• مختصر BRIEF
  • مفصل DETAILS
  • متفرق MISC
  • مثالیں PROVERBS
  • مذاق JOKES
  • مشتہر ADS
  • مصور GALLERY
    • مصور GALLERY
    • مصنوعی AI
  • مطا لعہ STUDY
    • مطا لعہ STUDY
    • مقا لہ THESIS
  • More
    • مختصر BRIEF
    • مفصل DETAILS
    • متفرق MISC
    • مثالیں PROVERBS
    • مذاق JOKES
    • مشتہر ADS
    • مصور GALLERY
      • مصور GALLERY
      • مصنوعی AI
    • مطا لعہ STUDY
      • مطا لعہ STUDY
      • مقا لہ THESIS

  • مختصر BRIEF
  • مفصل DETAILS
  • متفرق MISC
  • مثالیں PROVERBS
  • مذاق JOKES
  • مشتہر ADS
  • مصور GALLERY
    • مصور GALLERY
    • مصنوعی AI
  • مطا لعہ STUDY
    • مطا لعہ STUDY
    • مقا لہ THESIS

ساس کا تحفہ دامادوں کے لئے

میرے پاس نو 9 مختلف ٹرمپ کارڈ ز ہيں جن ميں ايک زاہد کا بھی ہے اور ميں چاہتا ہوں کہ زاہد کے کسی بيٹے کے ساتھ نیلوفر کے تین 3 داماد بھی ميرے ساتھ ٹيليفون کانفرںس ميں شريک ہوں تاکہ زاہد کی طرف کی کہانی بھی خود اپنے کانوں سے سن سکيں- یہ کہانی ایک امانت تھی-


يہ کہانی ابھی ميں مکمل نہيں لکھ سکا ہوں- صرف تہائی لکھ پایا ہوں- آپ مجھے تین ماہ ديں اور دوبارہ اس سائيٹ پر آئيں- جب تک آپ کوارشد اور نيلوفر کے جھوٹ اور سچ کا بھی پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنی قلابازیاں کھاتے ہیں- جھوٹی قسميں کھا کر آخرت کی رسوائیاں چاہتے ہيں یا سچ بول کر یہاں رسوا ہونا پسند کرتے ہیں- سو جوتے یا سو پیاز کھانے کی مثال کی طرح سے ثبوتوں کے بعد دنیا میں بھی تھو تھو ہوئی- اورآخرت بھی گئی- تین ماہ ميں اس کہانی کو مکمل لکھ لوں گا- پھر اس کے بعد میں کسی رائیٹر کی خدمات حاصل کروں گا، تاکہ وہ اسے باقاعدہ ڈرامائی تشکيل دے سکے- پھر میں کنٹریکٹ پر ویب سائیٹ کا انتظام کسی اور کو دے دوں گا-


نیلوفر کے ساتوں دامادوں کو جاننا چاہئے کہ ان کی ساس صرف ساس ہی نہیں بلکہ ہاٹ ساس ہے- بڑی سيدھی سادھی، معصوم اور بھولی بھالی نظر آتی ہے- اس جاہل عورت نے کبھی کالج کی شکل تک نہیں دیکھی مگر عا شقی اور مکروفریب میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے- یہ سچی داستان تمام دامادوں کے لیے ہے- انہیں اپنی ساس کا تحفہ سمجھ کر قبول کرنا چاہیے-


= پڑھیں ہیں عشق کے دفتر، الف بے تے نہ ہم سیکھے = فقط عشق کے دفتر میں ہم نام صنم سیکھے =  


نیلوفر کے دامادوں کو نیوٹرل نہیں رہنا ہے- یا تو میرے ساتھ ہوں، یا میرے خلاف ہوں- نیوٹرل رہنے والے کو میں اپنے خلاف ہی سمجھوں گا- ایک درخواست میں نیلوفر کے دامادوں سے ضرور کروں گا کہ ان واقعات سے حوصلہ پاکر اپنی بیوی کے ساتھ ارشد کی طرح غیرفطری، غیر اخلاقی اور غیرشرعی عمل کی طرف بالکل نہ جائیں- بیوی کو یہ کہہ کر، کہ تمہارا باپ بھی تو تمہاری ماں کے منہ میں ڈالتا تھا-


