیوی کے ساتھ ارشد کی طرح اس غیرفطری، غیر اخلاقی اور غیرشرعئی عمل کی طرف بالکل نہ جائيں- اپنی بیوی کو یہ کہہ کر، کہ تمہارا باپ بھی تو تمہاری ماں کے مںہ میں ڈالتا تھا)-
نیلوفرنے بتایا کہ ایک دن اس نے صبح کو ارشد کی شلوار گيلی دیکھی تو ارشد سے کہا ايسا کيوں کرتے ہو- ميں جو ہوں- (ہاتھ سے فارغ ہونے کی کیا ضرورت تھی)-
ویسے ایک ساتھی نے ذکر کیا کہ کیوںکہ اس کو گھر کے سارے کام کاج کے ساتھ ساتھ کھانا پکانا بھی آتا ہے- اورسیکس کے معاملے میں بھی وہ خودکفیل ہے- وہ اکیلا ہی اپنے آپ سے کھیل کر مطمئین ہوجاتا ہے- تو اسکوشادی کا جھنجھٹ پالنے کی کیا ضرورت ہے- میں نے پوچھا کہ پھر بچوں کے لئے کیا کروگے- تو اس نے جواب دیا کہ اس کے لئے بھتیجے بھانجے ہی کافی ہیں- (ویسے آجکل توبچوں کی پیدائیش کا طبی حل بھی موجود ہے)-
نيلوفرنے ارشد کی اوپر لکھی ہوئی باتوں کے علاوہ اور باتیں بھی کیں- یہ بتايا کہ زاہد بھائی نے پہلے مجھے گندے فوٹو دکھاۓ- پھر مجھے دیکھا اور کہا- آپ کو کيا ہو رہا ہے- ميں نے کہا مجہے تو کچھ نہيں ہو رہا ہے- پھر وہ دست درازی کے ليے ميری طرف آئے تو ميں نے کھينچ کر لات ماری- ميں بولا غلطی تو آپ کی تھی- آپ نے کيوں زاہد کے ساتھ بيٹھ کر گندے فوٹو ديکھے- نيلوفر نے کہا ميں مانتی ہوں ان کے ساتھ ميں بيٹھ کر گندے فوٹو ديکھنا ميری غلطی تھی- (میں نے سوچا کہ یہ غالبآ میرے اس گھر میں رہائش سے پہلے کا واقعہ تھا- بہرحال ارشد کو میں نے پچھلے 42 ساوں ميں یہ بات کبھی نہیں بتائی)-
نيلوفرنے کہا جوبھی مجہے ديکھتا ہے مجھ پرعاشق ہوجاتا ہے- اسی وجہہ سے کمال بھی اس پر عاشق ہوا ہے- ميں نے کہا کہ وہ لوگ آپ کے پیچھے محبت کے پیچھے نہيں بلکہ جسمانی ہوس کی وجہ سے آتے ہیں- میں نے معاملے کی شدت کی وجہ سے کچھ الفاظ اںگلش میں بول دیے- جن کے معنی نیلوفر نے پوچھے مگر میں بتا نہ سکا-
نيلوفر نے مجھے ہنس ہنس کر بتايا کہ کمال اس دفعہ مجھ سے ملکر اتنے بے حال ہو گئے تھے کہ باتھ روم چلے گۓ اور باہر آکر مجھے ہنس کربتايا کہ انہیں اپنے آپ کو ہاتھ سے فارغ کرنا پڑا- (ارشد کو میں نے پچھلے 42 سالوں ميں یہ بات کبھی نہیں بتائی)-
نيلوفر نے کہا کہ کمال کا پاکستانی پڑوسی جوڑا گھر کی چابياں کمال کو دے کر ايک مہينے کے لۓ پاکستان جا رہا ہے توکمال اور اسے دونوں کو تنہائی ميں ملاقات کا موقع مل جاۓ گا- (ارشد کو میں نے پچھلے 42 سالوں ميں یہ بات کبھی نہیں بتائی)-
جب ميں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ بہت سی طلا قيں صرف شک کی بنياد پہ ہوجاتی ہيں تو نيلوفر نے ہنس کر جواب ديا- وہ اناڑی ہوتی ہوں گی- بہت بعد ميں مجھے سمجھ آئی کہ نيلوفر نہ صرف بہترين کھلا ڑی تھی بلکہ مشاق شکاری بھی تھی-
نیلوفر کوسمجھانے کے چکرمیں مجھ کمبخت کی زبان پھسل گئی اور میں نیلوفر سے کہہ گیا کہ ضمیرشاہ (فرضی نام) جیسا شاطرشخص ایک دفعہ کراچی میں اپنے گھرميں کسی لڑکی کے ساتھ گناہ میں مصروف تھا- تو اچانک ضمیر کی ماں غیر متوقع طور پہ کمرے میں آگئیں جو کہ باہر دور گئی ہوئیں تھیں اور ضمیرشاہ رںگے ہاتھوں پکڑا گیا- آپ بھی پکڑی جاسکتی ہیں- یہ کہہ کر فورآ ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا- لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا- بعد میں نیلوفر کی طرف سے یہ بات ضمیرشاہ تک پہںچ گئی اور شعیب اور ضمیر میں جھگڑا ہونے کے بعد دونوں کے تعلقات ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے- کیوںکہ ضمیرشاہ کی یہ بات شعیب ہی نے مجھ تک پہںچائی تھی- (ارشد کو میں نے پچھلے 42 سال ميں یہ بات کبھی نہیں بتائی)-
اس دوران ایک اوربات مشاہدے میں آئی کہ ارشد اور نیلوفر اکثرجماع کے بعد حالت جنابت میں نہائے بغیر سارا دن ایسے ہی ناپاکی کی حالت میں پھرتے رہتے تھے- ارشد تو ایسے ہی جاب پر بھی چلا جاتا تھا-
پندرہ 15 فروری 1983 مںگل کو جب میں نے شعیب سے کمال اور نیلوفرکے معاملات کو کسی بھی طرح سے کنٹرول کروانا چاہا- تو شعیب نے زچ ہوکر کہا کہ مجھے اپنی قبر میں جانا ہے-
سولہ 16 فروری بدھ کو نیلوفر نے کمال کے متعلق اور باتیں بتائیں– میں نے نیلوفر کو ایک دینی کتاب پڑھنے کو دی جو شعیب نے مجھے یہ کتاب دے کر نیلوفر کو دینے کی ہدایت کی تھی-
سترہ 17 فروری 1983 جمعرات کو جب میں تقریبآ روتے ہوئے نیلوفر سے کمال کے ساتھ معاملات کو روکنے کی خوشامد کررہا تھا- تو نیلوفر مسکرا کر بولی- کیا اب میں آپ کو دودھ پلاؤں- نيلوفرنے کہا ميری امی کہتی ہيں- بھائی صرف وہ ہوتآ ہے جواپنی ماں کے پيٹ سے پيدا ہوا ہوتا ہے- پھر نيلوفرنے پوچھا کہيں آپ مجھ سے محبت تو نہيں کرنے لگے ہیں- میں نے نیلوفرسے اس وقت تو اس بات پر تردید کری لیکن دو دن کے بعد دوبارہ تذکرہ نکلنے پرجواب دیا کہ ہوسکتا ہے آپ ٹھیک کہتی ہوں- (مجھے یہ بات بتانے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے نیلوفر سے بھی اتنی ہی محبت تھی- جتنی کے ارشد سے ہوگئی تھی- بہرحال یہ محبت دوسری قسم کی تھی- پوری فیملی کے ساتھ جیسے ون یونٹ- اور ویسی نہیں تھی جیسی نیلوفر ورغلانے کی کوشش کررہی تھی- اگرمجھے اس فیملی سے محبت نہ ہوتی تو ارشد سے وہ باتیں 42 بیالیس سال تک نہ چھپاتا جو یہاں لکھی ہیں اور جو نیلوفر نے اور بعد میں زاہد ، ھاتف اور خود نیلوفر کی ماں نے کہیں)-
اس کے بعد نیلوفر نے مجھ پر لائین مارنا شروع کردی اور اکیلے میں جعفر بھائی کہنا بھی چھوڑ دیا- میرا دو دن کے بعد طائف کی جاب کے لئے انٹرویو تھا- اور مجھے جاب ملنے پر یہ گھر چھوڑ کر چلا جانا تھا- اگر اس وقت میرے معاشی حالات اتنے خراب نہ ہوتے- تو میں یہ گھر پہلے ہی چھوڑ چکا ہوتا-
انیس 19 فروری 1983 ہفتہ کو ارشد کو ایک کتاب دی وارنںگ کے طور پر، جو شعیب نے مجھے دی تھی، ارشد کو دینے کے لئے- جس پر پچھلی رات میں نے خاص خاص صفحات موڑے تھے اور ڈھکے چھپے وارنںگ نوٹس بھی ہاتھ سے پہلے ہی سے لکھے ہوۓ تھے-

ارشد کو بتایا کہ جعفربھائی میری ایسی حالت میں اپنی نظریں ہٹا لیتے ہیں
اتوار 20 بیس فروری 1983 :- صبح کا وقت تھا اور ارشد اپنی جاب پر گیا ہوا تھا- میں کرسی نمبر ٹو(2) پر بیٹھا ہوا تھا اور نیلوفر کرسی نمبر ون (1) پر بیٹھی ہوئی تھی- ( گھرکا فلور پلان دیکھیں ) نیلوفرنے پھر سے اپنے اور ارشد کے جنسی معاملات پر گفتگو شروع کردی- اس دن مجھ سے یہ غلطی ہو گئی کہ میں پہلی دفعہ نیلوفر کے ساتھ باتوں میں شریک ہو گیا- صرف یہ سوچ کر کہ شاید میں اسے کوئی مشورہ دے سکوں کیوںکہ وہ کئی دنوں سے بری طرح سے میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی- میں اس کی باتوں پر اس کو مذاق میں بولا کہ اگرآپ نہ چاہيں تو جب وہ آپ کے مںہ ميں ڈالے تو کاٹ ليجئے گا تاکہ يہ سلسلہ رک جاۓ- یا اگرآپ بات نبھانا چاہیں تو آپ بھی اس کو زبان باہر نکالنے کا کہہ کر اس کے مںہ پر بیٹھ جایا کیجئے گا- تاکہ بات برابر ہو جاۓ اور آپ کو بھی سکون آجائے- ۔ ۔ ۔ ۔ نیلوفر کو میں نے دانش کا کنول پر اورل سیکس کرنے کا معاملہ بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیرباتوں کے بعد میں نے دیکھا کہ نیلوفر کی ساںسیں بھاری اور آںکھيں نشيلی سی ہونے لگی ہیں- اس کے گھٹنوں کے درميان فاصلہ بڑھ گيآ اور وہ کرسی پر آگے کو کھسک آئی- مجہے معاملہ نازک ہونے کا احساس ہو گیا- گھبرا کر ميں کرسی سے اٹھ گیا اور نیلوفر سے بولا کہ ہم بہت غلط باتیں کررہے ہیں، ہمیں یہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں- اور قریب ہی اپنے کمرے کے دروازہ پرچلا گیا (فلور پلان دیکھیں)- میں نے نیلوفر کو ایسا ظاہر کیا کہ اس کی طرح میں بھی ڈگمگا نے کی پوزیشن میں ہوں تاکہ وہ توہین محسوس نہ کرے، شرمندہ نہ ہو، احتیاط رکھے اور آئندہ ایسی باتیں نہ کرے- نیلوفر مجھے بیٹھنے کا بولتی رہی، کہتی رہی– پلیز– پلیز-- وہ بلبلائی ہوئی کتیا لگ رہی تھی اور گڑگڑا رہی تھی- پلیز– پلیز- آخرکار اس نے کہا (اچھا) صرف باتوں کی حد تک- میں نے اس کو ایسے ہی بیٹھے رہنے دیا- کمرے کا دروازہ بند کیا اور جاب انٹرویو پر جانے کے لئے ڈریس بدلا- اپنی 70 ستر سال کی عمر تک آتے آتے میں نے اتنی ہاٹ عورت اپنے اطراف میں کبھی نہیں دیکھی، نہ سنی- شاید ارشد اسی لئے نیلوفر کے ہرجائی پن کو بار بار برداشت کرتا رہا ہے کہ اتنا گرم گرم کھانا پھر شاید کہیں اورنہ ملے- تھوڑی دیر کے بعد میں کمرے سے باہر نکلا- نیلوفر اپنے کمرے میں جا چکی تھی- میں اپنے جاب انٹرویوکے لیے چلا گیا- بلاشبہ مجھے اس دن موقع سے اور پھر گھر سے بھاگنا پڑا تھا- میں نے یہاں نیلوفر کو بلبلائی ہوئی کتیا لکھ کر ارشد ہی کی طرح تشبیہ دی ہے جیسا کہ نیلوفر نے مجھے بتایا تھا کہ ارشد اسے کہتا ہے کہ کتيا کہيں باہر سے کراکے آ- (غالبآ ایسی ہی حالت میں)-
لاوا اگلتی ہوئی آتش فشاں کی جوالا مکھی کی آگ کوایک یا دو یا زیادہ فائر ٹرک کیسے بجھا سکتے ہیں-
اگر اس دن میں جاب کے لئے یہ انٹرویو اس سعودی شیخ کے ساتھ مس کردیتا تو یہ جاب مجھے نہ مل پاتی- کیوںکہ شیخ تین گھنٹے کے بعد بیس دن کے لئے امریکہ جارہے تھے- اور مصری منیجر کسی مصری کو میرے بجا ئے رکھ لیتا- یہ سعودی شیخ خود انجینئر تھے اور امریکہ سے ڈاکٹریٹ کئے ہوئے تھے- کںگ خالد کی بیوی ان کواپنا بیٹا کہتی تھیں- اسی لئے ان کو بہت اچھے شاہی پروجیکٹ ملتے تھے- زمزم کںوئيں کی دیکھ بھال بھی ان کے ذ مہ تھی- انہوں نے اس پر ایک تفصیلی علمی کتاب بھی طبع کروائی- ان کے بھائی مکہ مکرمہ کے میئر رہ چکے ہیں- مجھے طائف ميں ایک شاہی محل کی کںسٹرکشن میں شا مل کرنے کے لئے رکھا گیا- میری تنخواہ بونس وغیرہ ملا کر تقریبآ ڈھائی گنا زیادہ تھی، بہ نسبت اس تنخواہ کے جو ارشد کے ہاں رہائش کے دوران ٹوبیکو بزنس کرنے سے پہلے برٹش کمپنی میں میری تھی- شیخ کے ساتھ میں نے سعودی عرب میں ساڑھے پاںچ سال جاب کی- میں بعد میں امریکہ چلا گیا- کچھ عرصے کے بعد امریکہ میں شیخ کے ساتھ پارٹنر شپ میں ایک کمپنی بھی چلائی-
پیر 21 اکیس فروری 1983 :- نیلوفر کے تین دن پہلے بے قابو ہونے کے بعد میں اور زیادہ ڈ ر گیا تھا- کیوںکہ نیلوفر کو اپنی بے وقوفی سے میں ارشد کی ہمد ردی میں اور ارشد کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کے چکر میں اپنی، ضمیرشاہ کی اور دو اور لوگوں کی برائیاں بھی بتا بیٹھا تھا اور تلملائی ہوئی عورتوں کے شر کی کہانیاں میں نے بھی پڑھی اورسنی تھیں- مجھے پتہ تھا کہ میرے اس طرح سے بھاگنے سے نیلوفر نے شرمندگی اور پھر توہین بھی محسوس کی ہوگی- اگلی صبح کو نیلوفرکی دو چار باتیں (عشقیہ) سننے کے بعد میں نے نیلوفر سے کہا اچھا آئیں مجھے کس ديں- میں کرسی نمبرون (1) پر بیٹھا ہوا تھا اور نیلوفر کچن کے پاس کھڑی تھي- نیلوفر نے ایک دفعہ توہلکے سے منع کیا جیسے بیویاں بھی ہلکا سا نخرہ کرتی ہیں پھر خود ہی چلتی ہوئی آئی اور کرسی نمبر ٹو (2) پر آکر بیٹھ گئی- ( فلور پلان دیکھیں ) میں نے اپنا الٹا ہاتھ اس کی گردن کے گرد گھما کر اس کو اپنے سے قریب کیا اور اس بات کا خاص طور سے خیال رکھا کہ ہمارے جسموں کا کوئی اور حصہ آبس میں ٹچ نہ ہو- پھر اس کے ہوںٹوں پر اسے کاٹنے کے انداز میں کس کیا- ںیلوفر کا ایک ہاتھ غیر ارادی طورپریا غالبآ عادتآ میری دونوں رانوں کے درمیان پہنچ گیا اور اس کے مںہ سے اوں اوں کی آوازیں نکلیں- میں نے کس کرنے کے بعد اس کی گردن سے ہاتھ نکال لیا- نيلوفراٹھلاکر بولی- "ہوںٹوں پر کس تو ميں ارشد کو بھی نہيں ديتی ہوں- نسرين کہتی ہے تو تو پاگل ہے"- (نسرین اور اس کے شوہر کی حسیب صاحب اور ان کی بیوی سے کوئی میل ملاقات نہیں تھی) - میں نے نیلوفر سے بعد میں یہ پوچھا کہ اب آپ بتائیں آپ کس کی وفادار ہیں- ارشد کی، کمال کی یا میری- اس نے کوئی جواب نہیں دیا- لیکن میں تھوڑا مطمئین ہو گیا کہ اب یہ عورت ارشد یا کسی اور سے مجھے الزام نہیں دے سکے گی اور کچھ دنوں میں جاب پر دوسرے شہر طائف چلا جاؤں گا- یہاں میں آ پ کو بتانا چاہتا ہوں کہ درحقیقت یہ کس کرنے میں مجھے ایسی گھن محسوس ہوئی- جیسے میں نے مردار گوشت پر اپنا مںہ ر کھ دیا ہو- آپ اس حقیقت کو مانیں یا نہ مانیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا-
22 بائیس فروری 1983 منگل کو میں نے نیلوفر سے کہا کہ مجہے اس کو کس کرنا اچھا نہیں محسوس ہوا- نیلوفر نے کہا کہ اسے بھی مزہ نہیں آیا تو مجھے یہ باب یہیں بند ہونے پر سکون حاصل ہوا- ظاہر ہے میرا کس کرنے کا انداز مزے کے لئے تونہیں تھا- کراہئیت کے ساتھ تھا- تو کسی کو مزہ کیسے آتا- پھرمیں نے نیلوفرکو دوبارہ کمال کے سابقہ افئیر بتاۓ- جس پر اس نے کہا کہ کمال اسے پہلے ہی بتاچکا ہے-

گھرکا فلور پلان
جمعرات 24 چوبیس فروری 1983 :- ارشد صبح سات بجے کام پر جا چکا تھا- صبح نو بجے کے قريب ميں اپنے کمرے سے کام پر جانے سے پہلے ناشتہ کرنے کے لۓ باہر نکلا- نيلوفر اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی- ميں حيران ہوا وہ رات کے کپڑوں ميں تھی- براۓ نام باريک کپڑے کی ٹراںسپئیرنٹ شمیص ميں جو عورتيں قميص کے اندر ستر چھپانے کو پہنتی ہيں- اندر کچھ اور نہيں پہنا ہوا تھا اوراوپر کا جسم بڑا نمایاں تھا- ميں نے نيلوفر کو وارنںگ کے طور پر بتايا تاکہ وہ آئندہ احتياط رکھے کہ رات کو ميں کچن ميں پانی پينے گیا تو ان کے کمرے سے آوازيں باہر آرہيں تھيں- تو وہ غصہ ميں کہنے لگی- رات کو ارشد نے مجھ سے کہا- "کروانا ہے تو کروا لو ورنہ ميں سو رہا ہوں- پھر ايسے کيا جيسے مشين ميں گنا ڈال کر پيل ديا جاۓ"- ميں حیرت سے گنگ رہ گيا- واپس اپنے کمرے ميں چلا گيا- اپنے دل کو تسلی دی کہ وہ بھول کر رات کے کپڑوں ہی ميں باہر آگئی ہو گی- یہ مشين ميں گنا ڈال کر پيل د ینے والی مثال زندگی میں نہ اس سے پہلے کبھی سنی اور نہ اس کے بعد کبھی کسی سے سنی-

پھر ايسے کيا جيسے مشين ميں گنا ڈال کر پيل ديا جاۓ
جمعرات 24 چوبیس فروری 1983 :- کچھ دير کے بعد میں کمرے سے باہر نکلا- شکر کيا- نيلوفر اپنا ڈريس بدل چکی تھی- معقول کريم کلرکا شلواراور ھاف سلیو قميص پہنے ہوۓ تھی- اس نے اپنے اور ميرے لۓ ناشتہ بھی تيارکيا تھا- ہم دونوں ناشتہ کے لۓ باہر جھوٹی سی چوکور ميزپر آمنے سامںے بيٹھ گۓ- میں کرسی نمبر ون (1) پر بیٹھا ہوا تھا اور نیلوفر کرسی نمبر تھری (3) پر بیٹھی ہوئی تھی- ( گھرکا فلور پلان دیکھیں )- ناشتہ ختم ہوا- ميرا سيدھا ہاتھ ديوار کے ساتھ ميزپرپھيلا ہوا تھآ- نيلوفرنے اچانک اپنا الٹا ہاتھ سامنے لاکرہاتھ کی چار اںگلياں ميرے ہاتھ کی چار اںگليوں ميں ڈال ديں- مجھے سکتہ سا ہو گيا اور ميں يونہيں بيٹھا رہ گيا- ابھی ميں سوچ ہی رہا تھا کہ کيا کروں کہ نيلوفر معنی خیز انداز میں بولی- "ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں"- (حرف بہ حرف الفاظ)- ميرا دماغ اپنی توہين پر گھوم گيا- کہ یہ مجھے بھڑوا سمجھ رہی ہے- سر سے پير تک مرچيں بھر گئيں- اپنے الٹے ہاتھ ميں پکڑا ہوا خالی گلاس ميں نے ميز پر پٹخ کر اورانتہائی غصہ کی حالت میں کھڑے ہوکر یہ کہتا ہوا کہ آپ مجھے کیا خوش رکھیں گی، کچن ميں اپنے غصے کو ٹھندا کرنے پانی پينے چلا گيا- نیلوفر میرے کچن سے باہر نکلنے سے پہلے ہی بھاگ کر آکے کچن کے در پرراستہ روک کرکھڑی ہوگئی- اس کی ساںسیں میرے چہرے سے ٹکرا رہیں تھیں- کیوںکہ اس کا جسم میرے جسم سے صرف دو چار انچ ہی دور تھا- ميں سيدھی طرف سے نکلنے کی کوشش کرتا تو وہ محبوبانہ انداز ميں نشیلی آںکھوں کے ساتھ دونوں ہاتھ سيدھی طرف کی دیوار پر رکھ کر راستہ روک ليتی- ميں الٹی طرف سے نکلنے کی کوشش کرتا تو وہ الٹی طرف آکر خود سپردگی کی حالت ميں ديوارپر دونوں ہاتھ رکھ کر راستہ روک ليتی- ايسا نیلوفرنے چار پانچ دفعہ کيا- آخر مايوس ہو کر اس کو راستہ چھوڑنا پڑا ورنہ وہ آغوش ميں آنے پر تلی بيٹھی تھی- اس دوران میری آںکھوں میں ارشد کی شکل گھوم رہی تھی- جس سے چند گھنٹوں کے بعد اس کے گھر آنے پر مجھے آنکھیں ملانا ہوتیں- يہ بات ميں پورے وثوق سے پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں- پاکستان میں تو اس کو دعوت گناہ دینا کہا جاتا ہے- (بہت بعد میں ڈڈن نے مجھے بتایا کہ دروازے کے سامنے روک بننے کی ادائیں وہ اس کے ساتھ بھی کرچکی ہے)- نیلوفر نے جو آفر کی تھی کہ "ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں"- اس کے متعلق میں آپ کو وضاحت کر دوں کہ کمال سے ملنے دینے پر میرا اختیار صرف اس طرح سے ہوتا اگر کمال ارشد کی غیرموجودگی میں ہمارے گھر آتا- میں باہر بیٹھ کر چوکیداری کرتا اور نیلوفر اندر کمال سے ملتی- اس کے بدلے میں نیلوفر جو چیز مجھے دینے کی آفرکررہی تھی وہ دنیا میں ہر جگہ بیس پچیس 25/50 ڈالر میں میسر تھی- پتہ نہیں نیلوفر نے یہ کیسے فرض کرلیا کہ اتنی کم قیمت چیز کے پیچھے میں اتنی محبت بھری قيمتی دوستیوں کو داؤ پر لگا دوں گا- جن کو کھونے کا دکھ آج 42 بیالیس سال گزرنے کے بعد بھی میرے دل میں موجود ہے- اگر یہ دکھ نہیں ہوتا تو آج 42 بیالیس سال بعد بیٹھ کر یہ سب کچھ میں اس د کھ کے ساتھ نہیں لکھ رہا ہوتا- ارشد اکثر نیلوفر کے ساتھ سعید صاحب کے ہاں جاتا تھا- جہاں کمال بھی رہتا تھا- لیکن نیلوفر کمال کے ساتھ مکمل تنہائی میں ملنا چاہتی تھی، جس کے لئے اس نے مجھے اپنی دانست میں ایک رںگین آفر کی تھی- مجھے اپنی شکل اور فگر کے متعلق کوئی خوش فہمی نہيں ہے- مگر ميں اپنے آپ کو اتنا گيا گزرا بھی نہيں سمجھتا تھا کہ نيلوفر جيسی عورت کی ایسی خيرات کو قبول کرتا- اگر وہ ارشد جیسے دوست کی بیوی نہ بھی ہوتی، جب بھی گوشت کا ایسا بیوپارمیرے لئے ناقابل قبول ہوتا- میں اب ہر سال 24 چوبیس فروری کو یوم دفاع کے طور پر مناتا ہوں-
میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا ‘ بیشک نفس برائی کا حکم دیتا ہے مگر وہ جس پراللہ تعالی نے رحم فرمایا ہو- وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ ---
چھبیس 26 فروری 1983 ہفتہ کو میں نے نیلوفرکو کمال کے سابقہ افئیر پھر بتاۓ- نيلوفر نے کہا کہ کمال اس کو اپنے سابقہ تعلقات کے متعلق بتا چکا ہے اور وہ خود بھی اسے چھوڑدے گی- ميں نے نيلوفر سے کہا کہ وہ کمال کو چھوڑدے تو میں بھی اب اس گھر سے چلا جاؤں گا- کيوںکہ اب ہم دونوں کے درميان جھجھک ختم ہو گئی ہے-
(دلوں کے حال تو اللہ تعالی ہی جانتے ہیں اس لیے میں حرم میں بیٹھ کر قسم کھانے کو تیارہوں- کہ میں نے خاص اس لمحہ میں دل میں کوئی برائی لائے بغیربالکل خلوص کے ساتھ نیلوفر سے ارشد کے احترام میں یہ بات کہی تھی)-
نیلوفر نے کہا میں پہلے کمال کواس کی پچھلی دوسری لڑکیوں کے ساتھ غلط حرکتوں پرچاںٹا ماروں گی پھر چھوڑوں گی- ميں نے کہا اس کی ضرورت نہيں ہے- آپ صرف ارشد کو بتا ديں کہ وہ آپ کو کمال کے سامنے نہ لاۓ- ارشد خود احتياط کرلے گا- مگر نيلوفر کمال کو چاںٹا مارنے پر مصر رہی-

ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں
ستائیس 27 فروری 1983 اتوار کی شام کو نیلوفر نے میرے دوست کو فون کرکے میرے اوپر الزام لگا دئيے-
کتی رل گئی چوروں نال- کتی رل گئی چوروں نال- کتی رل گئی چوروں نال-
https://www.dailymotion.com/video/x2hufjy
چھبیس 28 فروری 1983 پیر کی صبح ارشد کی غیر موجودگی میں شعیب آئے اور نیلوفر کو کمرے سے بلوایا- شعیب کو اسی دوست نے بتایا تھا- وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا- جس دن کے ڈر سے میں کئی بے وقوفیاں کر بیٹھا تھا- شعیب نے نیلوفر کے سامنے مجھ سے کہا- کہ وہ رات بھر سونہیں سکے- پھر پوچھا کہ کیا میں نے نیلوفر کو کس کیا ہے- جب میں نے ہاں کہا تو شعیب نے مجھے ایک گالی دی- میں نے شعیب کو نیلوفر کے سامنے ہی اپنے محسوسات بتائے- کہ نیلوفر کو کس کرتے ہوئے مجھے ایسا لگا تھا کہ جیسے میں نے مردار گوشت پر اپنا مںہ رکھ دیا ہو- میں نے ان کو بیک گراؤنڈ بتایا- کہ اس سے ایک دن پہلے نیلوفر کے بے قابو ہونے پر مجھے گھر سے بھاگنا پڑا تھا- نیلوفر نے انکار نہیں کیا اور یہ نہیں کہا، کہ میں گھر سے نہیں بھاگا تھا بلکہ بولی کہ آپ میری طرف بڑھ کے تو دیکھتے- (حالاںکہ اس دن خود نیلوفرمجھے رکنے کا کہہ کر پلیز، پلیز گڑگڑا رہی تھی)- (شعیب کو نیلوفر کے اعتراف پر سوچنا چاہیے تھا کہ میں گھر سے کیوں بھاگا تھا- اس کے علاوہ شعیب کویہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ اگلے دن نیلوفرکے میری طرف بڑھے بغیر میں نے اسے کس کیسے کرلیا)- میں سمجھ گیا کہ اب نیلوفر مزید جھوٹ بولتی رہے گی- میرے منہ سے زاہد کے متعلق یہ بات نکلی- جو کہ نیلوفر نے بتائی تھی کہ زاہد نے نیلوفر پہ دست درازی کی تھی- نیلوفر نے یہ بات اپنی زبان سے مان لی کہ ہاں ایسا ہوا تھا، شعیب کے سامنے کہہ کر قبول کرلی- اب مجھے شعیب پر غصہ آیا کہ شعیب یہ نہیں دیکھ رہے کہ کرتا آگے سے پھٹا ہوا تھا یا پیچھے سے- پھرمیں نے اپنے دفاع میں کچھ کہنا چاہا- لیکن میں نے فورآ ہی ارشد کی عزت کے خیال سے اپنی زبان پکڑ لی- میں اس بات سے بھی ڈر گیا تھا- کہ کہیں بحث میں نیلوفر شعیب کو میری کںول کے ساتھ ابھی بھی ملنے کی بات، اور ضمیرشاہ کی لڑکی کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں اپنی ماں کے ہاتھوں پکڑے جانے کی بات، اور دوسرے لوگوں کی وہ باتیں بھی نہ بتادے جو میں ارشد کو اچھا ثابت کرنے کے چکر میں دوسرے لوگوں کی اور اپنی بھی برائیاں نیلوفرکو بتا چکا تھا- (یہ بات کوئی ایک ماہ کے بعد شعیب سے ہی پتہ چلی- کہ نیلوفر پچھلی رات ہی کو شعیب کوضمیرکی، میری اوردوسرے لوگوں کی ساری باتیں بتاچکی تھی- اور یہ بات بھی بتا دی تھی کہ میں ابھی بھی پاکستان جاکر کںول سے ملتا ہوں)- (میں کنول سے شادی کرنا چاہتا تھا- لیکن اس کو اپنی طرف سے اس کے شوہر سے طلاق کا کہہ کر طلاق کی وجہہ نہیں بننا چاہتا تھا)- ان ساری باتوں سے بلیک میل ہو کر میں شعیب سے نیلوفر کے الزام کا دفاع اس وقت نہیں کرسکا- دوسرے خود شعیب نے جو سبق تین چار سال پہلے مجھے سکھائے تھے- ان کی رو سے میں سمجھتا تھا کہ میرے بتائے بغیر ان کو اندازہ ہو جانا چاہیے- کہ جو عورت پہلے ہی سے اپنی عزت لٹانے پر مصر ہو- اس کو کیسے ایک دم سے اپنی عزت عزیز ہو جائے گی- اس کے علاوہ ان دنوں پاکستانی کلچر میں شریف عورت ایک وقت کو مجبوری میں اپنی عزت تو چپ چاپ لٹا دیتی تھی- لیکن شور مچا کر اپنی عزت چوراہے میں نیلام نہیں کیا کرتی تھی- جب میں چپ ہو گیا- تو شعیب نے مجھ سے پوچھا- کہ تم آخر کیا چاہتے ہو- تو میں نے فورآ ہی بے ساختہ جواب دیا کہ میں پہلے جیسا ہی پاکیزہ ماحول چاہتا ہوں- شعیب نے کہا کہ تم سوچنا چھوڑ دو- ميں نے جواب دیا کہ ہاں مجھے کسی کے پھٹے میں پیر نہیں اڑانا چاہیے تھا- نتیجہ بھگت لیا- شعیب چلے گئے اور مجھ سے بولنا چھوڑ دیا- مجھے شعیب پر اس بات پر بھی غصہ آیا کہ مجھ پر شک کرکے مجھے ایک مجرم عورت کے سامنے کھڑا کردیا- اگر شعیب اکیلے میں مجھ سے صفائی ماںگتے تو میں شاید ان کو مطمئین کردیتا-
شعیب کے جانے کے بعد ميں نيلوفر سے بولا ـ آپ نے ميری دوستی خراب کردی- اس نے جواب ديا آپ اور دوست بنا ليجيے گا ـ (اگر اس کی نظر ميں دوستی اتنی سی بات تھی تو وہ بھی کما ل کو چھوڑ کر کوئی اور يار بناليتی)-
پھر میں نے پوچھا کہ میں ارشد کو کیا بتاؤں- نيلوفر بولی جو آپ نے مجھے بتایا ہے- میں نے اس بات کو نیلوفر کی اجا زت تو سمجھا لیکن اس دیدہ دلیری کی وجہ اس وقت سمجھ میں نہیں آئی-
میں نیلوفر سے بولا کہ کچھ عـورتیں کتنی حرافہ ہوتی ہیں- میرا اشارہ نیلوفر ہی کی طرف تھا- (نیلوفر نے زاہد کے گندے فوٹو دکھانے کے باوجود اور زاہد کے نیلوفر پہ جھپٹنے کے باوجود زاہد کی شکایت ارشد سے کبھی نہیں کی تھی-)
پھرمیں نے یہ گانا پوری طرح سے سنایا- چل اڑجا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ-
اب مجھے اپنی صفائی کے لئے مزید ثبوت جمع کرنے تھے- بہت پرانے گانے یا آڈیوزاس لئے سدا بہار رہتے ہیں- کہ ان کی کاپیاں ہوتی رہتی ہیں- خصوصیت سے اگر وہ ائرکنڈیشنڈ جگہوں پر اسٹور کئے جائیں- آج بھی ستر سال پرانے گانے سن کر ایسا لگتا ہے- جیسے کل ریکارڈ ہوئے ہوں-
چار 4 مارچ 1983 جمعہ کو کمال ہمارے ہاں آيا ہوا تھا – ميں اس کو لے کراپنے تمباکو کے گودام ميں چلا گيا جو گھر کے بہت قريب تھا اوروہاں اس وقت کوئی نہيں تھا– - - - - - - - - کمال نے مجھ سے کہا کہ اب تم یہ کہوگے کہ نیلوفر تم سے بھی عشق لڑارہی تھيں- میں نے کمال کو کوئی جواب نہیں دیا- میں سمجھ گیا تھا کہ نیلوفر نے میرے ساتھ اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پیش بندھی کے طور پر کمال کو یہ بات کہی تھی- - - - - - - - ميں نے کمال سے اور باتوں کے علاوہ يہ بھی کہا کہ مجھے نيلوفر نے بتايا تھا کہ تم اس سے گندی باتیں کر کرکے اتنے بے حال ہو گئے تھے کہ باتھ روم چلے گۓ اور تم کواپنے آپ کو ہاتھ سے فارغ کرنا پڑا- کمال مجھے کافی شرمندہ لگا- اور کہا - - - - - - - - ميں نے اسے مزيد بتايا کہ مجھے معلوم ہے کہ تمہارے پڑوس کا پاکستانی جوڑا دو ہفتے کے لئے اپنے گھر کی چابياں گھر کا خیال رکھنے کو تمہيں دے کر پاکستان جا رہا ہے- وہاں تمہارا نيلوفر کے ساتھ تنہائی ميں ملنے کا پروگرام ہے- کمال بڑا حيران ہوا اور بولا- يہ عورت تمہيں یہ سب باتيں کيوں بتاديتی ہے- پھر کمال نے نیلوفر پرغصہ کی حالت میں مجھ سے نیلوفرکے متعلق کچھ باتیں خود بولیں- - - - - - - - کمال کو ذرا بھی شک نہيں ہوا کہ يہ سب باتيں ميں کيوں کر رہا ہوں- (کمال نے پہلے کبھی دعوی کیا تھا کہ اس کے پاکستانی پڑوسی کی بیوی بھی کمال کی طرف راغب ہے اور کمال اس کوبھی لائین پر لانے کی کوشش کر رہا ہے)- شاید آپ کے ذہن میں سوال اٹھے کہ کیا کمال کا گھوڑا اصطبل میں جاسکا- یا صرف اصطبل کے دروازے پر ہی ٹکریں مارتا رہا-
پانچ 5 مارچ 1983 ہفتے کو میں طائف چلا گیا جو جدہ سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے- اگلے دن سے ڈیوٹی جوائین کرلی-
دس 10 مارچ جمعرات کو میں جدہ آیا تو نیلوفر نے مجھے دھمکی دینے کے انداز میں کہا کہ اگر آپ نے ارشد کو کچھ بتايا تومیں آپ کو بخشوں گی نہيں-
درحقیقت میں نیلوفر سے کافی ڈرنے لگا تھا کہ اگر اس نے کسی بات پر غصے میں آکر اپنے کپڑے خود پھاڑکر پڑوس میں سعودی کے گھر جاکرمجھ پر دوبارہ دست درازی کا الزام لگا دیا- تو کوئی بھی میری بات کا یقین نہیں کرے گا اور میں سعودی جیل میں بہت سے سالوں تک کے لئے سڑا دیا جاؤں گا- اس جاہل عورت نے کبھی کالج کی شکل نہیں دیکھی مگر مکروفریب میں پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا-
ڈبل کراس- اب نیلوفر نے مجھ سے ڈبل گيم کھیلنا شروع کردیا- کہ شعیب اب اس کے پیچھے پڑ گۓ ہیں- اور وہ ان کو باتوں میں شامل کرکے پچھتارہی ہے- لیکن درحقیقت وہ میرے پیٹھ پیچھے میری باتوں کو شعیب سے توڑ موڑ کر بیان کرتی رہی- وہ اب پبلک پراپرٹی بن چکی تھی-
سترہ 17 مارچ 1983 جمعرات کی صبح کو میں نے طائف سے نیلوفر کو فون کیا- جب میں نے نیلوفر کو فون کرکے کہا کہ مجھے مونا اور ندا بہت یاد آرہی ہیں تو وہ کھلکھلا کے ہںسی اور بولی " اور کون کون یاد آرہا ہے"- اس کا اشارہ فخریہ اپنی طرف تھا کہ دیکھا کیسا پچھاڑا- (نیلوفر کی اس دن کی زہریلی ہںسی سوچ کر آج بھی مجھے طیش میں لے آتی ہے)- میں نے نیلوفر کو مونا اور ندا کا اس لئے واسطہ دیا کہ وہ اس لحاظ میں شعیب کو وہ باتیں نہ بتائے جو میں اس کو ضمیرشاہ کی اور دوسرے لوگوں کی برائیاں ارشد کو اجھا ثابت کرنے کے چکر میں بتا چکا تھا- میں اپنے آپ کو بلیک میل ہوتا ہوا محسوس کرتا تھا- شام کوجب میں جدہ ارشد کے ہاں ایک دن کے لئے آیا تو نیلوفر نے یہ گانا ٹیپ ریکارڈر بر کوئی پاںچ چھ دفعہ لگایا- کیوںکہ یہ گانا کمال کو بے حد پسند تھا- ارشد گھر پر ہی تھا- اور وہ بے وقوف کچھ نہيں سمجھ رہا تھا- جبکہ نیلوفر اپنی دانست میں مجھے سلگا رہی تھی-
دوری نہ رہے کوئی- آج اتنے قريب آؤ- ميں تم ميں سما جاؤں- تم مجھ ميں سما جاؤ-
نیلوفر کی دلیری اور بے شرمی کی آپ کو تعریف تو کرنا ہوگی- وہ اس طرح سے کہ جب بھی نیلوفر آپ کے گھر آیا کرے تو آپ یہ گانا ضرور باربار سننے کو لگایا کریں- ارشد بھی خوش ہوگا-
جمعہ کی شام 18 مارچ کومیں واپس طائف آ گیا-
چوبیس 24 مارچ 1983 جمعرات کی شام کو میں پھر طائف سے جدہ ارشد کے ہاں آیا- میں تمباکو کے بزنس کو ختم کرنے آتا تھا- رات میں ارشد نے مجھ سے روکھے لہجے میں پوچھا کہ تم ہر جمعہ کو کیوں آجاتے ہو- میں نے ارشد کو اپنے اور کںول کے لو لیٹرز دکھانے چاہے- کیوںکہ اس وقت ارشد ان ہی تعلقات کا راز افشا ہونے پر مجھے گھر سے نکلنے کا کہہ رہا تھا- توارشد نے جواب دیا کہ جب اللہ چھپارہا ہے تو تم کیوں ظاہر کر رہے ہو- یہ توایک سال بعد خود ارشد نے بتایا- کہ وہ میرے بریف کیس کے نمبروں والے دو تالے کسی طرح سے کھول کر پہلے ہی (نومبر1981 میں) سارے لو لیٹرز پڑھ چکا تھا- (واہ ری منافقت)- میں نے پھرکچھ وضاحت کرنی چاہی- تو ارشد نے کہا- مجھے کوئی بات نھیں سننی ہے- کیوںکہ شعیب پیجھے سے پھوںک بھر رہے تھے-
پچیس 25 مارچ 1983 جمعہ کی صبح شعیب نے بھی مجھے گھر سے مکمل طور سے نکلنے کو کہا- شام تک میں نے گھر میں رکھی ہوئی بقایا تمباکو اونے پونے داموں میں سیلز مین سے بکوائی- شام کو ارشد نے اپنی گاڑی کی چابی مجھے دے کر نیلوفر کو حسیب صاحب کے ہاں چھوڑنے کا کہا اور خود شعیب کے ساتھ کہیں چلا گیا-
چھبیس 26 مارچ 1983 ہفتہ کی صبح میں نے نیلوفر سے کافی گفتگو کی- "اس دن کے متعلق جب وہ جنسی جذبات میں بے قابو ہو رہی تھی- جب وہ گڑگڑا کر رکنے کا کہہ رہی تھی اور مجھے گھر سے بھاگنا پڑگیا تھا" – "اس دن کے متعلق جب نيلوفرنے اچانک اپنا الٹا ہاتھ سامنے لاکرہاتھ کی چار اںگلياں ميرے ہاتھ کی چار اںگليوں ميں پھںسائی تھیں- اور مسکرا کرمعنی خیز انداز میں بولی تھی- "ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں"- پھر بھاگ کرکچن کے در پرراستہ روک کرکھڑی ہوگئی تھی- اور خود سپردگی کی حالت ميں آغوش ميں آنے پر تلی بيٹھی تھی"- اس دن کے متعلق جب میں نے نيلوفر سے کہا تھا کہ وہ کمال کو چھوڑدے تو میں بھی اب اس گھر سے چلا جاؤں گا- کيوںکہ اب ہم دونوں کے درميان جھجھک ختم ہو گئی ہے- جب میں نے نیلوفر کو یہ باتیں یاد دلا کر کہا کہ اگر میری نیت خراب ہوتی تو بار بار مزاحمت کیوں کرتا- تو اس پر نیلوفر نے جواب دیا کہ آپ نے سوچا ہوگا کہ بعد میں ۔ ۔ ۔ ۔ (ریکارڈڈ)- پھر میں نے نیلوفر سے یہ بھی پوچھا کہ شعیب کو میرے اپنے گھر میں آنے پر تو اعتراض ہے لیکن سب کچھ جانتے ہوئے بھی کمال کے یہاں آنے پر کیوں اعتراض نہیں ہے- تو نیلوفر تنک کے بولی کہ یہ تو آپ شعیب بھائی سے ہی پوچھئے- (نیلوفر کو اس کی دلیری پر سات سلام)- اصل معاملہ یہ تھا کہ طائف جاب پر جانے کے بعد میں جب بھی ارشد کے ہاں آنا چاہتا تھا، تمباکو کا کام ختم کرنے- تو نیلوفر کو ایک دن پہلے فون کرکے بتا کے آتا تھا، تاکہ وہ شعیب کو بلالے- یہ میں مزید الزامات کے ڈر سے اس لئے احتیاطی تدبیر کرتا تھا- کہ نیلوفر اور جھوٹے الزامات نہ لگادے- نیلوفر شعیب کو فون کرکے بتادیتی تھی- اور شعیب اپنی دانست میں انتقامآ مجھے سلگانے کے لئے کمال کو بھی فون کرکے ارشد کے گھر پر بلالیتے تھے- کیوںکہ ارشد کی محبت میں، میں ضمیرشاہ کی ماں کی اس کوکسی لڑکی کے ساتھ غلط کام کرتے ہوئے پکڑنے کی بات نیلوفر کو بتا چکا تھا جو شعیب نے مجھے بتائی تھی اور مجھے نہیں بتانا چاہیے تھا- نیلوفر نے وہ بات ضمیر کو بتادی تھی- جس کی وجہ سے ضمیرشاہ اور شعیب میں جھگڑا ہو گیا تھا اور بات چیت بند ہو گئی تھی- تو جب میں ارشد کے ہاں زیادہ تر شام میں پہںچتا تھا- تو کمال اور شعیب کو اور لوگوں کے ساتھ میرے ہی کمرے میں تاش کھیلتا ہوا پاتا تھا- تو میرا خون کھول اٹھتا تھا- کہ کمال مجھے میرے ہی گھر سے نکلوا کرمجھے میرے بہترین دوست سے لڑوا کر اسی کے ساتھ میرے ہی کمرے میں بیٹھ کر تاش کھیل رہا ہے- ارشد کو آخرت میں شعیب سے ضرور اس بات کا شکوہ کرنا چاہیے- بہرحال انتہائی تجربہ کار نیلوفر کے اس طرح سے دھوبی پاٹ مارنے سے کمال اور نیلوفر کی لاٹری نکل آئی تھی- جب میں نے اس کے باوجود پھرنیلوفر کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ انتہائی غصہ سے بولی کہ کیا آپ ہمیں اور کمال کو خوش نہیں رہنے دے سکتے- کاش وہ کہتی کہ آپ ہمیں اور ارشد کو خوش رہنے دیں- میں نے نیلوفر سے غصہ میں کہا کہ میں آپ سے نفرت کرتا ہوں- تو نیلوفر نے جواب دیا کہ اگر یہ سب کچھ میں (کمال کے بجائے) آپ سے کرتی تو آپ کوافسوس نہيں ہوتا- میں نے اسی وقت اس کی بات کی تردید کری- مگر مجھے اس کی ذہينيت پر افسوس ہوا- وہ اپنے ہی آئینے میں دنیا کو دیکھتی تھی- یہاں مجھے یہ بتانے میں کوئی عار نہیں کہ اگرچہ اس کا حوصلہ توڑنے کے لئے اور اس کی کوئی بھی غلط فہمی دور کرنے کے لئے میں نے اسے کہا کہ میں اس سے نفرت کرتا ہوں- لیکں میرے دل میں اس پورے خاندان کے لئے اس کے الزام لگانے کے باوجود بہت محبت تھی- ورنہ اپنے اوپر الزامات آنے کے باوجود میں بیالیس سال تک اپنی زبان کیوں بند رکھتا-
ستائیس 27 مارچ 1983 اتوار کو شعیب مجھے طائف چھوڑنے خود گئے- راستے میں شعیب نے مجھے نیلوفر کو ان کی باتیں بتانے پرکہا کہ اگران کی بہن بھی ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرتیں- تو وہ اس کی اجازت انہیں کبھی نہیں دیتے- ( لیکن جب نیلوفر نے میرے ماضی کی باتیں سچ میں جھوٹ ملا کرشعیب سے کہیں- اور مجھے شعیب کے ساتھ مل کر گھر تک سے نکلوادیا- اس وقت تو شعیب کو میرے ذاتی معاملات کا خیال نہیں آیا)- شعيب نے کہا کہ اگرتم نیلوفر کو وہ بات نہيں بتاتے جو صرف ميرے اور تمہارے درميان کہی گئی تھیں- تو ميں سمجھتا کہ يہ عورت ميرے دل ميں تمھارے لئے نفرت بٹھانے کی کوشش کررہی ہے- ميں نے جواب ديا کہ ميں نے اپنی برائی بھی تو کردی تھی، ارشد کی اچھائی کو اجاگر کرنے کے چکر ميں- اس حقیقت پر وہ خاموش ہوگئے- میں نے شعیب کو یہ نہیں جتایا کہ اگر میری نیت نیلوفر کے لئے واقعی خراب ہوتی- تومیں شعیب کی وہ باتیں نیلوفر کو بتا کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی نہیں مارتا- اتنا بے وقوف میں ہرگزنہیں تھا- کاش نیلوفرشعیب کی یہ راز کی بات شعیب کو میرے خلاف کرنے کے لئے نہ بتاتی- باقی سب کچھ وہ بے شک بتادیتی- اگر وہ شعیب کو شعیب کی یہ بات نہ بتاتی تو آپ کو یہ داستان پڑھنے کو نہ ملتی- میں کبھی بھی کئی دوسرے لوگوں کے راز افشا نہ کرتا- شعیب نے ایک اورطنزبھی کیا کہ سنا ہے فلاں کی بھابھی ایک چالو عورت ہے- یہ جھوٹی بات بھی نیلوفر نے شعیب کو لگائی تھی-
کچھ دن پہلے جب نیلوفر مجھ سے اپنی سوتیلی چھوٹی بہن کی معصومیت کی تعریف کر رہی تھی- تو مجھے یہ شبہ بھی ہوا تھا- کہ شاید وہ مجھے اپنی بہن کے لئے پروپوز کررہی تھی- اور میرے مثبت جواب نہ دینے پر اس نے غصہ میں مجھ پر الزام لگادیا ہے- تو میں نے نیلوفر سے اسی شبہ میں بعد میں اس کی بہن کے لئے مجبورآ حامی بھری- نیلوفر نے شعیب کو یہ بات بھی بتائی توشعیب نے مجھے پھر لتاڑا کہ ایک تو تم بدکار ہو- دوسرے وہ چھوثی ہے – اس کے علاوہ تمھارے باپ کی مالی حالت کا سب کو پتہ ہے-
شعیب نے کہا جب تم نے نیلوفر سے کمال کے سابقہ افئیرز کی بات بتائی تھی تو مجھے شبہ ہو گیا تھا کہ تم میرا راز بھی کھولوگے– ( جبکہ خود شعیب بھی ماضی میں میرے سامنے اپنے کئی دوستوں کو ننگا کر چکے تھے)- میں نے شعیب سے کہا کہ جو دوستی ٹوٹ جاتی ہے وہ دوستی نہیں ہوتی- دوستی نہ توڑیں- تو شعیب نے جواب دیا کہ سعودی عرب کی دوستی بھی کيا دوستی ـ (ليکن پيںتيس سال کے بعد ميرے ياد دلانے پہ کہا کہ وہ غلطی پہ تھے)ـ میں نے روتے ہوئے شعیب سے کہا کہ میں اس پوزیشن میں ہوں کہ اگر سچ بولتا ہوں تو پھنستا ہوں اوراگر جھوٹ بولتا ہوں تو پھنستا ہوں- (میری نیت پر شبہ نہ کریں)- لیکن انہوں نے میرا کوئی عذراس وقت قبول نہیں کیا-
کان میں روئی
میری مزید اپنی نیک نیتی کی وضاحت پر شعیب بولے کہ مان لیتا ہوں وہ عـورت رنڈی ہے- اور گلو کمپارٹمنٹ سے کاٹن بال نکال کر اپنے کانوں میں روئی ٹھوںس لی- توميرے دل سے ايک آہ نکلی کہ اے اللہ اس شخص کو بہرا کردے- شعيب کو ميں نے آخری عمر ميں آلہء سماعـت لگاتے ديکھا-مجھے شرمندگی ہوئی جب شعیب نے تمثیلآ نیلوفر کے لئے لفظ رنڈی استعمال کیا- کیوںکہ میں بہرحال اس وقت تک ارشد کی فیملی کا احترام کرتا تھا-
تین 3- ا پریل 1983 اتوار کو میں پھر جدہ دو دن کے لئے باقی ماندہ تمباکوبیچنے آیا- سیلز مین اعجاز کا حساب کتاب بھی فارغ کرنا تھا- مگرظاہرہے ارشد کے ہاں نہیں ٹہرا- میں نے بقایا تمباکو اونے پونے داموں میں بیچ دی- کچھ پیٹیاں ادھار ادائیگی کے وعد وں پر اور کچھ مفت میں دے دلا کر کرائے پر لیا ہوا گودام خالی کردیا اور یوں میرا بزنس مکمل طور پر اجڑ گیا- پاکستان میں مزید ساٹھ 60 ٹن تمباکو تیار پڑی تھی- اس کو بھی نقصان سے ٹھکانے لگانا پڑا-
سات 7- اپريل جمعرات کو ميں پھر شعيب کے ہاں گيا- جب ميں نے شعيب کو آخرکاربتايا کہ نيلوفرنے مجھ سے سيکس پر باتيں کی ہيں تو ان کی ساری ہوا نکل گئی– کیونکہ وہ ان واقعات سے بہت پہلے ہی اس قسم کی عورتوں پر تبصرہ کرچکے تھے کہ کس قسم کی عورتیں اپنے بیڈ روم کی باتوں کا ذکر نامحرم مردوں سے کرتی ہیں اور کیوں کرتی ہیں- پھر بھی انہوں نے کہا کہ تم نے کریدا ہو گا- حالاںکہ بہت پہلے میں نے خود ان سے بوچھا تھا کہ یہ عورت (نیلوفر) کیوں مجھے ساری باتیں بتاتی ہے- جس کا جواب انہوں نے یہ دیا تھا کہ شاید احساس جرم کی وجہ سے- (میں کوئی کیتھولک پادری توتھا نہیں کہ لوگ اپنے گناہ بخشوانے کے لئے مجھے اپنے جرم سنائیں- کہ ہولی فادر - - - - - - )- پھرشعیب نے پینترا بدلا- اورمجھے پچکارتے ہوئے کہا کہ اگر تم چپ رہوگے تو اس عورت کے کچھ سال اور گزر جائیں گے– - - - - - میں نے شعیب سے کہا کہ اگر ایک کمزور سی بلی کو کمرہ بند کرکے مارا جائے تو وہ بھی آخرکار کوئی راستہ نہ پاکر مارنے والے پرجھپٹ پڑتی ہے- شعیب نے کہا کہ تم یہ سمجھ لو کہ یہ تمہارے پچھلے اعمال کی سزا ہے- میرا عورتوں پر سے اعتبار اٹھنے کا سن کر شعیب بولے کہ اگر تم کو دو عورتيں بری ملی ہيں (نیلوفر اور کںول)- تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری عورتیں ایسی ہیں-
آٹھ 8– اپریل جمعہ کو میں نے ارشد کے گھر سے باقی ہلکا پھلکا سامان اور کپڑے اٹھاۓ- اپنی کمپیوٹرائزڈ واشنگ مشین ارشد کو گفٹ کردی - شعیب کا رویہ میرے ساتھ کچھ بہتر سا محسوس ہوا- مجھے ان واقعات کی وجہ سے پھر کوئی ایک درجن واقف کاروں کو چھوڑنا پڑ گیا- کہ اگر انہوں نے شعیب اور ارشد سے تعلقات ٹوٹنے کی وجہ پوچھی تو میں ان دونوں کی محبت میں کچھ نہیں بتا پاؤں گا-
ان دنوں میرے اوپر انتہائی بے بسی کا عالم تھا- ان دنوں کو یاد کرکے میں آج بھی رو سکتا ہوں- کاروبار برباد ہوگیا- گھر چھوٹ گیا- دوست اور واقف کار چھوٹ گئے- سعودی عرب سے بھاگ جانا چاہتا تھا- لیکن بیںکوں نے اورسعودی کفیل نے جکڑ رکھا تھا- والد اور گھر والے سخت پریشان تھے- میں موت کی دعائیں ماںگآ کرتا تھا- راتوں میں بدروح کی طرح سے باہر پھرتا تھا- ان حالات اور پریشانیوں پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے-
شعیب ماہر نفسیات
شعیب نے کہا کہ اگر میں انجینئیر نہ ہوتا تو ماہر نفسیات ہوتا- (ہائے رے میری قسمت- اپنے مںہ میاں مٹھو)- شعیب کی خودساختہ نفسیات کا ماہر ہونے کی دعويداری نے میرا بیڑا غرق کردیا- نفسیات کے علم کا ماہرہونے کا دعویدار ہونے کے باوجود، محبت کی شادی کے بعد بھی نہ ان کی اپنی بیوی سے نبھ سکی، نہ بیٹے سے اور نہ اپنے انتہائی قریبی دوست سے- شعیب ایک ناکام شوہر، ناکام باپ اور ناکام دوست ثابت ہوئے- وہ ارشد تک سے بھی اپنی دوستی کے بعض تقاضے پورے نہ کرسکے- لیکن ارشد کی اپنی بیوی سے اندھی محبت کی طرح میں نے بھی شعیب سے ان کی آخری ساںس تک اپنی اندھی محبت میں کمی نہ آنے دی اور آج بھی ميں ان کے لئے بڑا دکھ محسوس کرتا ہوں-
13 – اپریل 1983 بدھ کو ارشد کا ٹرانسفرکمپنی کی طرف سے عارضی مدت کے لئے مدینہ منورہ ہوگیا اور وہ فیملی کے ساتھ وہاں چلا گیا-