نیلوفر کی اولادوں کو بھی اپنی ماں کے افیئرز کی یہ داستان ضرور پڑھنی چاہیے- تاکہ وہ بھی محسوس کرسکیں کہ میں نے کیسا محسوس کیا تھا- میں بھی ان کی ماں کو ان ہی کی طرح مقدس ہستی سمجھتا تھا

ساس نے داماد کو سلامی میں دیا انوکها تحفہ

neelofar's HISTORY

نیلوفر کا نواں یار

26 سالہ نیلوفر نے خود مجھے اپنے کمال سے عشقیہ تعلقات کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کنوارا کمال اپنے شادی شدہ ادھیڑ عمر کے چچا سعید صاحب کے ہاں رہتا تھا، اور دونوں سے ہماری دوستی تھی۔ سعید صاحب کی طلاق کے بعد یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ نیلوفر نے مجھے ہنس ہنس کر بتایا کہ کمال اس دفعہ اسے دیکھ کر اتنے بے حال ہو گئے تھے کہ باتھ روم چلے گئے۔ باہر آ کر نیلوفر کو کمال نے ہنستے ہوئے بتایا کہ اسے اپنے آپ کو ہاتھ سے فارغ کرنا پڑا۔ نیلوفر نے کہا کہ وہ دونوں کئی دفعہ کس بھی کر چکے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کمال جب اسے (نیلوفر کو) کس کرتا ہے اور وہ آنکھیں بند کر لیتی ہے تو اس کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ارشد اسے کس کر رہے ہوں۔ نیلوفر نے یہ بھی ذکر کیا کہ کمال اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بھی چاہتے ہیں، اور کمال کے پڑوس کا پاکستانی جوڑا دو ہفتے کے لیے اپنے گھر کی چابیاں کمال کو دے کر پاکستان جا رہا ہے، جہاں تنہائی میں ملنے کا پروگرام ہے۔ نیلوفر پھر وقتاً فوقتاً مجھ سے بھی سیکس کے بارے میں باتیں کرنے لگی اور اپنے شوہر سے اپنی جنسی نارضامندی کا بھی ذکر کرنے لگی۔ نیلوفر نے مجھے بتایا کہ اس نے ارشد کے کزن زاہد کے ساتھ بیٹھ کر گندی اور ننگی تصويریں ديکھں۔ نیلوفر نے مجھ سے بھی کراہیت آمیز کس کروانے کے تین دن بعد ناشتہ کرتے ہوئے اچانک اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں ڈال کر کہا کہ 'میں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے دیں'۔ میرے وہاں سے غصے میں کچن میں بھاگنے پر وہ کچن کے راستے کو روک کر لگاوٹ بھرے انداز میں اپنے آپ کو سپرد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ میری کامیاب مزاحمت پر تیسرے دن نیلوفر نے ہمارے مشترکہ دوست کو کال کرکے الٹا مجھ پر الزام لگا دیا، اور مجھے راستے سے ہٹا کر کمال کے لیے راستہ صاف کر لیا۔

Package of dried water lily flower by Family Foods.
USPS Healing PTSD stamp with seedling image.