جون 1983 ميں زاہد سے میں نے پوچھا-
نیلوفر نے مجھے زاہد کے متعلق بتایا تھا کہ زاہد نے گندے ننگے فوٹو دکھانے کے بعد اس پر دست درازی کے لئے حملہ کیا تو نیلوفر نے کھيںچ کر لات ماری- میں نے سوچا کہ بات کجھ جمتی نہیں ہے- کیوں کہ میرے ساتھ توخود نیلوفر دو دفعہ دو موقعوں پر بے قابو ہوچکی تھی- میں نے نیلوفر سے کہا تھا کہ غلطی تو آپ کی بھی ہے کہ آپ نے کیوں وہ فوٹو دیکھے- تو نیلوفر نے جواب دیا- کہ میں مانتی ہوں کہ وہ میری غلطی تھی- نیلوفر مجھے پہلے بتاچکی تھی کہ اپنے شوہر ارشد کے بلیو فلم دکھانے پر نیلوفر کو الٹی آتی تھی- ( لیکن زاہد کے ساتھ گندے فوٹو دیکھنے پر نیلوفر کو الٹی نہیں آئی- یہ بات بھی کجھ جمی نہیں)-
میرے ذہن میں کئی سوالات آئے- کیا زاہد پر نیلوفر نے جھوٹا الزام لگایا تھا- کہ زاہد بھائی نے نیلوفر کو نںگے فوٹو دکھانے کے بعد نیلوفر سے پوچھا کہ کیا آپ کو کچھ ہو رہا ہے- پھر دست درازی کے لئے جھپٹے تو نیلوفر نے کھیںچ کر لات ماری-
کیا یہ آنآ فانآ اچانک ہو گیا یا اس سے پہلے کچھ اور واقعات چلتے رہے-
اگر یہ سچ ہے تو زاہد کی سعودی عرب جیسی جگہ پر اپنے بھائی کی بیوی کے لئے ایسی ہمت کیسے پیدا ہوئی- کیا زاہد نے نیلوفر کی کوئی بات پکڑلی تھی-
کیا زاہد نے نیلوفر کو ٹریپ کیا یا نیلوفر نے زاہد پر اپنا کوئی افئیر چھپانے کے لئے جال پھیںکا-
اگر نیلوفر کی کوئی بات پکڑی گئی تو نیلوفر کو زاہد سے اپنے اوپر دست درازی کروانے کے لۓ کتنے جتن کرنے پڑے-
بعد میں، میں نے سوچا کہ کیا زاہد کوکسی بات پر بلیک میل کرنے کے لئے نیلوفر کو اپنے اوپر زاہد سے دست درازی کروانے کے لئے جتن کرنے پڑے تھے- جب شرمگاہ شرپر اتر آئے تو شکارگاہ بن جاتی ہے- زاہد تو ارشد کا بھائی ہے- بےشک کزن سہی لیکن ہے تو بھائی اور وہ بھی نمازی- اصل واقعہ کیا ہوا- یہ صرف زاہد ہی بتا سکتا تھا-
ميں زاہد کے کام کرنے کی جگہ پر زاہد ٹريکٹرز کمپنی ميں صبح کے وقت پہںچا- زاہد کو باہربلوايا- ہم ميری گاڑی ميں بيٹھے- ميں نے بہانہ بنايا کہ باہر سے گرد آرہی ہے- گاڑی کے شيشے چڑھاليں- زاہد نہيں سمجھ سکا کہ ميں گرد کو نہيں بلکہ باہر کی آوازوں کو روکنا چاہ رہا تھا- تاکہ ريکارڈںگ صاف ہو سکے-
نیلوفر نے ضمیر کی ایک بڑی خطاء شعیب اور ضمیر تک پہںچاکران کو میرے خلاف کردیا تھا- میں نے غلطی سے ضمیراور دوسروں کی خطائیں نیلوفر کو سمجھانے کے انداز میں بتائیں تھیں- بعد میں نیلوفر کی سکھائی ہوئی یہی ترکیب استعمال کرتے ہوئے میں نے زاہد کو بتايا کہ نيلوفرنے آپ پر الزام لگايا ہے کہ زاہد بھائی نے پہلے گندے فوٹو دکھائے- پھر آپ دست درازی کے ليے اس کی طرف بڑھے تو اس نے کھينچ کر لات ماری- زاہد نے يہ سن کر بے ساختہ پہلا جملہ يہ کہا کہ وہ بڑی بری عورت ہے- بیک وقت دو دو سے عشق لڑاتی ہے- (کیا کئی پارٹ ٹائم شوہر رکھنے سے بہتر یہ نہیں ہے کہ زیادہ شہوت رکھنے والی عورت دو فل ٹائم شوہر رکھ لے)- پھر زاہد نے نیلوفر کے لات مارنے کی بات پرکہا- کہ کیا ادھر کسی فلم کی شوٹںگ چل رہی تھی-
جب میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفر کے افئیرپرمیرے سمجھانے پرنیلوفر نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے ضمیرشاہ (فرضی نام) کو فون کرکے میرے اوپر بھی الزام لگا دیا- تو زاہد نے خود ہی کمال کا نام لیا کہ نیلوفر کا کمال کے ساتھ افئیر چل رہا ہوگا- میں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے اندازہ ہوا تو زاہد نے بتایا کہ آجکل وہ کمال کی سب کے سامنے بڑی تعریفیں کررہیں ہیں- (عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے)- (نیلوفر نے ضمیر کا غصہ بھڑکانے کے لئے ضمیر کو یہ تک بتادیا تھا کہ ضمیر کو اس کی ماں نے گھر میں ہی کسی لڑکی کے ساتھ غلط کام کرتے ہوئے پکڑا تھا- ماں غیرمتوقع وقت پر جلدی گھر واپس آگئيں تھیں- ضمیرشاہ نے اسی بات پر مشتعل ہوکر شعيب سے اپنے تعلقات ہمیشہ کے لئے ختم کرلئے- کيونکہ یہ بات ضمیر نے صرف شعیب کو بتائی تھی جو شعیب نے مجھے بتادی تھی- درحقیقت اسی بات پر شعیب میرے خلاف ہوگئے اور مجھ سے کئی سالوں تک کے لئے اکھڑ گئے- جب نیلوفر مجھ سے بولی تھی کہ وہ اناڑی نہیں ہے کہ ارشد کو اس کے کمال کے ساتھ افئير کا پتہ چل جائے- تو میں نے تںبيہ کے طور پر اس کو بتایا تھا- کہ جب ضمیرشاہ جیسا عقلمند شخص پکڑا گیا تھا تو وہ بھی پکڑی جاسکتی ہے- جس پر ارشد اس کو چھوڑ دے گا)-
زاہد نے جب طعنہ مارا کہ يہ اپنی ماں کے نقش قدم پر چل رہیں ہیں- تو مجھے احساس ہوا کہ بيٹی کی حرکتوں پر ماں بدنام ہو رہی ہے-
زاہد نے بتایا کہ آپ سے پہلے جو لڑکے ارشد کے ساتھ رہتے تھے (سليم اورڈ ڈن ) انھوں نے ارشد کے ہاں سے نکلنے کے بعد ميرے بڑے بھائی ہاتف کو جاکر بولا تھا کہ ہاتف ہم اس عورت کو صرف تیری وجہ سے چھوڑ رہے ہیں ورنہ اس کے بلیو پرنٹس بنا کر اسے ساری زندگی ذلیل کرتے- (زاہد کی اسی بات پر مجھے فيصلہ کرنا پڑا کہ نیلوفر کو روکنا ضروری ہے کيوںکہ ارشد بيٹيوں والا ہے- ورنہ نيلوفر کا حوصلہ بڑھنے پر آئيندہ کبھی بات خون خرابے تک بھی پہںچ سکتی ہے)- خود مجھے بھی اتنے سال ضبط کرنے کے لئے آگ کے پہاڑ پہ سے گزرنا پڑا ہے- زاہد کی اس بات پر مجھے ایک گروپ کا پتہ چلا- جو پیسوں کے عوض واقعی یہ کام کرتے تھے- عجیب بات یہ ہے کہ اغوا کرکے بلیوپرنٹس بنانے کے ریٹ مارڈالنے کی بہ نسبت دوگنے تھے- اس کے علاوہ ریٹ علاقے اورسوشل اسٹیٹس کے مطابق مختلف ہوتے تھے- ایک اورعجیب بات سن کرآپ ہںسیں گے- اس گروپ کا ایک گرگا حج کرنے چلاگیا- واپس آکر اس نے اپنے باس کو آگاہ کردیا کہ وہ اب یہ کام نہیں کرے گا- کیوںکہ اس نے توبہ کرلی ہے- = نوسو چوہے کھاکر بی مانو حج کو چلیں- =
زاہد نے کہا آپ شام کو میرے گھر آئیں تو آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا- ميں شام کو زاہد کے گھر پہںچا- زاہد کی اپنی طرف کی کہانی کے علاوہ 53 منٹ کی گفتگو ميں سے کچھ اقتسابات پيش خد مت ہيں- زاہد نےاس گفتگو ميں اپنے بھائی کی بيوی کو خوب ننگا کيا- مجھے اندازہ تو تھا کہ زاہد سے کچھ پتہ چلے گا- لیکن اتنا کچھ پتہ چلے گا، یہ اندازہ نہیں تھا- ارشد کو میں نے زاہد کے نیلوفر کے ساتھ کے معاملات کا ہی سوچ کر اشارتآ یہ بات خط میں لکھی تھی کہ "اچھائی اس برائی کا نام ہے جو چھپی ہوئی ہو"- لیکن ارشد سمجھ نہیں سکا-
زاہد نے سب سے پہلے يہ کہا کہ ارشد کو کچھ نہ بتائيں وہ آپ کی باتوں پريقين نہيں کرے گا- اورآپ کا دشمن ہو جاۓ گا-
زاھد نے کہا کہ سليم اور ڈ ڈ ن تو ارشد کو"ننھا" کہتے تھے- يونس اور ملک سرفراز کو بھی ساری کہانياں پتہ ہيں اور وہ بھی ارشد کو "ننھا" کہتے ہیں- (ملک سرفراز گجراںوالہ سے جدہ پہںچا تھا)-
میں نے زاہد کو بتایا کہ میرے پاس ثبوت ہیں- زاہد بولا کوئی فائدہ نہیں- آپ اگر ارشد کو اسکی بیوی کے بلیو پرنٹس بھی دکھادیں گے جب بھی وہ کہے گا میری بیوی بڑی بھولی ہے- (زاہد نے کيا خوب کہا تھا- درحقیقت بعد ميں ارشد نے بليو پرنٹس سننے کے باوجود بھی يہی کہا- کہ نیلوفر بيوقوف تو اتنی ہيں کہ مذاق کو حقيقت سمجھتيں ہيں- واہ رے ارشد ننھا= مجھے، کمال، شعیب اور ارشد چار مردوں کو بیک وقت بے وقوف بنانے والی عورت کو ارشد، بےوقوف کہہ رہا تھا)- اگر ارشد ایسا نہیں ہوتا تو نیلوفر بھی ایسی مکاری نہیں کیا کرتی- (اس جاہل عورت نے کبھی کالج کی شکل نہیں دیکھی مگر مکروفریب میں پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا)- (ايک مکارعورت اپنی سے دگنی عمر کے مرد کو تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے- جب نیلوفر نے میرے زیادہ عمر والے دوست کے سامنے ڈگڈگی بجانی شروع کی- تو وہ شخص اس کے اشاروں پر بندر کی طرح ناچنے لگا)- ميں نے بعد ميں بار بار سنا کہ زاھد نے کيآ کہا تھا کہ ارشد "کہے گا" يا "سمجھے گا" کہ بيوی بڑی بھولی ہے- زاھد نے درحقیقت کہا تھا کہ" جب بھی وہ کہے گا کہ ميری بيوی بڑی بھولی ہے"-
زاہد نے بتایا کہ ا رشد بھاگ جاتا ہے– ارشد کو سب پتہ ہے کہ اس کی بیوی کیسی ہے- ميں نے بعد میں بار بار سنا کہ زاھد نے کيآ کہا تھا کہ ارشد "بھاگ جاتا ہے" (بار بار)- یا "بھاگ گیا تھا" (ایک بار)- زاہد نے کہا تھا کہ "ارشد بھاگ جاتا ہے"- زاہد کے یہ کہنے پر کہ ارشد سننے سے بھاگ جاتا ہے، میں نے زاہد سے ڈھکے چھپے لفظوں میں پوچھا کہ ارشد کی بیوی یہ سب کچھ بلا خوف بار بار جو کںوارے لڑکوں سے آشنائی کرتی ہے تو کہیں اس میں ارشد کی اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے اسکی اپنی نیم رضامندی بھی تو نہیں شامل ہوتی ہے- تو زاہد نے ہںس کر جواب دیا کہ اپنی شادیوں سے پہلے ہم دونوں ایک دوسرے کو چھیڑا کرتے تھے– "تیری بیوی میرے ساتھ – نہیں تیری بیوی میرے ساتھ"– (بہوت يارانہ تھا)- (پاکستان میں اس فعل کے کئی نام ہیں- ادلا بدلی، ڈبل پلیژر، ایک ٹکٹ میں دو مزے، جوائینٹ فیملی سسٹم، اوپن میرج، ٹو ان ون)-غالبآ اسی وجہہ سے زاہد نے اپنی شادی کے بغد شروع شروع میں اپنی بیوی کا ارشد سے پردہ کرایا تھا-
زاہد نے بتايا کہ ان لڑکوں نے نيلوفر کا نام " ثريا بھوپالی" رکھ دیا تھا کیوںکہ نیلوفر ان لڑکوں کوبتاتی تھی کہ اس کے گھر والے بھوپال سے ہیں- (سورما بھوپالی رکھنا چاہیے تھا)-
جب ميں نے زاہد سے کہا کہ نيلوفر کو ارشد کے ساتھ بيٹھ کر بلیو فلم ديکھنا پسند نہيں ہے- ارشد کو منع کريں- تو زاہد نے کہا کہ ارشد کو اپنی بيوی کے ساتھ بليو فلم نہيں ديکھنا چاہيے- يہ بہت ہی غلط بات ہے- (میں نے سوچا کہ لیکن زاہد کے خیال میں نیلوفرکا زاہد کے ساتھ بیٹھ کرگندے فوثو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا)-
زاہد نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج رو رہے ہیں کل ہںس ہںس کر دوسروں کو بتائیں گے-
زاہد نے پھر مجھے ارشد کو بتانے سے منع کرتے ہوۓ کہا کہ کیچڑ میں جلنے سے اپنے ہی کپڑے گندے ہوتے ہیں- زاہد کو یہ ڈر بھی ہو گیا تھا کہ اگر میں نے ارشد کوبتایا تو کہيں اس کی بات بھی نہ کھل جائے-
زاہد نے کہا کہ ایک دن یہ عورت ارشد کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے گی- (زاہد کی ساری باتوں ميں سے صرف ایک يہ بات غلط ثابت ہوئی)-
جب میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفر نے کہا کہ وہ کمال کی شادی اپنی چھوٹی بہن سیما سے کرنا چاہتی ہیں تو زاہد ہںس کر بولا تو کیا وہ پہلے کمال کا خود ٹرائی لے رہی ہیں- جيسے ٹيلر سوٹ کو پہنا کر ٹرائی ليتے ہيں-
زاہد نے بتايا کہ نيلوفر ميری طرح اس کو بھی اپنی خوش فہمی ان ہی الفاظ ميں بتا چکی ہے کہ "جو بھی مجھے ديکھتا ہے ميرا عاشق ہو جاتا ہے"- (نیلوفر اپنے آپ کو الزبتھ ثیلر سمجھتی تھی اور بیثی قلوپطرہ)-
زاہد نے بتايا کہ سليم تو انتہائی خوبصورت خوبصورت لڑکياں گھر لے کر آيا کرتا تھا- برے کام کے لئے– زيادہ تر ائر ہوسٹس ہوتی تھيں– (بعد ميں ڈ ڈ ن نے بھی اس بات کی تصد يق کی)-
زاہد کوميں نے بتايا کہ نيلوفر کمال سے اپنے تعلقات کی وجہ یہ بتاتی ہے کہ ارشد اس کو مطمئين نہيں کرپاتے ہيں- توميں نے اس کے جواب ميں نيلوفر کو کہا کہ اگر يہ بات ہے تو آپ کا شرعئی حق ہے کہ آپ کہيں اور شادی کرليں ليکن غلط کام نہ کريں- تو نيلوفر نے جواب ديا کہ مجھ سے کون شادی کرے گآ- ميں نے کہا کہ کمال کرلے گا- تو نيلوفر بولی کہ کمال کہہ چکا ہے کہ وہ نيلوفر سے شادی نہيں کرسکتا- زاہد ہنسا اور بولا کہ سلیم بھی نيلوفر سے کہا کرتا تھا کہ تم ارشد کو چھوڑ دو- میں تم سے شادی کرلوں گا-
زاہد نے بتايا ڈ ڈ ن کا نام حسن پرویز ہے اور اس کی بندر روڈ پہ آٹو رپئیر شاپ ہے _ _ کے نام سے-
جب میں نے زاہد سے پوچھا کہ ارشد کی بیوی کا یہ سب زبانی جمع خرچ ہے یا بات آگے تک جاتی ہے تو زاہد نے کہا- بد اچھا بدنام برا- جب ارشد نیلوفر سے شادی کرنا چاہتا تھا تو کسی لڑکے نے آکرمیرے بھائی ہاتف کو بولا تھا کہ اپنے بھائی سے بولو کہ يہاں شادی نہ کرے- ہم اس عورت کے ساتھ سب کچھ کر چکے ہیں- (وارنںگ :- اسلام میں آپ کسی پر ایسا الزام نہيں لگا سکتے جب تک چار راست گو مسلم گواہ عدالت میں گواہی نہ دے ديں کہ انہوں نے بغیر کسی رکا وٹ یا آڑ کے، سرمہ اور سرمہ دانی والا معاملہ خود اپنی آںکھوں سے صاف طور سے دیکھا ہے)- یہ پژھنے والے اس بات کا یقین نہ کریں- یہاں لکھنے کا مطلب صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ زاہد کے خیالات اپنے بھائی کی بیوی کے لئے کیسے تھے اور وہ ان باتوں کو چھپا نہ سکا- اور ان سب باتوں کے باوجود میرے بعد وہ دوبارہ ارشد کے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنے چلا گیا- اپنی بیوی کا زاہد اس سے پہلے ارشد تک سے پردہ کرایا کرتا تھا- شاید زاہد کی نظر میں یا تو شریعت بدل گئی تھی یا بیوی پرانی ہو گئی تھی- (یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ زاہد نے جس بھائی کی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر نںگے فوٹو دیکھے- شادی کے بعد اسی بھائی سے شروع میں اپنی بیوی کا پردہ کرایا)-
زاہد نے شعيب پربھی شک ظاہرکيا- اور ميرے سختی سے ترديد کرنے کے باوجود زاہد نے يقين نہيں کيا اور کہا کہ آپ کچھ بھی سمجھيں ليکن شعيب کی نيت خراب ہوگی- (اگر شعیب کو زاہد کی یہ بات پتہ چل جاتی تو زبردست جھگڑا پڑ جاتا)-
زاہد بولا کہ سب کو افسوس تھا کہ ارشد اپنی سے بڑی عمر کی عورت سے شادی کر رہا ہے- (مجھے پہلی دفعہ یہ بات زاہد سے ہی پتہ چلی کہ نیلوفر عمر میں ارشد سے بڑی ہے)-
زاہد نے یہ بھی کہا کہ نیلوفر اس کی بیوی سے بولی تھی کہ زاہد پہلے میرے پیروں کو غور سے دیکھا کرتے تھے- (پیروں کی خوبصورتی کو تکا کرتے تھے)-
زاہد نے مجھ پر احسان جتانے کی کوشش کی کہ ارشد سے میں نے ہی آپ کی سفارش کی تھی کہ اس کو اس گھر میں کرایہ دار رکھ لیتے ہیں- یہ ٹھیک شخص لگتا ہے-
زاہد نے يہ بھی کہا کہ ميں تو مرد ہوں- يہ عورت مجھ پر کسی اورکے سامنے الزام لگا کے تو ديکھے-
زاہد سے دوستياں خراب ہونے کی بات کی تو زاہد نے کہا کہ لوگ مر بھی تو جاتے ہيں ـ زاہد نے کسی حد تک ٹھيک کہا تھا - درحقيقت مرنے پر صبر آجاتا ہے ليکن کسی کے قتل پہ صبر نہيں آتا- ميرا تو قتل ہوا تھا، شخصیت کا قتل- زاہد کو اپنی فکر پڑگئی تھی کہ اگر بات آگے بڑھی تو کہيں اس کی بات نہ کھل جاۓ- جو نيلوفر نے مجھے بتائی تھی کہ زاہد بھائی نے اسے گندے فوٹو دکھانے کے بعد (اپنے بھائی کی بيوی نيلوفر پہ) دست درازی کی کوشش کی تھی ـ یہ بات کھلنے پر زاہد نے اتنا کچھ نیلوفرکے پچھلے افئیرز کی باتیں مجھے بتائیں- کہ میں نے بعد میں سوچا کہ اگر میں زاہد سے یہ باتیں نہ سنتا تو میرے ذہنی سکون لئے شاید زیادہ اچھا ہوتا- لیکن پھر خیال آیا- کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہ معاملات سعودی عرب میں ہوئے- اور میرے ساتھ ہوئے- اگر پاکستان میں کسی اور کے ساتھ یہ عورت کرتی تو یا تو وہ شخص اس عورت کے بھیجے میں گولی اتار دیتا- یا یہ عورت اس شخص کو اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے زہر دے دیتی-
ایک ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر واردات کرتی ہے- لیکن نیلوفر نے ہر اس شخص کو گندہ کیا جو ارشد اور نیلوفر کے ساتھ گھر میں رہا- نیلوفر نے اپنے گھر کو ہی شکارگاہ بنا رکھا تھا- اپنے سسر تک پہ بد نظری کا الزام لگانے سے گریز نہیں کیا-
بہت بعد میں ڈڈن نے مجھے بتایا کہ زاہد تو خوب بڑھ بڑھ کر اس سے اور سلیم وغیرہ سے نیلوفرکے دل پھینک فلرٹی کردار پر باتیں بنایا کرتا تھا- اس کے باوجود جب وہ اپنی غیر شادی شدہ حات میں ارشد کے گھر رہنے کے لئے منتقل ہو گیا تو ڈڈن کو حیرانی کے ساتھ دکھ بھی ہوا-

زاہد نے کہا کہ وہ بڑی بری عورت ہے- بیک وقت دو دو سے عشق لڑاتی ہے
نیلوفر کی سیکس پر باتیں سننے کے بعد اس کو سمحھانے کی غرض سے میرے منہ سے غلط باتیں نکلنے پر اور اس کے بے قابو ہونے کے بعد، الزام کے ڈر سے مجھے اس کو کراہیت کے ساتھ جوکس کرنا پڑگیا تھا- تو زاہد کی بتائی ہوئی باتوں کی بنیاد پر میں نے سوچا- کہ نیلوفر کو زاہد کی باتیں سنا کر اور ڈرا کر میں اس کو ارشد کے سامنے کافی حد تک اپنے خلاف مںہ کھولنے سے روک سکتا ہوں- مگرپھر میں نے سوچا کہ پھریہ ارشد جیسے دوست کے ساتھ میرا ایماندارانہ، منصفانہ اورشفاف معاملہ نہ ہوگا- ارشد کے ساتھ سچ بات ہونا چاہیے- پھر جو ہو سو ہو-
جولائی 1983 ميں ميں جہاز ميں طا ئف سے مدينہ منورہ ارشد سے ملنے گیا- ميں وہاں ہوٹل ميں ٹھيرا تھا- پھر ميں ارشد کے ہاں گیا- کمپنی نے اس کو رہائش کے لئے جس بلڈںگ ميں اپارٹمنٹ ديا تھا- وہ بلڈںگ حرم نبوی کو جانے والی سڑک پر حرم سے صرف کوئی ڈيڑھ سو ميٹر کے فاصلے پربہت ہی قريب تھی- ارشد کا رويہ ميرے ساتھ بہت اچھا تھا – اس نے کہا تم ميرے ہاں ٹہرتے- ہوٹل کيوں لیا- ارشد نے بتايا کہ ميں نے تمہارے گھر سے نکلنے کے بعد سے شعيب سے ملنا چھوڑ ديا ہے- (کيوںکہ شعيب نے تمہاری ماضی کی بات کو بنياد بنا کر گھر سے نکلوايا- حالاںکہ اس معاملے ميں تمہاری غلطی نہيں تھی)- میں نے ارشد سے پوچھا- کہ میری شادی کے بعد ہم دونوں پھر سے ساتھ رہ سکتے ہیں- تو ارشد نے کہا کیوں نہیں- (حالانکہ زاہد کی باتیں سننے کے بعد میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا- میں صرف ارشد کو جانچ رہا تھا)-
ارشد نے بتايا کہ مجھ کو گھر سے نکالنے کا کہہ کر شعيب کو ڈر ہوا کہ ميں شعيب پر الزام نہ لگا دوں اس لئے شعیب نے ارشد سے قرآن شريف مںگوايا اور اس پر ہاتھ رکھ کے کہا کہ وہ نيلوفر کو اپنی بہن کی طرح سمجھتے ہيں- شعيب مجھ پر شک کر رہے تھے کہ ميں ان پرجھوٹا الزام نہ لگا دوں- ارشد نے جب يہ بتايا تو ميں نے غصہ ميں ايک لمحہ کے لئے سوچا کہ کيوں نہ خود نيلوفر کی زبان سے الٹا شعيب پر الزام لگوادوں- کمال اور زاہد کی باتوں کے آڈیوکیسٹ میری جیب ہی میں تھے- ليکن ايک تواس وقت شعيب کے احسان کا جوتا ميری گردن پہ تھا- ميں نے ان سے بھی بزنس کے دوران دس ہزار ريال کا قرض ليا ہوا تھا- سب سے پہلے ميں نے ان ہی کا قرض اتارا- دوسرا مجھے شعيب کی منتقم طبيعت کا بھی پتہ تھا- وہ نیلوفر کے الزام لگانے پرنيلوفرکو نہيں بخشتے اور ميرے لئے ان دنوں ارشد کے گھر ٹوٹنے کا تصور سب سے زيادہ جان ليوا تھا- تھوڑی دير ميں نيلوفربھی کھانا لے کر آگئی- ہم نے لنچ کيا اور گپ شپ کرتے رہے- ارشد کو جاب پرتھوڑی دیر کے لئے جانا تھا وہ معذرت کرکے چلا گيا اور ميں وہيں صوفہ پر قيلولہ کرنے ليٹ گيا- نيلوفرکچن سے سامان اٹھا کر لے آئی اور وہيں ميرے سامنے بيٹھ کر سبزی کاٹنے لگی- کيوںکہ زاہد اس کے کردار کا پردہ چاک کر چکا تھا- اس لئے نيلوفر سے بات کرنے ميں مجھے کوئی دلچسپی نہيں تھی- ميں نیلوفر سے کوئی بات کئے بغیر دوسری طرف کروٹ کرکے سو گيا- وہ کب وہاں سے گئی- مجھے نہيں پتہ چلا- اور دو گھنٹے کے بعد ارشد کے آنے پر اٹھا-
مجھے ارشد کا گھر چھوڑے ہوئے پاںچ ماہ ہو چکے تھے اورارشد کومدینہ منورہ آئے ہوئے تقریبآ چار ماہ ہو ئے تھے- ارشد کا اس بیچ میں کئی دفعہ اپنی فیملی کے ساتھ جدہ جانا ہوا- ہر دفعہ وہ سعید صاحب کے ہاں ہی ایک دو راتوں کے لیے ٹہرتا تھا- جہاں کمال بھی رہتا تھا- نیلوفر کمال کے ساتھ بڑے مزے میں تھی- ایک دفغہ میں بھی سعید صاحب سے ملنے ان کے ہاں چھٹی والے دن پہںچا ہوا تھا جبکہ ارشد اور نیلوفر بھی آئے ہوئے تھے- ارشد کسی کام سے سعید صاحب کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا- نیلوفر نے کمال کے سامنے میرا مذاق اڑایا- (کہ کیسے بازی الٹ دی- کون ہے کھلاڑی)- کمال بھی ہںس دیا اور میرا مذاق اڑایا- اس دن میں نے دل ہی دل میں نیلوفر کو لقب دیا– "کمال کی عـورت"–

S. M. Ali Shah Zaheer Zia Bhai / Bare Abba
Sayyad Manzil 2/812 Liaquatabad, Karachi 19
میں اگست 1983 میں پاکستان دو ہفتے کے لئے گیا- نیلوفرکی ماں سے ملا- جن کا گھر ارشد کے تایا زاد ضیا بھائی کے گھر کے سامنے تھا- میں زاہد کے بڑے بھائی ہاتف سے بھی ملا- ضیا بھائی نے ہاتف کے گھر کا پتہ بتا دیا تھا- اس کے علاوہ میں نے اپنے والدین سے کہہ کر انہیں دو ہفتوں میں اپنی شادی یا نکاح بھی کرنا چاہا- تاکہ میں بھی شعیب اور ارشد کی طرح عزت دار بن جاؤں- اور میرا بھی اپنا گھر ہو جائے تاکہ پھر کبھی کسی اور کے ہاں نہ رہنا پڑے- ضیا بھائی نے بھی اپنے ہی خاندان کی ایک لڑکی اسماء کے ہاں رشتے کے لئے بھیجا- جن کا گھر کشمیر روڈ پرتھا- لیکن اسی دوران میں ایک اور جگہ بات پکی ہوگئی- تین دن کے بعد نکاح مقررہوا- لیکن ایک دن پہلے لڑکی نے انکار کردیا- یوں شادی سے پہلے ہی طلاق ہوگئی- ضیا بھائی سے اسماء کے لئے بات چلانا چاہی- لیکن دیر ہوچکی تھی- اس لئے خالی ہاتھ سعودی عرب آنا پڑا- دل کھٹا ہوگیا اور پھرچار سال کے بعد حادثاتی طور پہ ڈرتے ڈرتے شادی ہوئی-
ہاتف
زاہد نے نيلوفر کے متعلق جو بتايا تھا اس ميں اپنے بڑے بھائی ہاتف کا بھی ريفرںس ديا تھا- ہاتف کراچی پولی ٹيکنک کی اسٹوڈنٹس يونين کے صد ر رہ چکے تھے- پاکستان جاکر ميں نے ہاتف سے تصديق کرنا ضروری سمجھا- کہ کیا زاہد سچ بول رہا تھا- ہاتف نے نہ صرف باتوں کی تصديق کی- بلکہ يہ تک کہا کہ آپ تو بہت لحاظ کرکے بتارہے ہيں- سليم نے بتايا تھا کہ نيلوفر تو لڑکوں کے کمرے ميں چلی جاتی تھی اور پاجامے ميں ہاتھ ڈال کے گھوڑا پکڑ ليتی تھی- ہاتف نے مجھے بتايا کہ نيلوفر تواس پر بھی الزام لگا چکی ہے ( يعنی ہاتف پر)- ميں نے ہاتف سے يہ نہيں پوچھا کہ کس طرح کا الزام لگايا تھا- ہاتف نے بتايا کہ سليم کا اتا پتہ آپ کوصد رميں رتن تلاؤ کی اليکٹرونکس کی دکانوں ميں مل جاۓ گا- يہ بھی بتايا کہ سليم ہا تف کو خطوط لکھتا رہا ہے- ہاتف نے نيلوفر کے ارشد پراس الزام کی بھی ترديد کی اور کہا کہ ارشد کو کسی قسم کی کوئی جنسی کمزوری نہیں ہے- (ہاتف کو کیسے یقین تھا- کیسے پتہ چلا- مجھے نہيں پتہ)- ہاتف نے زاہد کے برعکس يہ کہہ کر مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ آ پ ارشد کو کمال کا ضرور بتاديں– جب ميں نے ڈر کا اظہار کيا کہ ارشد کہيں نيلوفر کو طلاق نہ دے دے تو ہاتف نے ہںستے ہوئے يقين دلايا کہ طلاق ولاق نہيں ہونی ہے-
بعد ميں ھاتف سے ميری بھی خط و کتابت رہی– جب ارشد کو ہاتف کے مشورے پر ميں نے مد ينہ منورہ جاکرنيلوفر اور کمال کے افيئرکے متعلق بتايا اور اس پر ارشد نے مجھ سے قطع تعلق کرليا تو ميں نے ہاتف کو خط ميں يہ تاريخی جملہ لکھا کہ =" فرض ادا ہو گيا– قرض رہتا ہے"= ہاتف کو ميں نے یہ بھی لکھا کہ ارشد کا نیلوفر کا مجھ سے اب پردہ کرانے پرمجھے بڑی ہںسی آئی- جس عورت کا پردہ کبھی کسی سے نہیں رہا- ارشد اب اسی عورت کا مجھ سے پردہ کرارہا ہے-
بعد ميں ڈ ڈن نے بتايآ کہ "اس کے سا تھ نيلوفر کے پاجامے ميں ہاتھ ڈالنے والی بات نہيں ہوئی– البتہ نيلوفرنے جب وہ ليٹی ہوئی تھی اور وہ اس کے بيڈ کی پا ئنتی کے پاس کھڑا ہوا تھا– تو نيلوفر نے اپنا پير آگےبڑھا کر ہںستے ہوئے اس کے پاجامے کی رومالی کو قميص کے اوپرسے پير سے چھوا تھا– ڈڈن نے یہ بھی بتایا کہ نيلوفراس کو بھی يعنی ڈ ڈن کوبھی بوسہ دے چکی ہے"- ڈ ڈ ن نے مزید بتایا کہ اس وجہ سے اس کی سلیم سے بدمزگی بھی ہوئی- جس پر اس نے سلیم کو سمجھایا کہ ایسی عورت کے پیچھے کیوں اتنی پرانی دوستی خراب کرتے ہو- دونوں کی آٹھویں کلاس سے دوستی تھی- بلکہ سلیم ہی نے اس کو سعودی عرب کے لئے راغب کیا تھا- (اسی دوران جب ڈڈن نے نیلوفر کو پرکشش عورت کہا تو مجھے ڈڈن کی دماغی حالت پر شبہ ہوا)-
ڈ ڈ ن سے جب میں نے شکایتآ کہا کہ اگر وہ ارشد کو نیلوفر کی حرکتیں بتا دیتا تو مجھے یہ سب نہیں بھگتنا پڑتا- جس پر ڈ ڈ ن نے انکشاف کیا کہ اس نے ارشد کو بتایا تھا-
ڈ ڈن نے يہ بھی کہا کہ سليم نے نيلوفر کو نہيں چھوڑا ہو گا اورضرور پيل ديا ہوگا– (وارنںگ :- اسلام میں آپ کسی پر ایسا الزام نہيں لگا سکتے جب تک چار راست گو مسلم گواہ عدالت میں گواہی نہ دے ديں کہ انہوں نے بغیر کسی رکا وٹ یا آڑ کے، سرمہ اور سرمہ دانی والا معاملہ خود اپنی آںکھوں سے صاف طور سے دیکھا ہے)-
نيلوفر کی ماں
M. Mashkoor Husain Animals Doctor 2/782 Liaquatabad, Karachi
ميں اوپر والے پتے پر نيلوفر کی ماں شميم صاحبہ سے اگست 1983 ميں پہلی با رملا- اپنا نام بتايا- مجھے پتہ تھا کہ ميں ان کی گڈ بکس ميں تھا- گھر کے مين دروازے سے کمرے کے دروازے تک دالان کے 15 فٹ کے فاصلے ميں، ميں نے ديکھا کہ داہنی طرف سيڑھياں اوپر چھت پر جا رہی ہيں- ايک سرکنڈے کا بنا ہوا کموڈ رکھا ہوا ہے- کموڈ کے سامنے سلفچی ميں انسانی فضلہ تير رہا تھا- مجھے نيلوفر بتا چکی تھی کہ اس کا چھوٹا نو سالہ سوتيلا بھائی ذہنی مريض ہے اور ڈاکٹر نے اس کی حيات بہت مختصر بتائی ہے- ہم کمرے ميں جاکر بيٹھے- نيلوفر کی خالہ بھی آکر بيٹھ گئيں جو وہيں رہتی تھيں- نيلوفر کی سترہ اٹھارہ 18/17 سالہ عمر کی سوتيلی چھوٹی بہن سيما بھی کچھ منٹس کے لئے سامنے آئی- کمرے ميں با ن کے بنے ہوۓ دو پلںگ تھے جن پرروئی کے گھر کے بنے ہوئے گدے بچھے ہوۓ تھے- ايک چارپائی پہ وہ دونوں بيٹھ گئيں اور ايک پر ميں بيٹھ گيا- اس وقت ميں نے سوچا کہ کاش شعيب بھی اس گھر ميں کبھی آئيں- (غلط نہ سمجھیں، غربت عیب نہیں ہے)-
جب ميں نے ںيلوفر کی ماں کو بتايا کہ ان کی بيٹی نے ميرے اوپر الزام لگايا ہے تو ان کا مںہ کھلے کا کھلا رہ گيآ- کہنے لگيں- کہ اے ہے وہ توہميشہ تمہاری بڑی تعريف کرتی ہے- پھر ميں نے ان کو نيلوفر اور کمال کے افئير کا بتايا تو ان کو ذرا بھی حيرت نہيں ہوئی- کوئی اور ماں ہوتی تويقين نہ کرتی اور مجھے دھکے مار کے گھر سے باہر نکال ديتی- ليکن وہ کہنے لگيں کہ نیلو کو تو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہيے تھا کيوںکہ اس نے تو خود سوتيلے پن کا مزہ چکھا ہے- پھر اپنی بيٹی نیلوفر کا بتايا کہ بہت ضدی ہے- يہ بارش ميں اوپر چھت پر جاتی تھی- اور وہ اسے پکڑ کر گھسيٹ کر نيچے لاتی تھیں یہ کہتے ہوئے کہ محلہ کے لڑکے تيرے بھيگے جسم کو ديکھيں گے- مگرنیلوفر پھر ہاتھ چھڑا کر اوپر چھت پرچلی جاتی تھی- پھر غصہ ميں کہنے لگيں کہ بے بی گھر کے دروازے کی طرف بھی بہت بھاگتی تھی جب بھی اسے باہرسے کوئی آواز آتی تھی- ميں اسے منع کرتی تھی مگر يہ نہيں مانتی تھی- =(کہ مزاج لڑکبن سے عاشقانہ تھا)=
جب ميں نے ان کو بتايا کہ نيلوفر نے برا منايا ہے- جب ارشد کے ابا اس کوکپڑوں کے انتخاب کا بتاتے ہيں- نیلوفر کہتی ہے کہ ان کوکيا حق ہے يہ کہنے کا- تو وہ بوليں کہ ہاں وہ کہتے تو ہيں کہ يہ پہنو يا وہ پہنو- (البتہ کمال کا یہ چاہنا کہ وہ نیلوفر کو کپڑوں کے بغیر دیکھے، نیلوفر کو برا نہیں لگتا تھا)-
(گانا= یہ کپڑے بدل لو، وہ کپڑے پہن لو ، ہم پیار کرنے والے ہیں ، کوئی غیر نہیں = او مونا کے دادا ، تو ہے میرا دلدادہ ، جا پیار کرنے والے ، تیری خیر نہیں-)
پھر مجھے غصہ سے بتايا کہ سعودی عرب سے آکر ارشد کے والد سب سے کہتے پھر رہے تھے کہ بہو نے وہاں لڑکے پا ل رکھے ہیں- تو انہوں نے نيلوفر کو سمجھايا کہ اے بيٹی تم ہی اپنے آپ کو سںبھالو- اگرکوئی شخص اتنا "نیچ اور کمین" ہے کہ شادی کے اتنے سالوں کے بعد بھی طلاق دلوانا چاہ رہا ہے تو تم ہی اسے کوئی موقعہ نہ دو- (میں نے ارشد کوپچھلے بیالیس سال میں نیلوفر کی ماں کی کہی ہوئي باتیں نہیں بتائیں)-
محتومہ شمیم صاحبہ نے بعد میں نیلوفر سے ملنے پر کہا تو ہوگا کہ تو اپنے دیوتاؤں کا شکر ادا کر کہ جعفر میری ہرزہ سرائی ارشد سے یا تیرے سسر سے چھپا گیا)-
پھرانہوں نے مزيد بتايا- "کہ ميں نے ارشد کو بلاکے کہا کہ تيرا باپ پورے خاندان میں میری بیٹی پر نا جائزتعلقات کا الزام لگاتا پھر رہا ہے- ديکھ تو اپنے باپ کو سمجھالے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" - مجھے بڑی حيرت ہوئی کہ ميں ان سے ان کی بیٹی کی شکايت کرنے آيا تھا اور ان سے ان کی بيٹی کے لئے کوئی نصيحت بھری بات یا کوئی نصيحت بھرا خط لینا چاہ رہا تھا اور وہ اپنی بيٹی کی عشقيہ عادتيں جاننے کے باوجود ميرے سامنے پہلی ملاقات ميں ہی ارشد کے والد کو "نيچ اور کمين" کہہ رہيں تھيں- کيوںکہ ميں ارشد کے خاندان سے اس وقت بہت محبت کرتا اس لئے غصہ ميں مجھ سے رہا نہ گيآ- اور اپنے پلان کے خلاف اپنی جيب کے دو چھوٹے ٹيپ ريکارڈرز ميں سے ايک نکال کر ان کو ثبوت کے طور پرکچھ سنانے کے لئے آن کيا- ابھی تين چار منٹ کی باتيں ہی سنا سکا تھا کہ وہ خوف سے بيہوش سی ہونے لگيں- کيسث کی دوسری سائیڈ ميں نيلوفر کی اپنی آواز میں اور بہت سی باتيں تھيں ليکن ميں ان کی حالت دیکھ کر مزید سنانے سے ڈر گيا- اس کے علاوہ اسی اثناء ميں ان کی بيٹی سيما بھی کمرے ميں چاۓ لے کرآگئی اور مجھے ڈ کٹا فون بند کرنا پڑا- ان کو مزید یقین دلانے کی ضرورت بھی نہیں تھی- وہ اپنی بیٹی کے کرتوتوں سے پہلے ہی سے واقف تھیں-
ميں ثبوت جمع کرنے کے لئے احتياطآ دووائس ريکارڈرزدو مختلف جيبوں ميں رکھتا تھا- تاکہ اگر ايک فيل ہو جائے تو دوسرا ريکارڈ کرسکے- ان ميں سے ايک وائس ايکٹیويٹڈ ہوتا تھا- ان ميں مائکروکيسٹ ہوتے تھے- اب تو ٹيکنالوجی بہت ايڈواںس ہو چکی ہے- مجھے يہ بات بھی پتہ تھی کہ ريکارڈںگ سنانے کے بعد دوستی يا مفاہمت کی گنجائش تو ختم ہوہی جاتی ہے- البتہ شکوک کی بنا پربات دشمنی کی طرف بڑھ سکتی ہے- اور ہوا بھی يہی- کچھ دنوں کے بعد دوبارہ ان کے ہاں گيا تو ميرا پتہ چلنے پر انہوں نے دروازہ نہيں کھولا- اگلے دن ميں پھر ان کے گھر گيا تو ان کے موجودہ شوہر جوجانوروں کے ڈاکٹرتھے مشکور حسين صاحب نے دروازہ کھولا- وہ کراچی کے مذبح خانے (کمیلا) میں کام کرتے تھے- ميں نے ان کو ايک لفافہ اور ايک قرآن شريف ديا- لفافہ ميں ميرا ايک خط اور ايک ريگولر سائز کا کاپی کيا ہوا کيسٹ تھا- جس ميں نيلوفر کی والدہ محترمہ شميم صاحبہ کی پہلے والے دن کی گفتگو کے کچھ حصے تھے- جس ميں انہوں نے نيلوفر کے، اوپر لکھے ہوئے کرتوتوں کا ذکرکيا تھا اور ارشد کے والد پر الزام لگا کر انہيں "نيچ اور کمين" کہا تھا- خط میں، میں نے اور باتوں کے علاوہ اس دکھ کا بھی اظہار کیا تھا- کہ کبھی اگر ارشد اور اس کی بیوی میں نجی باتوں پر کوئی معمولی جھڑپ بھی ہوجاتی تھی- تو میرے حلق سے بھی نوالہ نہیں اترتا تھا- (یہ حقیقت تھی)- اتنی محبت مجھے اس فیملی سے تھی- میں نے ان سے اس خط ميں اس شک کا بھی اظہار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ نیلوفر اپنے سوتیلے باپ کی کسی حرکت کی وجہہ سے مردوں سے انتقام لے رہیں ہیں-
کوئی تين ماہ بعد جب ارشد اور شعيب نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی- تو ميں نے نيلوفر کی ماں کوسعودی عرب سے ايک انتہائی غصہ بھرا خط لکھا- اوران کو تںبيہ کی کہ ان کی بيٹی پوری سچ بات بتائے تاکہ ميری دوستياں واپس آسکيں- ان دنوں ان کے اورارشد کے درميان ميں رابطے کا واحد ذريعہ خطوط تھے- انہوں نے ارشد کو ايک خط لکھا کہ جعفر کا رشتہ دوسری بيٹی سيما کے لئے آيا ہے ليکن ہم ارشد سے پوچھے بغيرہاں نہيں کريں گے- یہ جھوٹی بات تھی- ميں نے ان سے يہ ذکر تو کيا تھا کہ نيلوفراپنی بہن سيما کے رشتہ کی بات کمال کے لئے کرتی تھی- اور ایک دفعہ میں نے بھی حامی بھر لی تھی - ليکن گھر کی ڈيوڑھی کراس کرتے کرتے ماحول دیکھ کراپنے لئے یہ خيال دل سے نکال ديا تھا- ارشد کو بھی نيلوفر سے شادی کرنے کے لئے اپنے والد کو خودکشی کی دھمکی دينی پڑی تھی جب ہی ان کو تيار ہونا پڑا تھا- نہ تو مجھے اس قسم کی دھمکی دينے کی کوئی ضروت تھی اورنہ ميرے گھر والے کسی صورت تیار ہوتے- اور جب نيلوفر کی ماں نے ايک اجنبی سے يعنی مجھ سے پہلی ملاقات ہی ميں ارشد کے والد کو حق بات کہنے پر "نيچ اور کمين" کا خطاب ديا کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ بہو نے لڑکے پال رکھے ہيں- تو مجھے اس بات پر بڑا اطمينان ہوا کہ ميں نے اس گھر ميں رشتہ جوڑنے کی کوئی کوشش نہيں کی- ميرا رشتہ ليکر کوئی وہاں کبھی نہيں گیا تھا- میری بیوی کا سنہ پیدائش اگرچہ وہی ہے جو نیلوفر کی بہن سیما کا تھا- لیکن میری بیوی کا تعلق پاکستان کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے- اور میری بیوی نے پاکستان ، سعودی عرب ، اںگلینڈ اور امریکہ کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی ہے-
نيلوفر کے محلہ سے پتہ چلا –
کچھ لڑکوں کو کام پر لگا کرپہلے مردم شماری کے بہانے نیلوفر کی گلی میں گھروں کے دروازے کھٹکھٹاکے لوگوں سے کل افراد کی معلومات لیں اور بعد ميں ان ميں سے جوان لڑکوں سے پتہ کيآ تو پتہ چلا کہ رابعہ اور نیلوفر اپوا گرلز اسکول سے واپسی پر لڑکوں کواپنے پیچھے لگا کر فلرٹ کرتی ہوئی آتی تھیں– دونوں اس معاملے ميں ايک درسرے سے بڑھ چڑھ کر تھيں- انکا حلقہ احباب کافی وسیع تھا- ان ميں سے ایک لڑکا تو موٹر سائيکل پرمستقل آيا جايا کرتا تھا- کئی محلوں میں ایک آدھ لڑکی ایسی آزادانہ اطوار کی ہوتی ہے- جس پرچاہے لڑکی بدصورت بھی ہو، آوارہ لڑکے برے کام کے لئے چانس ملنے کی آس میں مکھیوں کی طرح بھنبھنایا کرتے ہیں- زاہد کی بات سچ نکلی کہ بد اچھا بدنام برا- = پتہ پتہ بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے- جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے- =
نیلو کی ڈگ ڈگی ہے کاشانہ چمن میں - يا شمع جل رہی ہے گھوڑوں کی انجمن میں

بعد میں نیلوفر سے اسکی ماں نے کہا تو ہوگا کہ تو اپنے دیوتاؤں کا شکر ادا کر کہ جعفر باتیں چھپا گیا
ستمبر 1983 ميں ميں طائف سے مدينہ منورہ ہوائی جہاز کا سفر کرکے ميں ارشد سے دوبارہ ملنے گیا– میں ارشد کے گھر کے بہت قریب کے ہوٹل میں ٹہرا- زاہد اور زاہد کے بھائی ہاتف سے باتیں پتہ کرکے میں نے يہی مناسب سمجھا کہ ارشد کوبتانا ضروری ہے- اگر بات صرف آشنائی تک ہوتی تو میں شاید دخل نہ دیتا- مگر جو کھیل نیلوفر کھیلتی تھی وہ کسی نہ کسی کے لئے بہت خطرناک انجام تک پہںچ سکتے تھے- پاکستان کے شہروں میں تو اس قسم کے کھیلوں پر قتل ہوئے ہیں- تیزاب پھیںکا گیا ہے- ناک کاٹی گئی ہے اور چھوٹے شہروں میں جرگہ کے قیصلہ پرتوعورت کو نںگا کرکے جلوس تک نکالا گیا ہے- اس کے علاوہ میں جن نقصانات سے اور جس ذہنی دباؤ سے گزرا تھا- میں ارشد سے اس کی شکایت بھی کرنا چاہتا تھا- مجھے پچانوے فیصد يقین تھا کہ اس کے بعد ارشد سے دوستی نہيں بچے گی- ميرے ذہن میں دو باتیں تھیں- جب ميں ارشد اور اس کی فیملی کے لئے اپنی دلی محبت کو دیکھ کر اپنے ہی آئينے میں ارشد کو دیکھتا تھا- تو خیال کرتا تھا کہ ساری بات سن کر وہ اپنی بیوی کو حکم دے گا کہ جعفر کے سامنے زمین پر ناک رگڑ کر معافی ماںگ- تو نے حرامزادی اس جیسے ہم سے محبت کرنے والے شخص کو بھی نہیں بخشا- دوسرا خیال زاہد کی باتیں سن کر آتا تھا کہ اس دفعہ بھی ارشد اپنے دامن کی غلاظت دوسرے کے مںہ پر مل دے گا- میں دونوں باتوں کے لئے تیار تھا- اسی لئے ارشد کو ہوٹل کے کمرے میں لے کر آیا جہاں خاموشی تھی اورانتظامات تھے- میں نے ارشد کوصرف وہ مندرجہ ذیل باتیں بتائیں جو نیلوفرنے مجھ سے کہیں- نہ تو ساری باتیں بتائیں نہ ان حرکتوں کا ذکر کیا جو نیلوفر نے میرے ساتھ کیں- کمال کا توسرسری طور سے ہی ذکر کیا- میں یہ سمجھتا تھا کہ ارشد جان لے کہ اگر نیلوفر مجھ سے ایسی باتیں کرسکتی ہے، جس کے ساتھ لحاظ اوراحترام کے تین سال گزارے- تو اپنے یار کے ساتھ تو کھلا معاملہ تھا-
میں نے ارشد کو بتایا کہ نيلوفرنے مجھے بتايا کہ اس نے جب ارشد کو بتایا کہ جعفر بھائی میری جھکی حالت میں جب قميص کا گلا کھلا ہو تو وہ اپنی نظریں نیچی کرلیتے ہیں تو ارشد بولے کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہاری طرف ديکھيں-
نيلوفرنے مجھے ہنستے ہوئے بتايا کہ اس نے جب ارشد سے کہا کہ ارشد تم مجھے کم پيا ر کرتے ہو- تو ارشد نے جواب ديا تو ميں کيا ہر وقت تمھيں پچ پچ کرتا رہوں-
نيلوفرنے مجھے بتايا کہ ارشد نے نيلوفر پر شک کرکے نيلوفر سے کئی دفعہ کہا کہ پتہ نہيں يہ بچے ميرے ہيں بھی يا نہيں- جب پاکستان پہںچنے پر ارشد کے والد نے مونا اور ندا کو د یکھ کر ارشد سے ذکر کیا کہ بچوں کی شکلیں تم سے ملتی ہیں تو ارشد کو يقین آیا- کہ بچے ارشد کے ہی ہیں- (اس زمانے میں ڈی، این، اے ٹسٹ کا وجود نہیں تھا)-
نيلوفرنے مجھے بتايا کہ ارشد کے والد مجھ پرغلط نظر رکھتے ہيں- کہتے ہیں يہ پہنو وہ پہنو- ان کو کيا حق ہے يہ کہنے کا- میں نے ارشد سے کہا کہ میں تمہارے والد کی غلط نظر رکھنے والی بات کو سچ سمجھا تھا جب تک کہ نیلوفر نے خود مجھ پر بھی الزام نہیں لگا دیا- ارشد نے اس کے جواب میں دکھ سے کہا کہ اس عورت نے تو میرے باپ تک کو برا بنا دیا-
نيلوفرنے مجھے بتايا کہ ا رشد مجہے ويڈيو پر نںگی فلم دکھاتے ہيں- مجھے ايسی فلم ديکھ کے الٹياں آتی ہيں-
نيلوفرنے مجھے بتايا کہ ارشد میرے مںہ میں بھی ڈالتے ہیں- جبکہ اسی زبان سے کلمہ بھی پڑھا جاتا ہے-
نيلوفر نے مجھے بتايا- ارشد کہتے ہيں- کتيا کہيں باہر سے کراکے آ–
نيلوفرنےمجھے بتايا کہ اس نے ارشد کی گيلی شلوار ديکھ کر کہا کہ ہاتھ سے کيوں فارغ ہوتے ہو- ميں جو ہوں-
ارشد نے مجھ سے کہا کہ مجھے تمہاری باتوں کا يقین ہے ورنہ تمہيں یہ باتیں کیسے پتہ چلتیں- جو صرف میری اور میری بیوی کے درمیان ہوئیں-
ارشد کو میں نے خود بتايا کہ "ميں نے تمہاری بيوی کو سبق سکھانے کے لئے کس کيا ہے- اور بعد ميں پوچھا ہے کہ اب بتائیں- آپ کس کی وفادار ہیں- ارشد کی، کمال کی يا میری"– ارشد نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ مجھے تمہاری صا ف نیت کا يقین ہے-
ارشد نے نیلوفر کے کمال سے تعلق کا سن کر کہا کہ ایسے توبیوی کے پیریڈز کے دوران شوہرکو بھی کسی دوسری عورت سے سیکس کرنی چاہیے-
ارشد کو ميں نے سرسری طور سے یہ بھی بتایا کہ تمہاری بیوی نے زاہد پر بھی الزام لگایا ہے- نہ ميں نے تفصیل بتائی کہ الزام کيا ہے- نہ ميں نے یہ بتایا کہ زاہد نے اس کے جواب ميں مجھے کیا کیا بتایا ہے- (زاہد کی طرف کی کہانی سننے سے تعلق رکھتی ہے- زاہد کے بیٹوں کو ضرور سننا چاہیے)-
میں نے ارشد کویہ بھی بتایا کہ میں نے پہلے زاہد سے مشورہ کیا- زاہد نے تمہیں بتانے سے منع کیا کہ ارشد آپ کی بات کا کبھی يقین نہیں کرے گا- ارشد بھاگ جاتا ہے- پھر ميں نے پاکستان جاکر ہاتف کو بتایا- ہاتف نے تمہیں بتانے کی تاکید کی-
ارشد کومیں نے کچھ نہیں بتایا کہ میں نے پاکستان جاکر ہاتف سے زاہد کی باتوں کی تصدیق چاہی تھی کہ زاہد نے کوئی جھوٹ تو نہیں کہا تھا- ہاتف نے تصدیق کرنے کے بعد ارشد کو بتانے کی تاکید کی تھی- زاہد اور ہاتف دونوں کو تو ميں نے صرف برائے نام بتایا لیکن انہوں نے تو کچھا چٹھا کھول کر رکھ دیا-
کسی نے زاہد کی یہ بات سن کر(کہ ارشد اورزاہد اپنی شادیوں سے پہلے ایک دوسرے کو چھیڑتے تھے کہ تیری بیوی میرے ساتھ اور میری بیوی تیرے ساتھ) ارشد کو آزمانے اورصرف جاںچنے کے لئےاپنی غیرشادی شدہ حالت میں ارشد سے کہا، کہ تم بھی میری بیوی کو کس کرلینا- تو ارشد نے جواب دیا کہ تمہاری بیوی کیا زرخرید ہوگی- جس کا جواب تھا کہ میں بھی تلاش کرکے تمہاری بیوی جیسی کسی بدنام اور چالو عورت سے شادی کرلوں گا- جس کو کوئی اعتراض نہ ہو- ارشد نے سنا نہیں-
ارشد نے تاسف سے کہا کہ اتنی بڑی بڑی باتیں ہوگئیں اور مجھے کچھ پتہ نہیں چلا- ميں نے دل میں سوچا کہ نیلوفر کے لئے تعریف تو بنتی ہے-
ارشد نے اس وقت مجھ سے کہا کہ میں تمہارا احسان مند ہوں- تو میں نے ارشد سے اس احسان کے بدلے میں ایک يقین دہانی چاہی اور ارشد سے کہا کہ اگر شعیب کو پتہ چل گیا کہ میں نے تم کو بتادیا ہے تو وہ میرے پیچھے پڑجائیں گے اور میری جان کو آجائیں گے- تو ارشد نے کہا کہ شعیب کو بتائے گا کون- ( ارشد نے مدینہ منورہ میں بیٹھ کر یہ جھوٹ بولا)- میں اس کو ارشد کی يقین دہانی سمجھا- کیوںکہ مجھے ارشد سے تو نہیں لیکن نیلوفر سے ڈر تھا- کہ وہ گڑبڑ کرے گی اور شعیب کو پھر اکسائے گی- بعد میں ارشد نے احسان کا بدلہ اس طرح سے چکایا کہ شعیب کو مدینہ منورہ بلاکر اپنے دامن کی غلاظت میرے منہ پہ مل دی- نیلوفرنے بھی اپنے کردارکی غلاظت میرے مںہ پر چپکائی تھی اور اسی کا شکوہ میں نے انتہائی محتاط اندازمیں ڈھکے چھپے انداز میں ارشد سے کیا تھا-
ارشد ہوٹل سے رخصت ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر مجھے بتایا کہ اس نے نیلوفر کو بتا دیا ہے کہ اسے کمال کے ساتھ افئير کا پتہ چل گیا ہے اور وہ اسے (خالی خولی) دھمکی دے کر آیا ہے کہ وہ اپنا سامان پیک کر لے- نیلوفر کمال سے افئیر قبول نہیں کررہی تھی- (مدینہ منورہ میں بیٹھ کر جھوٹ بول رہی تھی)- لیکن ارشد اس سے کہہ آیا ہے کہ اگر وہ جلتے توے پربھی بیٹھ جائے تو وہ نہیں مانے گا- کہ کمال سے اس کا افئیر نہیں ہے-
ارشد کجھ گھنٹوں کے بعد دوبارہ میرے پاس ہوٹل میں آیا اور مجھے بتایا کہ نیلوفر نے سب کچھ قبول کرلیا ہے- میں سمجھا کہ سب کچھ کا مطلب زاہد پر الزام اور ارشد کے والد پر الزام کو بھی قبولا ہے- نيلوفر کو مد ينہ منورہ ميں ارشد سے اس لئے یہ اعتراف کرنا پڑا کہ کمال کے ساتھ اس کے عشقيہ تعلقات ہوۓ- کیوںکہ میں نے نیلوفر کے لئے بھاگنے کا کوئی راستہ نہيں چھوڑا تھا- ورنہ میرے ساتھ اس کی جنسی گفتگو کا کیا جواز بنتا تھا-
ارشد نے مجھے یہ بھی بتایا کہ نیلوفر اسے کہہ رہی تھی کہ پاکستان میں کسی کو کچھ نہ بتانا- جو کچھ کرنا ہے يہیں کرلو- - - - زاہد اور ہاتف کی طرح سے یہ بات نیلوفر بھی اچھی طرح سے جانتی تھی- کہ ارشد طلاق تو ہرگز نہیں دے گا- وہ بس دو چار دن ہڑ ہڑ کرے گا- اس کے بعد نیلوفرارشد کا گھوڑا مںہ میں لے کر اس کو چوپے لگا دیا کرے گی- اور ارشد بہل جا ئے گا- خوش ہو جائے گا- اور اس کا یہ افئیر بھی بھول جائے گا- پہلے ارشد نے سلیم اور ڈڈن دونوں کے نیلوفر کے ساتھ کے افئیرز میں کیا کرلیا تھا - جب تو ارشد کے کوئی بچے بھی پیدا نہیں ہوئے تھے- تو اب کیا کرلے گا- نیلوفر کو اندازہ تھا کہ پاکستان میں بہت کم بیویاں منہ میں لیتی ہیں- شاید ایک فیصد سے بھی کم- اس لئے ارشد اس کے ساتھ بندھا رہے گا- جب سلیو اور ڈ ڈن کا ذ کر آیا- تو ارشد نے جھٹلایا- کہ وہ تو کوئی بات نہیں تھی- میں خاموش رہا- لیکن ارشد کو یہ مشورہ ضرور دیا= کہ بہت سارے بچے پیدا کرے- تاکہ نیلوفر بچوں کی پرورش میں مصروف رہے- اور دوبارہ بھٹکنے کی راہ نہ پائے-
میں نے ارشد کو تسلی دی کہ جب یہ وقت گزر جائے گا تو تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیا ن محبت اور بڑھ جائے گی- ارشد نے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتہ- تو میں نے بات بنائی کہ تم دونوں کو ابھی ایک دوسرے کو چھوڑنے کی تکلیف محسوس ہوئی ہے- تو یہ تمہارے درمیان محبت کو اب اور بڑھادے گی- میں اسے کیا بتاتا کہ یہ سب تجربہ میں کنول کے ساتھ پہلے اٹھا چکا ہوں- اصلی بات میرے تجربہ کی یہ تھی کہ کںول کا شوہر ہردفعہ اس کے ہرجائی پن کے واقعہ کے بعد اس سے زیادہ محبت کرنے لگا تھا- ہرجائی بیوی کا کوئی شوہراپنی بیوی سے زیا دہ محبت کرنے لگتا ہے- جب میرے اور کںول کے افئیرکا اس کے شوہردانش کو علم ہوا تھا- تو اس نے کنول کو بچوں کے ساتھ پاکستان بھجوا دیا تھا اور خود بھی دو سال کے بعد اپنی ملازمت ختم ہونے پرمستقل طور پر پاکستان شفٹ ہو گیا تھا- بہرحال اس کے بعد دانش کی محبت کنول کے ساتھ اور بڑھ گئی تھی اور میں بے وقوفوں کی طرح سے کنول کے ساتھ شادی کا انتظار ہی کرتا رہ گیا تھا- ایک دفعہ کنول کے منہ سے خود نکلا تھا- "کہ دانش اس کو کم تنخواہ کے باوجود اس لئے جدہ لے آیا تھا- کیونکہ کسی نے پاکستان میں کںول پر الزام لگا کراس کے کسی کے ساتھ افئیر کی افواہ اڑائی تھی- اورجب بھی اس کے متعلق کوئی اس کے افئیر کی افواہ اڑاتا ہے تو دانش بستر میں اس سے زیادہ محبت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے"- کنول کے افواہ کہنے کو میں اس وقت واقعی افواہ سمجھا تھا- لیکن نیلوفر کے افئیرز کے بعد میری آںکھیں کھل گئیں اور کنول سے تعلق ہمیشہ کے لئے توڑ لیا- بعض دفعہ کسی برائی میں بھی کوئی اچھائی چھپی ہوتی ہے- شوہر سے بےوفائی کرنے والی عورتیں شوہر کے سامنے اپنا گھر بچانے کی خاطر جھوٹی قسمیں کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں محسوس کرتی ہیں- شوہر سے بے وفائی کرنا تو جھوٹی قسم کھانے سے بھی بڑا گناہ ہے- آپ کو شاید یقین نا آۓ کہ کںول مجھ کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لئے کہتی تھی- کہ میں دعا ماںگتی ہوں کہ میرے چاروں بچے ایک ساتھ مرجائیں- تاکہ آپ کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے-
ارشد نے مزید کہا کہ نیلوفر نے تمہارے اوپر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جعفر بھائی کو میرے سامنے لائیں- میں نے ارشد سے پوچھا کہ کیا یہ مناسب ہوگا- تو ارشد نے اتفاق کیا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا- میں نے یہی سوچا کہ یہ عورت کیا اپنا گھر تڑوانا چاہ رہی ہے- نیلوفر کو پتہ نہیں تھا کہ میں زاہد، ہاتف اور اس کی ماں سے مل چکا ہوں- اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے، بتایا ہے وہ ایک غیرتمند شخص کو طلاق دینے پرمجبور کرسکتا ہے- بہرحال نیلوفرکوبھی زاہد کی طرح اس بات کا علم تھا کہ ارشد بھاگ جاتا ہے- اور ارشد نیلوفر کے سامنے کبھی مجھے نہیں کھڑا کرے گا اور آخرکاربالکل سے بھاگ جائے گا-
ارشد نے بتايا کہ وہ تمہيں بد دعائيں دے رہيں تھيں– (میں نے یہ بات نوٹ کرلی اور ارشد اور شعیب کے مجھ سے قطع تعلق کرنے کے تقریبآ تین سال کے بعد میں نے بھی یہ دعائیں حرم میں بیٹھ کر ماںگیں- کہ یا اللہ ارشد کو بہت سی بیٹیاں دیجئے گا- اور شعيب کو کبھی گھر کا سکون مت دیجئے گا-
(شعیب کے غلط مشوروں ہی نے مجھے ان چکروں میں پھنسوا کر گھر کا سکون برباد کروادیا تھا)-
ارشد نے یہ بھی بتایا کہ نیلوفر کہہ رہی ہے کہ جعفر بھائی تمہيں بد معاش بنا ديں گے- (اس لئے ان سے اب مت ملو)- نیلوفر ڈرتی تھی کہ اگر ارشد مجھ سے ملتا رہا تو شاید ایک دن میں ارشد کو اس کے اور زاہد کے درمیان کے معاملات کو نہ بتادوں- دوسرے ایک دفعہ اس کو کمال سے تعلقات منقطع کرنے کے لئے میں نے دھمکی بھی دی تھی- کہ اگر وہ نہ رکی تو میں ارشد سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی کسی سے افئیر چلالے- ان معاملات سے مجھے آنے والے سالوں میں جتنا مالی اور ذہنی نقصان ہوا ہے تو غالبآ میں ارشد کو یہی مشورہ دیتا- کہ ایک شادی اور کسی بہتر خاندان میں کرلے- اگر وہ 9 بچے پال سکتا ہے تو دو2 بیویاں بھی پال سکتا تھا- "نئی بیوی سیدھے راستے کے لئے اور پرانی بیوی مںہ میں ڈالنے کے لئے"-
ارشد نے بتایا کہ نیلوفر کہہ رہی ہیں کہ اگر جعفر بھائی مجھے بہن سمجھتے تو کیا آپ سے میری شکایت کرتے-
(خٹزپاہ) (CHUTZPAH)
(یہ بالکل ایسی بات ہے- جیسے اپنے باپ کا قا تل جج سے فریاد کرے- کہ جج صاحب، میں یتیم ہوگیا ہوں- اس بنا پر مجھ پر ترس کھا کر سزا نہ ديں)- نیلوفر واقعی ارشد کوکسی ننھے ہی کی طرح ٹریٹ کرتی تھی، برتاؤکرتی تھی- رکھنے والے نے ارشد کا نام بالکل صحیح طور پہ "ننھا" رکھا تھا- نیلوفر شکرادا کرے کہ اس کا کوئی غیرت مند سگا بھائی نہیں تھا- ورنہ اس کا حشر"قندیل بلوچ" جیسا کرتا-
اگلے دن دوسری ملاقات میں ایسا محسوس ہوا جیسے ارشد یہ باور کرانا چاہ رہا ہے کہ مجھے غلط فہمی ہو گئی ہوگی- یا میں جھوٹ بول رہا ہوں- ارشد اسٹیٹ آف ڈینائیل (غیر یقینی حالت) میں اپنے آپ کو دھوکا دینے کی کوشش میں تھا-
ارشد نے اپنے والد کا پاکستان میں کہا ہوا جملہ دہرایا- کہ "غلطی میری ہے کہ میں نے لڑکے پال رکھے تھے"- ارشد کویہ پتہ نہیں تھا- جوکہ ارشد کی ساس نے مجھے شکایتآ بتایا تھا- کہ ارشد کے والد جدہ سے واپس آکر خاندان میں کہتے پھر رہے تھے کہ ان کی بہو نے جدہ میں لڑکے پال رکھے ہیں- جو کہ جھوٹ نہیں تھا- البتہ ارشد کے والد سے اور پھر ارشد سے ان پالے گئے لڑکوں کی صحیح نشاندہی میں غلطی ہو گئی تھی-
ارشد نے اپنی بیوی کی کہی ہوئی سیکس کی باتیں مجھ سے سن کربڑے دکھ سے کہا کہ تم مجھے يہ سب کچھ نہ بتاتے- لیکن پھر بھی ارشد نے مجھے جھٹلانے کی کوشش کی- جبکہ کنول کے شوہردانش کو تو ارشد کی بہ نسبت 10 فیصد بھی پتہ نہ ہوا تھا- جس پر ارشد نے ایک سال پہلے میری لاعلمی میں میرے بریف کیس میں رکھے ہوئے لو لیٹرز کو پڑھ کربڑا بول بولا تھا کہ اگر میں (دانش کی جگہ) ہوتا تواپنی بیوی کو طلاق دے دیتا-
ارشد نے میرے بار بار منع کرنے کے باوجود کہ مجھے نہیں سننا ہے- مجھے یہ بات بتائی کہ وہ ھاتف سے اس لئے تھوڑا سا ناراض ہے- کیوںکہ "ھاتف نے پہلے ضیا بھا ئی کی بہن کو پھانسا لیکن پھر شادی کہیں اور رچالی"- بہرحال ارشد نے یہ بھی کہا کہ اس میں ھاتف کے گھر والوں کا پریشر بھی تھا-
ارشد کويہ بات معلوم نہيں تھی کہ اسی گلی ميں رہنے والے ميرے دور کے رشتہ دار کا رشتہ ضيا بھائ کی اسی بہن کے ليے آيا تھا مگر انکار ہو گيا تھا- مجھے بھی کئی سال بعد پتہ چلا تھا-
=======================================================
نومبر1983 ميں شعيب ميرے پاس اپنی گاڑی ميں جدہ سے طائف آۓ- جدہ سے طائف 166 کلو ميٹر کے فاصلہ پر ہے- کار سے 2 گھنٹے کا راستہ ہے- شعيب نے کہا کہ وہ مدينہ منورہ ارشد کے پاس جا رہے ہيں- کيوںکہ ارشد نے يہ کہہ کر بلايا ہے کہ وہ کمال اور نيلوفر کے متعلق بات کرنا چاہتا ہے- شعیب نے مجھ سے پوچھا کہ ميں نے ارشد کو کيا بتايا ہے- ميں نے شعيب سے کہا کہ آپ کو جو کچھ مجھ سے يا نيلوفر سے علم ہوا ہے وہ سب کچھ سچ سچ بتاديں- ميں نے جو کچھ ارشد کو بتايا ہے- اپنی صفائی پيش کرنے کے لئے بتايا ہے اور ہر شخص کو اپنی صفائی پيش کرنے کا حق حاصل ہے- شعيب نے غصہ ميں جواب ديا- بيشک - اور صرف تين منٹ ميرے پاس پوچھ گجھ کرکے وہ مدينہ منورہ روانہ ہو گئے- جو طائف سے 472 کلو ميٹر، اور 5 گھنٹےکے فاصلہ پر تھا- جدہ سے مدينہ منورہ 415 کلوميٹر 4 گھنٹے کے فاصلہ پر ہے- يوں شعيب کو 3 گھنٹے زيادہ سفرکرنا پڑا مجھ سے صرف يہ پوچھنے کے لئے کہ ميں نے ارشد کو کيا بتايا ہے- ارشد نے شعيب کو بتا کر مجھ سے مدينہ منورہ ميں کيا ہوا وعدہ توڑ ديا کہ شعيب کو کوئی نہيں بتائے گا- جب کہ مجھ کو ڈر نيلوفر سے تھا- اگر ارشد شعيب کودوبارہ شريک نہ کرتا تو کچھ ہی دنوں بعد ميں شعيب سے اپنے تعلقات بحال کرسکتا تھا- شعيب نے مدينہ جاکر ارشد کو وہ سنايا جو ارشد سننا چاہتا تھا اور وہ نہيں سنايا جو سچ تھا- مکمل سچ تو شعيب کو بھی نہيں پتہ تھا جو ميں نے يہاں لکھنے کی کوشش کی ہے- اگر ارشد کومکمل سچ چاہيے تھا تو مجھے بلا ليتا- اس کو ثبوتوں کے ساتھ سچ مل جاتا- لیکن ارشد کو اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے دامن کی غلاظت کسی اور کے مںہ پر ملنی تھی- جو اس نے میرے مںہ پر مل دی-
======================================================
دسمبر 1983 ميں ارشد نے مجھے مجبورآ مدينہ منورہ بلايا– جب ميں نے اس کو دو تین خط لکھے- ارشد ميری فون کالز کا جواب نہيں دے رہا تھا- آخر جب ميں نے اسے خط ميں يہ لکھا کہ بات ميرے اور تمہارے والد کے درميان پاکستان ميں ہوگی تو اسے مجھے مجبورآ مدینہ منورہ بلانا پڑا- وہ ملتے ہی مجھے پچکارتے ہوئے بولا کہ تم بدگمان ہوگئے ہو- ( ارشد نے کہا کہ ميں سمجھ گيا تھا کہ يہ شخص بد گمان ہوگيا ہے)- پھر ارشد نے میری شکایت پرکہ اس نے شعیب کو کيوں بتايا کہ ميں نے اسے کمال اور نیلوفر کے معاملات سے آگاہ کرديا ہے- (شعیب بہترین دوست ہيں مگر بدترین دشمن- ارشد نے پھر(مدینہ منورہ میں) جھوٹ بولا کہ شعيب تو يوںہی ملاقات کرنے آيا تھا اور شعيب سے اس سلسلہ ميں کوئی بات نہيں ہوئی- اورکہا کہ تم مفروضات پہ کب تک زندگی گزاتے رہوگے- حالاںکہ شعیب طائف آکرمیرے پاس سے ہوتے ہوئے یہی باتیں کرنے ارشد کے پاس مدینہ پہںچے تھے- نیلوفر کے ارشد کے ساتھ اصرار پرارشد نے شعیب کو بلا بھیجا- ( پھر شعیب نے ارشد کومیرے متعلق وہ سنایا جو ارشد سننا چاہتا تھا- وہ نہیں سنایا جو سچ تھا- اور وہ جھوٹ زیادہ اور سچ کم بلکہ سچ برائے نام ہی تھا-) پھر ارشد نے مجھ سے کہا کہ "کل اگر وہ کمال سے بھی ملنا شروع کردے تو کيا میں جب بھی اعتراض کروں گا"– ارشد نے کہا کہ اس نے کمال کو معاف کرديا ہے- ظاہر ہے ارشد اگر کمال کو معاف نہیں کرتا تو کیا کرتا سوائے شرمندہ ہونے کے- ارشد نے کہا کہ جب اس نے سعيد صاحب سے کمال کی شکايت کری توسعيد صاحب بڑے شرمندہ ہو کر معافی ماںکنے لگے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے مار ليجئے- (حالاںکہ پینتیس، چالیس سال بعد حسیب صاحب نے مجھے بتایا کہ سعید صاحب کافی بعد میں سب سے یہ کہتے پھر رہے تھے کہ بنیادی غلطی ان کے بھتیجے کمال کی نہیں تھی بلکہ نیلوفر کی تھی- اور سعید صاحب کی یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی)- ميں نے ارشد سے کہا کہ تم نے تو مجھ سے بات کرنا ہی چھوڑ دی ہے تو ارشد نے جواب ديا کہ اب ملنے سے کیا فائدہ- میں تمھارے سامنے شرمندہ اور تم میرے سامنے شرمندہ- (ارشد نہ تو سعید صاحب سے، نہ شعیب سے اور نہ زاہد سےملنے میں شرمندہ ہوتا تھا-)- - - - - - - - - پھرجب نیلوفر ایک عورت اور در بیٹیوں کی ماں ہوکر بھی شرمندہ نہیں تھی تو ارشد مرد ہوکر شرمندگی کا باجا کیوں بجا رہا تھا- عحیب بات یہ ہے کہ لوگ دنیا کی شرمندگی سے بچنے کے لئے ہزارجتن کرتے ہیں لیکن جھوٹ اور مکروفریب کرکے آخرت کی رسوائی کی فکر نہیں کرتے- پھرارشد نے کہا کہ ہم جب مليں گے تو يہی باتيں ہوں گی- (کیا ارشد کو پہلے یہ تجربہ ہو چکا تھا)- (میں پچھلے بیالیس سال میں ارشد کے سامنے یہ باتیں کرنا تو درکنار، ایک بار بھی نیلوفر کا نام مںہ پر نہیں لایا)- ارشد نے بات جاری رکھی کہ تم مجھے اس شتر مرغ کی طرح سمجھ لو جو ریت میں سر چھپا کر سمجھتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا ہے- آخرکار ارشد نے کہا کہ ٹھيک ہے ہم گھر سے باہر مل لیا کریں گے- جس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوا- بلکہ یہ مجھے زیادہ بہتر لگا- میں خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ نیلوفر ابھی میرے خاندان میں کسی سے ملے- پاکستان میں میرے دو دوست اپنی بیویوں کا شرعئی پردہ رکھتے تھے- اور یہ بات بالکل نارمل تھی- پھرارشد کے ساتھ ميرے لکھے ہوئے خطوں کی بات آئی جس ميں دوستياں ٹوٹنے پر ميں نے ارشد کولکھا تھا کہ ایک مچھلی سارے تا لاب کو گندہ کردیتی ہے اور ساتھ ميں زاہد کی بات بھی اپنی طرف سے دہرائی تھی کہ کیچڑ میں جلنے سے اپنے ہی کپڑے گندے ہوتے ہیں- ارشد نے غصہ سے کہا کہ تم یہ سمجھ لو کہ ہمارا گھر گندگی کا ایک ڈھیر ہے- ارشد کواس درميان ميں غالبآ یہ غلط فہمی ہوئی کہ ميں نے نیلوفر کو طلاق دلوانا چاہی تھی- حالاںکہ ايسی کوئی بات نہيں تھی- کيونکہ ارشد نے کسی بات پرکہا کہ ( اگر اس نے نیلوفر کو چھوڑ ديا تو) یہ عورت سڑکوں پہ بھیک ماںگتی پھرے گی- ارشد کا یہ خیال بھی غلط تھا- نیلوفر نے کسی کو پھانسنے، چالبازیوں اور مکروفریب کے معاملوں میں پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا- اگر وہ "وینا ملک" نہیں بھی بن پاتی تو وہ دو چارلڑکوں کو اپنی تھوڑی سی جلد یا گوشت دکھا دیتی، یا تھوڑا بہت اپنے جسم کی سیر کرادیتی تو کوئی نہ کوئی بیوقوف شادی کے لئے پھںس جاتا- ارشد نے پھر کہا کہ جيسی بھی ہے- مجھے تو بھگتنا ہے- میں ارشد سے کہہ نہ سکا کہ ٹھیک ہے- اس کی تو بیوی ہے مگر مجھے کیوں بھگتنا پڑا- میں نے ارشد سے کہا کہ نیلوفر نے میری دوستیاں خراب کیں- دوستی ایک شیشے کی طرح ہوتی ہے- جس میں ایک دفعہ بال پڑجائے توجوڑا نہیں جاسکتا-
ارشد نے کہا تم تو آسانی سے نئے دوست بنا ليتے ہوـ ميں چاہتا تھا کہ ارشد دوستوں کا يہ حلقہ چھوڑ دے اور اپنا منہ کہيں اور کالا کر جاۓـ وہ بھی تو اپنی بيوی کی حرکتوں کی تھوڑی سی ذ مہ داری لےـ تھوڑی ديرکی گرما گرمی کے بعد ارشد نے باتوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کيرم بورڈ نکال ليا اور ہم کيرم کھيلنے بيٹھ گئے- ميں بڑی بے دلی سے کھيل رہا تھا- وہ ميری زندگی کا آخری گیم تھا- اس کے بعد نہ کبھی کيرم اور نہ کبھی تاش کھيلے- کيوںکہ کوئی قريبی دوست نہيں بنا ئے اور جو پہلے کے پرانے دوست تھے- ان سے بھی ايک خاص فاصلہ بڑھاليا- دوستیوں کو خوب بھگت لیا تھا- ارشد نے اپنی بيوی سے پردہ کرانے کے لئے کمرہ کے دروازے بند رکھے تھے- پھر کیرم بورڈ کھیلتے ہوۓ ارشد نے اپنی بيوی کی کوئی بات ياد کرکے کہا کہ اس بے غیرت عـورت پہ تو ذرہ برابر بھی اثرنہیں ہے- (یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا- ظاہر ہے کہ جس کو کوئی بھی سزا نہ ملنے کا يقین ہو، اس نے کیا اثر لینا تھا)- ارشد نے یہ بھی کہا کہ اس کو اب کوئی فکر نہیں- اب اس کی بیوی جو چاہے کرتی پھرے- تھوڑی دير کے بعد نيلوفر نے دروازہ کھٹکھٹاکر ارشد کو چائے کی ٹرے تھمائی اور ہلکے سے کچھ کہا- ارشد نے ٹرے رکھ کرکہا کہ وہ کہہ رہيں ہيں کہ وہ تمہيں ابھی بھی بھائی سمجھتی ہيں اور(ثبوت کے) آڈيو کيسٹ ضائع کرنے کا کہہ رہی ہیں- ( کیا زاہد کے ساتھ بیٹھ کر گندے فوٹو دیکھنے کے باوجود نیلوفر زاہد کو بھی بھائی ہی سمجھتی تھی-) ميں کچھ نہيں بولا- نہ کوئی وعدہ کيا- (نيلوفر کو کمال سے پتہ چل گیا تھا کہ دو ڈھائی ماہ پہلے ہی کمال کے آفس ميں ميری کمال سےکمال کے دوسرے افيئرز کے متعلق باتيں کرتے ہوئے کمال کو شک ہوگيا تھا- اور اس نے زبردستی ميری ايک جيب ميں ہاتھ ڈال کردو میں سے ایک ريکارڈر دستياب کرليا تھا- اس جدوجہد ميں میری پتلون کی جيب بھی تھوڑی سی ادھڑ گئی تھی)- ہم تھوڑی دير اور کيرم کھيلتے رہے- ارشد نے مجھ سے یہ شکایت کی کہ تم نے نیلوفر سے سیکس پر کیوں گفتگو کی- ميں نے ارشد کو بتایا کہ سیکس پر باتیں تو پہلے نیلوفر نے ہی شروع کیں تھیں- نیلوفر تمہاری شکایت کے طور مجھ سے سیکس پر باتیں کرتی رہی تھی- میں نے تو مشورہ دینے کے لئے باتیں کیں تھیں- ڈاکٹر بھی تو سرجری کرتے ہیں- تو ارشد بولا کہ تم نے کب سے اپنے آپ کو ڈاکٹر سمجھ لیا- تو میں یہ نہ کہہ سکا کہ جب سے تمہاری بیوی نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارشد بولا کہ نیلوفر نے بتایا کہ جعفر بھائی مجھ سے پوچھا کرتے تھے- اس لئے میں بتاتی تھی- اسی دوران ارشد نے نيلوفر کی ان باتوں پر جب يہ کہا کہ "بیوقوف تو وہ اتنی ہیں کہ مذاق کو حقیقت سمجھتی ہیں"- تو مجھے ارشد کے بھولے پن پہ بہت پيار آیا اور جی ميں آيا کہ ارشد کے مںہ ميں چسنی دے دوں– زاہد کی ایک اور بات کی تصديق ہو گئی تھی کہ "آپ اگر ارشد کو اسکی بیوی کے بلیو پرنٹس بھی دکھادیں گے جب بھی وہ کہے گا میری بیوی تو بڑی بھولی ہے"– نيلوفرنے 4 مختلف مردوں سے بالکل مختلف باتیں کی تھیں اور مکروفریب کرکے بیک وقت چاروں کو بے وقوف بنايا تھا- (ارشد، کمال، شعيب، اور مجھے) اور ارشد نيلوفر کو بے وقوف (بھولا) کہہ رہا تھا- واہ رے ننھا- ارشد نے یقین کرلیا جب نیلوفر نے سیکس کی باتیں کرنے کے متعلق جھوٹ بولا کہ جعفر بھائی مجھ سے پوچھا کرتے تھے- اس لئے میں بتاتی تھی- ذرا سوچئے- کتنی مضحکہ خیز بات ہے- اگر میں نیلوفر سے واقعی سیکس پرخود گفتگوشروع کرتا یا کرید کرتا تو سوالات کچھ یوں ہوتے-
کیا ارشد نے کبھی تمہارا کھلا سینہ دیکھ کرمیرے نظریں ہٹانے پر یہ کہا ہے- کہ کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہاری طرف ديکھيں-
کیا ارشد نے کبھی کم پیار کرنے کی تمہاری شکایت پر یہ جواب دیا ہے- کہ کيا وہ ہر وقت تمھيں پچ پچ کرتا رہے-
کیا ارشد نے شک کرکے کئی دفعہ تم سے کہا ہے- کہ پتہ نہيں يہ بچے اسکے ہيں بھی يا نہيں-
کیا ارشد کے والد تم پر بری نظر رکھتے ہيں- اور کہتے ہیں يہ پہنو وہ پہنو-
کیا ارشد تمھارے مںہ میں بھی ڈالتے ہیں-
کیا ا رشد تمہیں ويڈيو پر نںگی فلم دکھاتے ہيں-
کیا ارشد نے تم سے یہ کہا ہے کہ کتيا کہيں باہر سے کراکے آ-
کیا ارشد کی گيلی شلوار ديکھ کر تم نے ارشد سے یہ کہا کہ ہاتھ سے کيوں فارغ ہوتے ہو- ميں جو ہوں-
کیا کمال نے تم کو ٹوائیلٹ سے باہر آکریہ بتایا- کہ وہ وہاں مشت زنی کرکے ٹھنڈا ہوگیا تھا-
کیا تم نے زاہد کے ساتھ بیٹھ کر نںگی تصویریں دیکھی تھیں-
تھوڑی ہی دیر میں ارشد یہ بات بھول گیا کہ وہ تھڑی دیر پہلے ہی مجھ سے کہہ چکا ہے کہ اس کی شعیب سے نیلوفر اور کمال کی کوئی بات نہیں ہوئی- جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے- ارشد مجھ سے بول بیٹھا کہ اس نے شعیب کا میری طرف سے دل صاف کرنے کے لئے شعیب سے کہہ دیا ہے کہ نیلوفر نے جعفر سے سیکس پر باتیں کرنے کی غلطی کی ہے- جس کی وجہہ سے بات اتنی بڑھی- ارشد کی یہ بات سن کر مجھے تھوڑا اطمینان ہوا- کہ اب شاید شعیب سے دوستی بچ جائے- کیوںکہ شعیب بہت پہلے اپنی یقینی رائے کئی دفعہ ایسی عورتوں کے متعلق پیش کرچکے تھے- کہ کچھ عورتيں شوہر کے ساتھ کئے گئے سیکس کے معاملات کا ذکر دوسرے مردوں سے کیوں کرتی ہیں اور پھر ان مردوں سے کیا چاہتی ہیں-

ارشد نے مد ينہ منورہ میں مجھ سے اور نيلوفر نے ارشد سے وہاں ہوکرجھوٹ بولا ہے-
جب ارشد کے دسمبر میں مجھے یقین دلانے کے باوجود شعیب نے مجھ سے بالکل قطع تعلق کر لیا- اور ارشد بھی مجھ سے آںکھ مچولی کھیلنے لگا- تو میں نے 10 دس جنوری 1984 کو بڑے ابا (ظھیر صاحب) کو خط لکھا- ساتھ ہی 12 بارہ جنوری 1984 کو ضيا بھائی کو خط لکھا- کوئی جواب نہیں آیا تو11 گیارہ 1984 کو بڑے ابا کو دوسرا خط لکھا- سب کو صرف یہ لکھا تھا کہ ارشد ناراض ہیں- دوستی کرادیں-
مارچ 1984 ميں ارشد اور شعيب میرے پاس اچانک بغیر بتائے طا ئف آۓ- یہ جگہ آرمی کے کیمپ جیسی تھی- سیکیورٹی گیٹ والوں نے بتادیا کہ میرا کمرہ کونسا ہے- میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تووہ اندر آگئے- دونوں نے جارحانہ انداز میں گفتگو شروع کی- ارشد کومیں نے دو تین خطوط درمیان میں دوستیوں کو بچانے کی نیت سے لکھے تھے- ایک خط میں غصہ میں یہ بھی لکھا تھا- کہ میرا ایک کام کردو- اپنی بیوی سے کہنا کہ اس نے جو باتیں یا جو حرکتیں میرے ساتھ کیں ہیں وہ اپنے باپ سے جاکر کرتی- پھر ان سے کہتی کہ آپ جیلس تو نہیں ہو رہے- ان کے جواب دینے کے بجائے ارشد خود شعیب کے ساتھ غیرمتوقع طور پر آموجود ہوا تھا- میں تھوڑا سا گھبرا سا گیا تھا- کیوںکہ اس چھوٹے سے کمرے ميں بيڈ کے نيچے ایک کاغذ کے تھیلے میں بہت سے آڈیو کیسٹس پڑے تھے- اگرچہ ان کی ایک کاپی میں جدہ میں ایک دوست کے ہاں بھی بریف کیس میں رکھ آیا تھا- ارشد نے شعیب سے کہا کہ جب بھی میرے خط کووہ ڈاک میں وصول کرتا ہے تو اس کے پیرکپکپانے لگتے ہیں- میں نے جواب دیا کہ میں تو صرف دوستیاں بچانے کے لئے صفائی پیش کرنا چاہتا تھا- میں نے سوچا کہ ان دونوں کو میرا خیال نہیں آیا- میرے بھی تو پیرنیلوفر کے الزام لگانے کے ڈر پر کئی ہفتوں تک کپکپاتے رہے تھے- پھر شعیب نے پینترا بدلا-اور مجھ پر بلیک میلنگ کا جھوتا الزام لگایا- حالاںکہ بلیک میل تو میں ہوا تھا- پہلے نیلوفر کے ہاتھوں- پھر شعیب کے ہاتھوں- انسان اپنے ہی آئینے میں دوسروں کو دیکھتا ہے- میں نے یہ سوال دونوں سے نہیں کیا- کہ میں ان کو بلیک میل کرکے کیا ماںگ سکتا تھا- یا وہ کیا دے سکتے تھے- ارشد نے پھرشعیب کے بلیک میلںگ کے الزام پہ کہا- (کہ اگر تم کسی کو بتاؤگے تو) زیادہ سے زیادہ لوگ مجھے بے غیرت کہیں گے- (بہرحال میں نے ارشد کی اس بات کو اس کی اجازت سمجھا)- میں نے یہ جواب نہیں دیا کہ اگر مجھے بلیک میل ہی کرنا ہوتا- تو ارشد کو کچھ نہ بتاتا- بلکہ نیلوفرکو بلیک میل کرتا- ہاں اتنا ضرور کہا کہ اگر بات بلیک میلںگ کی ہوتی تو شعیب کو شروع ہی سے نیلوفر اور کمال کی باتیں کیوں بتاتا- جس پر ارشد ناپسندیدگی اور غصہ سے بولا کہ شعیب وکیل ہیں یا منصف- (شاید میں شعیب کو بھی ارشد کی عزت کے خیال سے کچھ نہ بتاتا- اگر شعیب نے مجھے ارشد کے ہاں لانے کے پہلے دن نیلوفر کو دیکھ کر مجھ پر پھبتی نہ کسی ہوتی- کہ مبارک ہو- یہاں پہ بھی وہی کرنا جو اس سے پہلے کیا تھا)- ارشد نے غصہ سے کہا کہ تم نے میری سالی سیما کے لیے رشتہ بھیجا ہے- میری ساس نے خط لکھا ہے کہ ہم جب تک ہاں نہیں کریں گے جب تک ارشد کی طرف سے ہاں نہ ہو جائے- یہ بات غلط تھی- مگر میں نے ارشد کی ساس کا بھرم رکھنے کے لیے جواب دیا- کہ مجھے نہیں پتہ اگر میرے گھر والوں نے کراچی میں رشتہ کی بات کی ہو- میں سمجھ گیا تھا- کہ میرے ارشد کی ساس کو غصہ بھرا خط لکھنے پرانہوں نے حالات کو جانچنے کے لیے یہ رشتہ آنے کا بہانہ گھڑا تھا- ان کے گھر میں فون نہیں تھا اور رابطے کا واحد ذریعہ پوسٹل خط و کتابت تھی- شعیب نے پھر ایک اور جھوٹا الزام مجھ پرلگایا کہ میں نے حسیب صاحب کو بھی نیلوفر اور کمال کے افئیر کا بتا دیا- جس کی میں نے تردید کی اور جواب دیا کہ حسیب صاحب نے تو خود مجھے بولا ہے کہ جس کا معاملہ ہے اس سے زیادہ شور تو شعیب مچا رہے ہیں- (عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے)- ساتھ ہی یہ ذکر بھی نکلا کہ گھر سے نکلنے کے بعد جب میں پہلی دفغہ ارشد سے ملنے مدینہ منورہ گیا- تو ارشد نے مجھے بتایا کہ اس نے شعیب سے بات کرنا چھوڑ دی ہے- کیوںکہ شعیب نے مجھے گھر سے نکلوانے کے لئے میرے کنول سے تعلقات کو وجہہ بنائی تھی- جس کا ارشد کو پہلے ہی سے علم تھا- (اس وقت تک ارشد کو نیلوفر اور کمال کے معاملات کا علم نہیں تھا)- اس بات پر جب شعیب نے سوالیہ نظروں سے ارشد کی طرف دیکھا- توارشد نے میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ جب یہ گھر سے نہیں نکل رہا تھا- - - - - - - ارشد کا یہ الزام بھی غلط تھا- کیوںکہ مجھے تو یہ ڈر ہوگیا تھا کہ کہیں نیلوفر اپنے کپڑے خود پھاڑ کے سعودی پڑوسی کے گھر ميں جاکر مجھ پر یہ الزام نہ لگادے- کہ جعفر نے مجھ پر دست درازی کی کو شش کی ہے- میں تو سالوں تک سعودی جیلوں میں سڑتا رہتا اور کوئی میری بے گناہی کو نہ مانتا- میں تو اپنے ٹوبیکو کے بزنس کو ختم کرنے اور اپنی بے گناہی کے ثبوت جمع کرنے جدہ پہلے سے نیلوفر کوفون پربتا کر آتا تھا- اور شعیب اپنا انتقام لینے کے لئے ارشد کے گھر پر کمال کے ساتھ موجود ہوتے تھے- تاش کھیلتے ہوئے- اپنی دانست میں مجھے جلانے کے لئے- اور مجھے خیال ہوتا تھا کہ جیسے ہی نیلوفر نے ڈگڈگی بجانی شروع کی- یہ شخص مداری کے پالتوبند ر کی طرح ناچنے لگا ہے- پھر ارشد نے جب اس بات پر اعتراض اٹھایا، غصہ کیا- کہ میں نے اس کو نیلوفر اور کمال کے تعلقات کے بارے میں کیوں بتایا تو مجھے بے حد حیرت ہوئی- مدینہ منورہ میں تنہائی میں اس بات پر میرا احسان ماننے والا آج طائف میں شعیب کے سامنے برا منا رہا تھا- ارشد پھر بولا کہ حالاںکہ جعفرکو زاہد نے مجھے بتانے سے منع کیا تھا لیکن اس کو کہیں سے ہاں سننا تھا- (ارشد کا ہاں سننے کا اشارہ ہاتف کی طرف تھا- جس نے ارشد کو بتانے کو کہا تھا)- میں نے ارشد سے پھر کہا کہ اصل بات یہ نہیں ہے- اور میں تم کو پوری بات بتانا بھی نہیں چاہتا ہوں- ارشد نے جواب میں کہا کہ اس نے سب کچھ ذ ہنی طور سے قبول کر لیا ہے- (مگرمیں آج تک قبول نہیں کرسکا-)- ( درحقیقت میں اسے زاہد کے ساتھ رہنے سے بچا نا چاہتا تھا- جس نے نیلوفر کے بقول اسے ننگے فوٹو دکھائے اور پھر دست درازی کی کوشش کی- نیلوفر نے دست درازی کا شعیب سے بھی اعتراف کیا تھا- میں نےارشد کو زاہد کے اس دست درازی کے معاملے کا بیالیس سال تک نہیں بتایا)- ارشد نے پھر غصہ سے کہا کہ میری ساری معلومات کا ذریعہ تو تم ہو- ( میں نے ارشد سے یہ نہیں کہا- اور میری ساری معلومات کا ذریعہ سب سے پہلے تمھاری بیوی- پھر تمھارے بھائی زاہد، ہاتف اور تمہاری ساس ہیں-) (شوہر ہمیشہ آخری شخص ہوتا ہے جس کو اپنی بیوی کے افئیر کا سب کے بعد پتہ چلتا ہے)- ارشد سے ميں نے کہا کہ تم مجھے الٹے سبق حاصل نہيں ہونے دو- تو ارشد نے کہا کہ ميں خود غرض ہوں– تو ميں نے جواب ديا کہ (اگر يہ بات ہے تو) ميں تم سے زیادہ خود غرض ہوں- (میں کیوں زاہد، ھاتف، شعیب، تمہاری ساس اور سب سے پںگا لوں)- ارشد نے کہا کہ ہم تمہیں تمہاری غلط قوت فیصلہ کی وجہ سے جھوڑ رہے ہیں- کاش ارشد ہم نہ کہتا، یعنی شعیب کو شامل کرکے- ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے- کہ وہ کسی سے بھی اپنے تغلقات کسی وجہ سے یا کسی وجہہ کے بغیر منقطع کرلے- لیکن کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ دوسروں سے اپنے مفاد کی خاطر بے بنیاد اسے ورغلا کراور بہکا کرتعلقات منقطع کرائے- پھر بھی میں نے آخری کوشش کی اور اپنی محبت کے واسطے دئیے- مگر ارشد نے کہا کہ اس میں اس کا کیا قصور- اور شعیب نے بھی میرا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا- آخرکار میں نے کہا کہ میں تمہارا انتظار کروں گا- مجھے پتہ نہیں تھا- کہ اس انتظارمیں بیالیس 42 سال گزر جائیں گے- طائف ميں ميرے پاس ارشد کے سارے سوالوں کے جواب ثبوتوں کے ساتھ تھے- مگر ميں نے جواب نہيں دينا چاہا ورنہ ارشد کے پاس کچھ نہيں بچتا- پھر میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ شعیب کو ارشد کے گھر سے زیادہ میرے ساتھ انتقام کی فکر ہے- اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میری اور شعیب کی پراکسی وار میں، اس جںگ میں، جو نیلوفر نے چھیڑ دی تھی، ارشد کا گھر میدان جںگ بن جائے- منتقم مزاجی میں ہم سب ایک ہی تھالی کے چٹےبٹے تھے- تھوڑی دیر میں وہ دونوں چلے گئے- ارشد اور شعیب دونوں نے میرے اوپر ہی الزامات کی بھرمار کری اور کسی نے بھی نیلوفرکو ذرا سا بھی قصوروار نہیں ٹھیرایا-
نواز شریف نے اپنے انتقال سے کوئی تین ماہ پہلے ستمبر 1982 میں جو خواب مجھے سنایا تھا- جس پر میں نے اسے دھکے دیتے ہوئے گھر سے نکال دیا تھا- جس کے بعد وہ کبھی گھر نہیں آیا- اس کی غالبآ یہی تعبیر تھی- اس نے یہ خواب دیکھا تھا- "کہ ہم سب دوست گھر میں بیٹھے ہوئے تھے- نیلوفر سب کے لئے چائے لے کرآئی- چائے میں دودھ ڈالنے کے لئے اس نے اپنی ایک چھاتی باہر نکالی- اورپیالیوں میں ایک ایک کرکے دودھ ڈالا"- جو بات اس خواب کی میں اس وقت نہیں سمجھ سکا تھا- وہ یہ تھی کہ اس طرح سے تو بچے کو دودھ پلایا جاتا ہے- اور نیلوفر کے سب کو الگ الگ بے وقوف بنانے کے اس گیم میں سب لوگ ننھے ثابت ہوئے تھے-
ان واقعات کے بعد میری کنول سے صرف ایک دفعہ اور 15 منٹ کی ملاقات ہوئی اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا- مجھے ارشد کے گھر سے نکل کرکھانا کھاتے وقت ابکائیاں آنا بھی بند ہوگئیں- اور الحمدوللہ پھر زندگی بھر نہیں آئیں- اس کے علاوہ اللہ کے کرم سے میں زندگی بھراتنی مالی تنگی کا شکار کبھی نہیں ہوا- جتنا کہ ارشد کے ہاں رہنے کے دوران ہوا تھا-
ارشد نے مارچ 1984 کے آخرميں فون کرکے مجھے پھرجدہ بلايا- غالبآ اس کو 11 گیارہ فروری کو بڑے ابا کو لکھے ہوئے خط کی اطلاع اب ملی تھی- ارشد پرانے گھر کے قریب ہی دوسرے گھر میں رہ رہا تھا- مجھے پتہ تھا کہ نیلوفر پاکستان گئی ہوئی ہے- ارشد کے گھر میں کجھ نئے دوستوں کی محفل جمی ہوئی تھی- ارشد اور اس کے تین نئے ساتھی کیرم کھیل رہے تھے- زاہد بھی موجود تھا- زاہد مجھے دیکھ کر تھوڑا سا ٹھٹکا- پھر تھوڑی دیر میں چپکے سے کھسک لیا- جب گیم ختم ہوا توکافی رات ہوچکی تھی- سب چلے گئے، صوف ارشد رہ گیا- میں بھی چلا آیا- ایک دو دن کے بعد ہمارے پرانے مشترکہ دوست صابر صاحب نے مجھے کال کرکے کہا کہ ارشد نے کہلوایا ہے- کہ اسے جعفر کا اپنے ہاں آنا جانا پسند نہیں ہے- آخرکار میں نے ہار مان لی- لیکن ميں اپنے ہی خيالات کا قيدی بن گيا اوراس پنجرے ميں قيد ہو گيا- بہرکیف میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ یار زندہ صحبت باقی- گھوڑے کی باگیں تو میرے ہاتھ میں ہیں- گھوڑا جتنا چاہے بھاگ لے- وقت آنے پر باگیں کھینچ لوں گا- پارس پتھرجس کو چھولے، وہ سونا بن جاتا ہے- اسی طرح سے نیلوفرجس کو چھولے وہ گھوڑا بن جاتا تھا-
دو چار ہفتوں کے بعد صابرصاحب کے ہاں ایک پارٹی میں ان کے بلانے پرمیں بھی طائف سے آکرکمپنی کی دی ہوئی مرسیڈیزکار میں ان کے گھرگیا- دس بارہ مرد ایک کمرے میں اورخواتین دوسرے کمرے میں تھیں- ارشد بھی سامنے ہی موجود تھا- آمنے سامنے کی دیواروں کے ساتھ کرسیاں لگی تھیں- ہم دونوں بیس فٹ کے فاصلہ پرتھے- لیکن منہ ایک دوسرے کی طرف ہونے کے باوجود ہم نے آپس میں کوئی بات نہیں کی- اجنبیوں کی طرح بیٹھے رہے، کھانا بھی ایسے ہی تناول کیا-
آپ پورے واقعات کو سمجھ کر مجھ سے اتفاق کریں گے- کہ اگر ارشد کو کسی کو گھر سے نکالنا ہی تھا تو نیلوفر کو نکالتا- اگر کسی سے قطع تعلق ہی کرنا تھا توزاہد سے قطع تعلق کرتا- اگر کسی سے صرف گھر سے باہرہی ملنا تھا تو شعیب سے گھر سے باہرملتا- اگر کسی کا اپنے گھر آنا جانا پسند نہیں ہوتا تو وہ سعید صاحب کے لئے ہوتا- اور اگر کسی کو غلط قوت فیصلے کا الزام دینا تھا توآئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کرغلط قوت فیصلہ رکھنے والے کوالزام دیتا- اورہاں، نیلوفر کے بدںظری کے الزام پر اپنے والد سے ضرور اس کا پردہ کرواتا-
کچھ ہفتوں کے بعد جب حسیب صاحب سے پتہ چلا- کہ زاہد اپنی بیوی کے ساتھ ارشد کے ساتھ رہنے لگا ہے- تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی- اگر ارشد کمال کو اپنے ہاں رکھ لیتا تو مجھے اتنی حیرانی نہ ہوتی- کیوںکہ میں ارشد کو بتا چکا تھا- کہ نیلوفر کا زاہد پربھی الزام ہے- اور زاہد کو بھی نیلوفر کے الزام کا بتا دیا تھا- زاہد کی کیا کوئی ڈیل ارشد کے ساتھ ہوئی- یا کوئی ڈیل نیلوفر کے ساتھ بنی- کیا زاہد نے نیلوفر سے کوئی بدلہ لیا- اور زاہد نے نیلوفر کا مںہ ہمیشہ کے لئے کیسے بند کیا- کیا نیلوفر نے کمال سے ملنے کے لئے زاہد کو میری جیسی کوئی آفر کی- کہ میں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی، اگر آپ مجھے کمال سے ملنے دیں-
= با زیچہ اطفا ل ہے دنیا میرے آگے ہے ہوتا ہے شب و روز تما شہ میرے آگے=
میں یہی سوچتا رہ گیا کہ شاید ارشد نے میرے ساتھ اس لئے تعلق ختم کیا کہ میں نے اس کی بيوی کے ساتھ نہ خود کچھ کرنا چاہا اور نہ دوسرے کو کچھ کرنے دينا چاہا- پھر ارشد نے بعد میں زاہد کو بھی اپنے گھر میں رکھ لیا- جس نے نیلوفر کے ساتھ بیٹھ کر گندے فوٹو دیکھے تھے- اور دست درازی بھی کی تھی- شاید ارشد نے یہ سوچ لیا تھا کہ زاہد کو ساتھ رکھنے میں گھر کی بات گھر میں ہی رہے گی-

بعد ميں ھاتف سے ميری بھی خط و کتابت رہی- جب ارشد کو ہاتف کے مشورے پر ميں نے مد ينہ منورہ جاکرنيلوفر اور کمال کے افيئرکے متعلق بتايا اور اس پر ارشد نے مجھ سے قطع تعلق کرليا تو ميں نے ہاتف کو خط ميں يہ تاريخی جملہ لکھا کہ =" فرض ادا ہو گيا- قرض رہتا ہے-"
ہاتف کی کہی ہوئی باتیں میں نے ارشد کو نہیں بتائیں- صرف یہ بتایا کہ ہاتف نے یہ مشورہ دیا تھا کہ نیلوفر کا کمال کے ساتھ افئیر کا ارشد کو مطلع کردوں- ارشد طلاق ولاق نہیں دےگا-
ارشد نے اس پر بتايا کہ وہ ہاتف سے تھوڑا ناراض ہے کيوںکہ ہاتف نے پہلے ضیا بھا ئی کی بہن کو پھانسا لیکن پھر شادی کہیں اور رچالی-
ارشد کويہ بات معلوم نہيں تھی کہ اسی گلی ميں رہنے والے ميرے دور کے رشتہ دار کا رشتہ ضيا بھائی کی اسی بہن کے ليے آيا تھا مگر انکار ہو گيا تھا- مجھے بھی بہت بعد میں پتہ چلا تھا-
محاسبہ – ضمیر کی عدالت
انسان کبھی کبھی اپنا محاسبہ خود کرتا ہے- میں نے بھی کیا کہ کہیں میرے ذہن میں شعوری یا لاشعوری طور سے نیلوفرکے لئے کوئی بری نیت تونہیں آگئی تھی- جو اس کو کس کرنے کی وجہ بنی- لیکن میرے ضمیر کا جواب نفی میں تھا-
میرے اپنے والد سےارشد کی دوستی ختم ہونے پربار بار مشورہ ماںگنے پر میرے والد کچھ چڑ سے گئے- اورانہوں نے لکھا کہ کیا دوست رشتوں سے زیادہ اہم ہو گۓ- میں نے انہيں جواب میں ہوش سںبھالنے کے بعد سے پاکستان میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے گھنٹوں کا اور ارشد کے ساتھ تین سال میں گزارے ہوئے گھنٹوں کا حساب پیش کردیا- کہ کتنا وقت انہوں نے اور کتنا وقت ارشد نے میرے ساتھ گزارا- جو میری غلطی تھی- اللہ تعالی مجھے معاف کریں کہ میں نے اپنے والد کو دکھ دیا- اور کاغذ کے پھولوں سے خوشبو کی توقع لگا بیٹھا-
ارشد کے والد نے کسی وجہ ہی سے ارشد کی نیلوفر سے شادی کی مخالفت کی تھی- پھر ڈڈن نے مجھے بتایا کہ اس کے والد جب جدہ آئے تھے تو انہوں نے نیلوفرکے متعلق پہلے ہی ڈڈن کو وارننگ دے دی تھی- بعد میں ڈڈن نے خود بھی نیلوفر کا بوسہ لینے کا مجھ سے اعتراف کیا- میرے والد نے بھی صرف ایک وفغہ نیلوفر کو میری بہن کی شادی میں دیکھا تھا- بہت بعد میں یہ سارے واقعات سننے پر انہوں نے کہا کہ تم اپنی ماں سے پوچھ لینا- میری رائے اس عورت کے لئے کچھ اچھی نہیں تھی- مگر میں تقریبآ تین سال ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے کے باوجود نہیں سمجھ سکا-
ارشد کو پہلی دفعہ کمال اور نيلو کے افئيرکے متعلق ميں نے ستمبر1983 ميں بتايا اور اس نے مجھ سے قطع تعلق کر ليا- ميرے ايک بہنوئی کا ٹريفک ايکسیڈ نٹ ميں انتقال ہوگیا توميں پھرجولائی 1984 کے بالکل آخرميں ضيا بھائی کے ہاں ان لوگوں کو چہلم پہ بلانے کے لئے گیا- ارشد کے ابا نے دروازہ کھولا- ميں نے ان کو بتايا کہ ميرے بہنوئی کا انتقال ہو گيا ہے تو انہوں نے اکڑ کے جواب ديا- " ہوا ہوگا "- ميں نے پھرکہا کہ پرسوں چہلم ہے توانہوں نے يہ جواب دے کر" پھر مجھے کيا " دروازہ بند کرديا- ارشد کے ابا کو ميں نے صرف ارشد کی محبت ميں کوئی جواب نہيں ديا ورنہ اگر ان کو بتا ديتا کہ آپ کی بہونےآپ پر بدنظری کا الزام لگایا ہے اور آپ کی سمدھن میری پہلی ملاقات ہی میں آپ کو "نيچ اور کمين" کہہ چکی ہے تو اسی وقت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا- = میچ شروع ہونے سے پہلے ہی وکٹیں گرجاتیں= بہرکيف ميں نے ارشد کے ابا کے اجر يا مکافات کو آخرت کے ليے اس طرح سے موخرکرديا کہ جب مجھے ان کے انتقال کا کافی تاخیرسے پتہ چلا تو 2005 اور2006 کے درميان ميں کام پرآتے اور جاتے ہوئے 40 چالیس منٹ کے راستے پرميں انہيں پڑھ پڑھ کربخشتے ہوئےجاتا تھا- اور اب بھی نمازکے بعد ان کو ایصال ثواب پہںچاتا ہوں تاکہ انہيں عالم برزخ ميں مستقل شرمند گی ہوتی رہے- ان کو میری طرف سے بخشش کی دعاؤں کا فائیدہ ہو یا نہ ہو لیکن ان کو مس کال missed call کا پتہ تو چل جاتا ہوگا- آپ لوگوں کو میں گواہ بنا رہا ہوں-
– اور آخرت ميں تو ان سے ملنا ہی ہے–(sweet revenge) يہی ميرا سوئيٹ رونج ہے-
کچھ دنوں کے بعد میں سعودی عرب واپس آگیا– نہ ارشد نے اور نہ ہی شعیب نے بہنوئی کے انتقال پر تعزیت کے لئے ٹيلیفون کال کرنے کی زحمت گوارا کی- جن کے ساتھ دن رات کا ساتھ تھا- نہ تو شعیب نے مجھے کال کیا اور نہ ارشد نے- = جاتی ہوئی ميیت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کر آ نا سکے- دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں =
کاش مجھے پتہ ہوتا کہ ارشد میرے ساتھ ایسا سلوک کرے گا- تو اپنے ہاتھ سے کمال کو دولہا بنا کر گھوڑی چڑھاتا-
1985 ميں ارشد کی جاب ختم ہوگئی اور وہ پوری فيملی کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو گيا- وہاں پر اس نے سعيد صاحب کے ساتھ پارٹنرشپ ميں بلڈ ر کے طور پر کام شروع کيا مگر پھر سعيد صاحب سے اختلافات ہوگئے اور کچھ ہی ماہ ميں علاحد گی اختيار کرلی- اوريوں ارشد کے سعيد صاحب سے تعلقات بھی ہميشہ کے لئے ختم ہو گئے-
جب ارشد سے میرے تعلقات ختم ہوگئے- تو ميں کافی مہينوں کے بعد ملک سرفراز سے ملا- وہ نہ صرف ارشد کو ننھا کہہ رہا تھا بلکہ نيلوفر کو بھی ننھی کہہ رہا تھا- يہ ننھی والی بات زاہد نے مجھے نہيں بتائی تھی- (ننھی بدنام ہوئی ڈارلںگ تیرے لئے-) ملک نے بتايا کہ وہ زاہد کی شادی سے پہلے زاہد کا ارشد کے ہاں رہنے پران دنوں ميں دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کرزاہد کا مذاق بنايا کرتا تھا- کہ زاہد تيری تو ساری اںگلیاں گھی ميں ہيں اور سر کڑھائی ميں- ميں نے پوچھا کہ زاہد کا کيا جواب ہوتا تھا- تو ملک نے جواب ديا کہ زاہد بس مسکراتا رہتا تھا- پھر ملک سرفراز ہںس کر بولا زاہد بہت ۔ ۔ ۔ ۔ ہے- زاہد سب کچھ کرلے اور چارپائی بھی نہ ہلنے دے- ميں ملک سے بولا ايسا تو نہ بولو– ميں بھی تو وہاں رہ رہا تھا- تو ملک بولا– لو۔ ۔ ۔ ۔ تم نے بھی توخوب مزے اڑائے ہوں گے-
اس کے کچھ دنوں بعد ميری يونس سے ملاقات ہوئی- يونس مجھے ديکھتے ہی بولا- ننھا کہاں ہے- ميں اور ارشد دوستوں کو ہميشہ ساتھ ہی نظر آتے تھے- ہم لوگ ایک جان اور دو قالب کے مثل تھے- ليکن اس سے پہلے کبھی ميں نے ننھا اور ننھی کسی کے مںہ سے نہيں سنا تھا- يا لاعلمی کی وجہہ سے توجہ نہيں دی تھی- = پتہ پتہ بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے- جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے- =
بعد میں جس نے بھی مجھ سے یہ کہانی سنی ، لوگوں کے اصلی نام بتائے بغیر- تو وہ میرے اوپر ہنسا - کہ وہ عورت تو کچھ اور چاہتی تھی- اور تم اس کو سبق سکھانے بیثھ گئے-
میں سوچتا تھا- کیا سیکس اتنا شدید جذبہ ہے- کہ اس کے پیچھے نیلوفرنے نہ صرف میرے ساتھ تین سالوں کے پاکیزہ تعلقات کوباقاعدہ پلانںگ کرکے ملیامیٹ کیا- بلکہ اپنے محبت کرنے والے شوہرکی عزت کوبھی باربارتارتارکیا-

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ارشد میرے ساتھ ایسا سلوک کرے گا- تو کمال کو خود دولہا بنا کرگھوڑی چڑھاتا-
نومبر 1985 ميں شعيب نے مجھے جدہ آفس ميں تين دفعہ ٹيليفون کال کی اور اپنا نمبرآپريٹر کے پاس چھوڑا- آحرکار تیسرے دن تیسری کال پر مجھے ٹیلیفون لینا پڑا- وہ اپنی فیملی کو پاکستان بھیج چکے تھے اور آحری پیکنگ کرکے خود بھی پاکستان مستقل شفٹ ہورہے تھے- انہوں نے اگلے دن مجھے اپنے گھربلايا- ميں اگلے دن ان سے تقریبآ ڈھائی سال کے بعد ملا- تھوڑی سی گفتگو کے بعد شعیب نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ اگر مجھ سے تمھارے اور ارشد والے معاملے میں کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردو- ( کی ميرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ، ہاۓ اس زود پشيماں کا پشيماں ہونا-) (بہت دیر سے اور بہت کم)- مجھے پتہ تھا کہ ان کو ارشد کے معاملے میں میری صاف نیت کا یقین تھا- انھوں نے تو مجھ سے غصہ میں صرف اپنے معاملے کا بدلہ لیا تھا- اور درحقیقت بہت کم لیا تھا- وہ جائز تھے- خطا وار ميں تھا- شاید زاہد کا میرے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ارشد کے ہاں منتقل ہونے پراور نیلوفر کے اعتراض نہ کرنے پر ان کو میری باتوں کا یقین آگیا- اگر وہ شروع ہی میں زاہد کو اس پرالزام کا بتاتے، تو زاہد میری طرح ان کو بھی سب کچھ شروع ہی میں بتا دیتا- اگلے دن وہ خود الحمرا میں میرے اپارٹمنٹ میں آئے اور تھوڑی دیر نارمل طور سے گپ شپ کی- نہ ميں نے ان سے پاکستا ن کا پتہ پوچھا اور نہ انہوں نے مجھ سے پاکستا ن کا پتہ پوچھا- تین چار دن بعد وہ پاکستان روانہ ہو گئے-
جب 1986 کے درميا ن ميں ارشد اپنے اقامہ کی تجديد کروانے اکيلا جدہ آيا- حسیب صاحب سے ارشد نے ملاقات کی- مگر مجھے ارشد نے ٹیلیفون تک نہیں کیا- حسیب صاحب نے کہا کہ ارشد نے بتایا- کہ ماضی میں شعیب کی ایک بات اسے بری لگی تھی- جب ارشد جدہ میں شعیب کے گھر میں میاں بیوی کے بیڈ روم میں اچانک چلا گیا تھا- تو شعیب نے ٹوکا تھا کہ کسی کے بیڈ روم میں بلا اجازت نہیں آنا چاہئے- (جو کہ شعیب کی صحیح بات تھی)- لیکن ارشد نے اس طرح سے بدلہ لیا- کہ کراچی میں شعیب کے نسبتآ چھوٹے گھر میں جہاں بيڈ روم الگ تھلگ نہیں تھا، ارشد نے طںزيہ اجازت طلب کی کہ کیا میں آپ کے بیڈ روم میں آسکتا ہوں- جس پر شعیب کی بیوی نے کہا- کہ ارشد بھائی آپ بھی ہمارا مذاق بنا رہے ہیں- ارشد کے مجھے ٹیلیفون نہ کرنے پر اتنا دل دکھا کہ میں جب اگلی دفعہ حرم شریف گیا تو میں نے دکھی دل سے دعا ماںگی کہ یا رب ارشد کو بہت سی بیٹیاں دیجئے- میری دعا قبول ہو گئی اور ارشد کے ہاں بیٹے پیدا ہونا بند ہو گئے- اورپھر پہ درپہ پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں-
نيلوفر کے مجھ پر الزام لگانے پر ميرا دماغ اجڑگيا تھا- وقتی طور سے عورت کے نام سے چڑ ہوگئی اور ميں نے حرم ميں بيٹھ کر دعا ماںگی کہ يا اللہ مجھے بيٹيا ں مت عطا کريں- اٹھارہ سال تک ميرے پورے خاندان ميں کوئی بيٹی نہيں ہوئی اورہم سب بہن بھا ئيوں کے ہاں اس عرصے ميں ماشاءاللہ گيارہ بيٹے ہوئے- میں زیادہ بچوں کا خواہش مند تھا- مگر بیٹی ہونے کے ڈر سے زیادہ سے پرہیز کیا-
ان سب باتوں کے بعد جب میرے دل میں ارشد کے لئے منفی جذبات پیدا ہونے شروع ہوئے- جبکہ میں اس سے محبت بھی کرتا تھا- تو ميں نے حسيب صاحب سے کسی اور پررکھ کر پوچھا کہ کيا کسی ايک ہی شخص کے ساتھ محبت اورنفرت بيک وقت ہو سکتی ہے- تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا- کیوںکہ انسان کے اعمال اور برتاؤ ہی محبت اور نفرت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں- میرے لئے اس شدت کا یہ نیا تجربہ تھا- مگر میں کوئی جارحانہ قدم نہیں اٹھا سکتا تھا- اگر آپ کا ایک ہاتھ کوئی جرم کرے تو آپ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کو کیسے سزا دے سکتے ہیں-
مجھے افسوس اس بات کا بھی تھا کہ ایک تقریبآ بدصورت عورت نے مجھ پر الزام لگایا- میک اپ کے بغیر تو وہ عورت اچھی خاصی بری لگتی تھی- ارشد کے بچوں میں خوبصورتی تو ارشد کی طرف سے آئی ہے- شعیب سے الزام لگانے والے دن شعیب کے جانے کے بعد نیلوفرسے میں نے یہ بھی کہا تھا- کہ کبھی اپنی شکل دیکھی ہے آئینے میں- دوسرا دکھ اس بات کا بھی تھا- کہ ایک جاہل عورت نے سب کو بے وقوف بنادیا- جس نے کبھی کالج کی شکل نہیں دیکھی- کاش آج شعیب، زاہد اور ہاتف بھی زندہ ہوتے توان کو بھی گواہوں کے کٹہرے میں کھڑا کردیتا-
حسیب صاحب نے اس معاملے پر بھی بات کی کہ ارشد کا پبلک مقامات پر سعودی جوانوں سے اکثر نیلوفرکے ساتھ اشارے بازیوں پر جھگڑا ہوجاتا تھا- حسیب صاحب نے کہا کہ نیلوفر کورنش (ساحل سمندر) پر میک اپ کرکے کیوں جاتی ہے- آخر میری بیوی کو یا کسی اور دوست کی بیوی کوآج تک کسی سعودی نے کیوں نہیں تںگ کیا- کوئی چالیس سال کے بعد حسیب صاحب نے بتایا- کہ نیلوفر ان کی بیوی کے ساتھ بھی فحش اور لچر باتیں کرجاتی تھی- مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ نیلوفر لڑکوں کے علاوہ ملنے والی عورتوں سے بھی سیکس پربلا تکلف باتیں کرلیتی تھی- ان میں حسیب صاحب کی بیوی کے علاوہ نسرین اور ریحانہ وغیرہ بھی شامل تھے-
نا قابل یقین حد تک حیرت انگیز مماثلت
کافی عرصے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ جب کوئی واقعات ہونا ہوتے ہیں- تو عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے- سامنے کی بات نظر نہیں آتی- مجھ کو تجزیہ کرنے پر پتہ چلا کہ میرے کنول والے معاملات میں اورنیلوفر کے معاملات میں کوئی خاص فرق نہیں تھا- ایسا لگتا تھا کہ جیسے ایک ہی اسکرپٹ پر دو فلمیں بنی ہیں- صرف کردار بدل گئے تھے- کہانی ایک ہی تھی لیکن ہیرو، ہیروئین اورپٹواری بدل گئے تھے- واقعات کی اتنی مماثلت، کہ یقین نہ آئے- ان یکساں واقعات کو میں نے تقابلی جائزے کے طور پر جمع کرکے لکھا ہے-
میں 1992 ميں چار ماہ کے لئے امریکہ سے فيملی کے ساتھ پاکستا ن آيا تولاھور ميں شعيب سے ملاقات ہوئی- فون تو میں نے ان کے چھوٹے بھائی کو کیا تھا- لیکں شعیب ہوٹل پہںچ گئے- نارمل باتیں ہوئیں- میں نے ان کو اپنے بیٹوں کی تصویریں دیں-
1992/1993 میں سعید صاحب اور کمال بھی پاکستان سے نیویارک شفٹ ہوگئے-
جنوری 1999 ميں ارشد سے 15 پندرہ سال بعد ملاقات ہوئی- کراچی میں ایک پٹرول پمپ پر پٹرول بھروانے کے دوران اچانک زاہد سے ملاقات ہوئی تو اس کو اپنا فون نمبر دیا- اور اس سے ایک ایسی بات کہی کہ مجھے یقین تھا کہ وہ ارشد کو اب مجھ تک ضرور پہںچائے گا- اگرچہ مجھے ارشد کی رہائش گاہ کا علم تھا- اگلے ہی دن ارشد کا فون آگیا- ہمارے مشترکہ دوست صابر صاحب کراچی میں تھے- ارشد میرے گھر پر آگیا- صابر صاحب کے آنے تک میں نے ارشد کو اپنی فیملی کے سیکڑوں فوٹو دکھائے- صابر صاحب کے آنے پر ہم لوگ ان کے ساتھ سپر ہائی وے پہ لنچ کرنے چلے گئے- اس کے دو ہفتوں کے بعد ارشد سے ایک ملاقات اوراس کے ورکشاپ پر ہوئی- ارشد اب نمازی بھی ہوگیا تھا- جوانی تو خیر دیوانی ہوتی ہے- اچھی بات یہ ہے کہ پکی عمر تک آتے آتے کافی لوگ دین کی طرف راغب ہوجاتے ہیں-
کچھ عرصہ کے بعد میں اور شعیب، میں اور ارشد ایک دوسرے کو کبھی کبھی ای میل کرلیتے تھے-
پھر 2007 ميں شعيب سے لاہور میں اپنی دو بہنوں کی فيملی اور اپنی بيوی سے شعيب کا تعا رف کرايا- شعيب جاتے وقت اپنی ناکام ازدواجی زندگی کا ذکر کرکے آںسوؤں سے رونے لگے- میرے کندھے پر سر رکھ دیا- مجھے بڑا دکھ ہوا- کاش میں حرم میں بیٹھ کرانہیں یہ بد دعا نہ دیتا- کل یا اللہ ان کو گھر کا سکون کبھی مت دیجئے گا-
آخری بار ارشد سے میں 2007 ميں ملا تھا- ارشد کے گھرسے نکلنے کے بعد ارشد کے گھرپر بیٹھ کر چائے پینے کی سعادت پھر کبھی حاصل نہیں ہوئی- پاکستان سے واپسی پر لندن میں دو دن رکنا تھا- ارشد نے کہا کہ عدنان سے مل لینا- لندن پہںچ کر عدنان کو فون کرکے ملنا چاہا مگر عدنان وقت نہیں نکال سکا- 2008 ميں ارشد سے کراچی میں ملاقات کی کوشش کی مگر ارشد وقت نہيں نکال سکا- ندا پاکستان آئی ہوئی تھی- شعیب نے بتایا کہ وہ ندا کی اس کے شوہر کے ساتھ دعوت کرچکے ہیں- میں نے بھی ارشد سے فون پرکہا کہ ميری طرف سے ندا اور اس کے شوہر کو دعوت ہے مگر ارشد نے نہیں ملانا چاہا-
حسیب صاحب نے کوئی پيںتیس سال بعد سال بعد مجھے بتایا- کہ ارشد سے تعنقات ختم ہونے کے بعد سعید صاحب بھی جدہ آئے تھے- اور حسیب صاحب سے اور دوسروں سے کہتے پھررہے تھے- کہ غلطی ان کے بھانجے کمال کی نہیں تھی بلکہ ارشد کی بیوی خود پیچھے پڑگئی تھی- یہ بات کافی حد تک صحیح بھی تھی- کمال اس کتے کی طرح گھسٹ رہا تھا- جو کتیا کے سوراخ میں پھںسا ہو اور محلے کے بچے شرارت میں کتیا کو پتھر مار رہے ہوں- آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ کتیا نے کتے کو پھںسایا ہوتا ہے اور وہ پتھروں سے بچنے کے لئے بھاگ رہی ہوتی ہے- تو کتا بچارہ اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا- اور وہ چیختا چلاتا پیچھے پیچھے گھسٹتا جاتا ہے- یاد کریں- ارشد نیلوفر کو کہتا تھا- کہ "کتیا کہیں باہر سے کراکے آ-"
میں اور شعیب، میں اور ارشد واٹس ایپ پر لکھ کر پیغام رسانی کرلیتے تھے- اور دوچار دفعہ کال بھی کرلی- ارشد ذاتی باتوں سے پرہیز کرتا تھا- ارشد کی اولادوں میں سے مجھے کسی کی شادی کا علم نہیں ہوا- ارشد کے والد کے انتقال کا بھی کئی سال بعد پتہ چلا = کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو یا نہ یاد ہو= بڑی ٹریجڈی یہ ہوئی کہ ارشد کی محبت میرے دل سے کافی عرصہ تک نکل نہیں سکی-
19 انیس ستمبر2017 سے 27 ستائیس ستمبر 2017 تک شعيب نے امريکہ ميں ميرے ساتھ وقت گزارا- وہ کوئی 6 ماہ نیویارک میں اپنے بڑے بھائی کے ہاں ٹھیرے- بیچ میں میرے پاس آئے- میں نے ہی ان کو اپنی مرسیڈیزکار میں ایرپورٹ سے لیا- یہاں یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے- ہر تیسرے چوتھے شخص کے پاس ایسی کار ہوتی ہے- میں الحمدوللہ پجھلے پچیس سال سے بدل بدل کر مرسیڈیزگاڑیاں ہی رکھتا ہوں- اور میرے سارے بہن بھائیوں کے پاس تو اس سے بھی زیادہ قیمتی گاڑیاں رہتی ہیں- میں ان کو اپنے گھر لایا- جہاں اب ہم دو میاں بیوی سات بیڈروم، چار باتھ روم، دو لوںگ روم اور دو ڈائیننگ روم کے مکان میں اکیلے رہتے تھے- بچے دوسری ریاستوں میں رہتے ہیں- جبکہ میرے بہن بھائیوں کے گھروں کے مقابلے میں میرا گھر ایک جھوںپڑی کی حیثیت کی طرح سے ہے- یاد کریں- جب شعیب نے نیلوفر کے بھڑکانے پرمجھے طعنہ دیا تھا کہ "تمہارے باپ کی مالی حالت کا سب کو پتہ ہے"- ايرپورٹ سے آتے ہوئے میں نے شعیب کر یاد دلایا کہ آپ نے (قطع تعلق کرتے ہوئے) کہا تھا- کہ سعودی عرب کی دوستی بھی کيا دوستی ـ تو شعیب نے جواب میں کہا کہ وہ غلطی پہ تھےـ میں ان کو کافی پہلے لکھ چکا تھا- کہ اگر ہماری دوستی منقطع نہ ہوتی تو یا تو آپ میرے ساتھ امریکہ میں ہوتے یا میں آپ کے ساتھ لاہور میں ہوتا- ارشد سے تو میری محبت شعیب کی بہ نسبت ایک درجہ زیادہ تھی- شعیب اب امریکہ مستقل طور پر شفٹ ہونا چاہتے تھے- ہم دونوں نے ان کے اگلی دفعہ مستقل آنے پر ساتھ میں کاروبار کرنے کا پروگروام بنایا- لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا- ان کو پاکستان سے امریکہ واپس آنے میں کچھ تاخیر ہوئی- اور4 چار فروری 2019 کومیرے پیارے دوست شعیب لاہورمیں اس د نيا سے رخصت ہو گئے- میں تین دن تک ان کو یاد کرکرکے روتا رہا- لیکن ان کے کسی دوست کو پاکستان فون کرکے تعزیت کرنا چاہی توان کے دوست کی بے حسی پر بڑا افسوس ہوا- میں نے ان کی قبر پر جانا چاہا، لیکن 2021 میں ہی جاسکا- اللہ تعالی ان کی بخشش فرمائیں-
عمر کے اس حصہ میں آکر سوچتا ہوں- کہ میں نے اتنی محبت ارشد اور شعیب سے کی- کاش اللہ تعالی سے کی ہوتی- تو کچھ فائیدہ ہوتا- میں چاہتا ہوں کہ ارشد اپنے نزع کے وقت تک مجھے یاد رکھے- محبت سے نہ سہی، نفرت سے سہی- اسی لئے میں نے یہ سب کچھ قلمبند کیا-
پھر 2020 میں ارشد نے فون پر بتایا کہ شعیب کی بیوی نے کوئی دو سال پہلے اپنے چھوٹے بیٹے کا رشتہ ارشد کی بیٹی کے لئے ماںگا تھا- جس پر شعیب نے کہا تھا- کہ وہ اس معاملے میں نیوٹرل رہیں گے- پھر ان ہی دنوں ارشد نے بتایا کہ اس کی ہمارے پرانے جدہ کے ساتھیوں سے وقفہ وقفہ سے کراچی میں اس سال انفرادی طور سے ملاقات ہوئی- وہ عبدالمجید، سکندر اور ڈڈن سے الگ الگ ملا- میں نے عبدالمجید اور سکندر کا فون نمبر ماںگا لیکن ارشد نے نہیں دیا- میں ڈڈن سے جدہ میں کبھی نہیں ملا تھا- اور ارشد یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ میں کیا کبھی نیلوفر اور کمال کے افئیر کے بعد ڈڈن سے کراچی میں ملا تھا- اس نے مجھ سے یہ جھوٹ بولا کہ اس کا پرانا دوست ڈڈن کینیڈا مستقل شفٹ ہوچکا ہے- جو پاکستان کی وزٹ پر اس سے بھی 2020 میں مل لیا تھا- میں نے ارشد سے ڈڈن کے سلسلہ میں کوئی تجسس نہیں کیا، کوئی سوال نہیں کیا- خاموش رہا- لیکن کچھ دنوں کے بعد ڈڈن کو ڈائیرکٹ کال کیا- تو پتہ چلا کہ وہ تو کبھی بھی کینیڈا نہیں گیا- اور ابھی کچھ دن پہلے ہی کوئی چالیس سال بعد اس کے ارشد سے تعلقات بحال ہوئے ہیں اور وہ ارشد سے ملنے کبھی کبھی اس کے گھر چلا جاتا ہے- میرے دل میں غصہ اورپہلی بار نفرت کی بھی ایک لہر دوڑ گئی- زاہد کی یہ بات بھی سچ ثابت ہو گئی کہ ارشد کو سب پتہ ہے اپنی بیوی کے پچھلے کرتوتوں کا- ورنہ ارشد کو ڈڈن کے سلسلہ میں مجھ سے یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی- کہ ڈڈن کینیڈا مستقل شفٹ ہوچکا ہے- اس کے باوجود ارشد نے شعیب کے ساتھ میرے پاس طائف آکر اپنے دامن کی غلاظت میرے مںہ پر مل دی اور ایک دفعہ بھی میرے سلسلہ میں اپنی بیوی کی کوئی بھی غلطی نہ مانی- اورمجھ سے قطع تعلق کرلیا- حالاںکہ ارشد کو چاہئے تھا کہ اپنی بیوی کے پچھلے کرتوتوں کا غلم ہونے کے بعد اس بھوںکنے والی کٹخنی کتیا کوکسی زنجیر سے باندھتا یا لوگوں کو اپنے گھر سے دور رکھتا- تاکہ بار بار وہ دوسروں کو نہ کاٹتی- اور میں بھی بچ جاتا-
بارہ 12 مئی 2021 کو آخری بار ميری ارشد سے فون پربات ہوئی- ارشد نے مجھے پچھلے بیالیس سال میں کوئی ایسا بہانہ تک نہیں دیا- کہ جس کی بنیاد پہ میں یہ سب حقائق لکھنے سے باز رہتا-
بڑی ٹریجڈی یہ ہوئی تھی کہ ارشد کی محبت میرے دل سے کافی عرصہ تک نکل نہیں سکی- آپ لوگوں میں سے شاید ہی کوئی یہ بات سمجھ سکے- یہ بڑا المیہ تھا اور کئی دہائیوں تک مجھے یہی خیال رہا کہ شاید وہ سب ایک بھیانک خواب تھا- اور جب جاگوں گآ تو ارشد سامنے کھڑا ہوا ملے گا، یہ کہتا ہوا کہ آؤ گھر چلیں-

یہ کچی قبر میرے پیارے دوست شعیب ہی کی ہے
CANAL VIEW SOCIETY GRAVEYARD, LAHORE

مونا (1982)

مونا (1982)

مونا (1982)

شعیب ڈار

ڈ ڈ ن کا بیٹا ذوالقرنین

سلیم کا چھوٹا بیٹا طارق
یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے، توڑیں گے دم اگر، تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ د یس ہوا د یوا نہ
سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری، سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی
دوری نہ رہے کوئی، آج اتنے قریب آ ؤ، میں تم میں سما جاؤں، تم مجھ میں سما جاؤ
We use cookies to analyze website traffic and optimize your website experience. By accepting our use of cookies, your data will be aggregated with all other user data.