میری ساری زندگی پر اثرات

شروع کے کچھ مہینوں تک توان الزامات کی وجہہ سے میں اتنا ڈ یپریشن ميں چلا گیا کہ موت کی سوچا کرتا تھا- مرنے کی دعائیں کرتا تھا- اگر میرا اقامہ کاروبار کی وجہہ سے پھنسا نہ رہتا اور مجھے اپنے والد کو بچانے کے لئے سعودی اور پاکستانی بینکوں کی ٹرانزیکشن مکمل نہ کرنی ہوتیں، اور قرضے نہ اتارنے ہوتے- تو میں سعودی عرب سے ہمیشہ کے لئے بھاگ جاتا- ان دنوں پاکستان میں فارن ایکسچینج ریسٹرکشن کی وجہہ سے بینک کنٹرول بڑا سخت تھا- اس لئے معاملات کو سلجھانے کے لئے مجھے سعودی عرب میں رکنا تھا- لیکن جو واقعات مجھے ارشد کے گھر میں پیش آئے- انہوں نے میرے ذہن کی حالت اجاڑکے رکھ دی- راتوں کو میں بد روح کی طرح ٹہلتا تھا- لوگ میری گم سم حالت کی تصویر اتارتے تھے جو انہوں نے مجھے بعد میں دکھائیں- میرے نئے ساتھ کام کرنے والوں نے میری ملازمت بچانے کے لئے جاب میں میری مدد کی- مجھے اپنا ٹوبیکو کا کاروبار حالات کی وجہہ سے بند کرنا پڑا- میری شادی میں انہی واقعات کی وجہہ سے بہت سی الجھنیں آئیں- ان واقعات کا اثر آج تک میرے ذہن پر ہے- میں (Post Traumatic Stress Disorder) (PTSD) کا شکار ہوگیا جو اگرچہ لاعلاج مرض نہیں ہے- لیکن علاج کرانے کے باوجود میں ٹھیک نہیں ہو سکا اور آج بیالیس سال گزرنے کے باوجود میں اسے بھگت رہا ہوں- میں نے امریکن یونیورسٹی میں آگے پڑھنے کے لئے ایڈمیشن تو لے لیا- لیکن (توجہ کے ارتکاز کی کمی)(Attention Deficit) کی وجہہ سے کلاسیں جاری نہ رکھ سکا- نماز یا حرم تک میں عبادت کے دوران میں ان خیالات سے کوششوں کے باوجود پیچھا نہیں چھڑا سکتا تھا- میں نے اپنی ساری زندگی میں گہری دوستیاں پھر کبھی نہیں کیں اور بچے کھچے دوستوں کے ساتھ بھی فاصلہ بڑھا لیا- دوستوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ارشد کے بعد زندگی بھر پھر کبھی کیرم، تاش یا کوئی بورڈ گیم نہیں کھیلا- ایک جگہ ایسی جاب تھی- جہاں دن میں بیس پچیس مردوں عورتوں سے انٹرویو کرنے ہوتے تھے- تو خاص طور سے بند آفس کی راہداری کی دیوار میں شیشے کی بزی سی کھڑکی لگوائی- تاکہ باہر والوں کو اندر نظر آسکے- حد تو یہ ہے کہ اگر کئی منزلہ عمارت کی لفٹ میں اتفاقیہ کوئی عورت تنہا میرے ساتھ آجاتی ہے تو میں خوف کے مارے اپنے مطلوبہ فلور سے اکثر پہلے ہی لفٹ سے باہر آجاتا ہوں- ایسی بے شمار باتیں ہیں- میری مسخ ہوئی شخصیت پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے- جو میں ضرور لکھوں گا-

 "ياد ماضی عذاب ہے یارب- چھین لے مجھ سے حافظہ میرا"

ان معاملات کی وجہہ سے میرے مالی نقصانات

میں کاروبار میں شروع میں بہت نقصان اٹھا رہا تھا- اور مرے پر سو د رے- نيلوفر کا يہ کھيل شروع ہو گیا- کمال اور نيلوفر کی عشقیہ کہانی نے میرے دل و دماغ کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے تہہ و بالا کر دیا۔ سولہ 16 جنوری 1983 اتوار کو نيلوفر نے مجھ سے اپنی کہانیاں شروع کیں- اور چھ 6 مارچ 1983 کو میں ارشد کے گھر سے مکمل طور پر نکل گیا۔ اگرچہ اپنا آخری سامان کپڑے وغیرہ 8 اپریل کو ارشد کے ہاں سے اٹھایا، لیکن اس ستائیس 47 دن یا سات ہفتے کے اس ڈرامے نے میری زندگی کو متاثر کیا۔ میں اپنی زندگی کے بدترین مالی بحران سے گزر رہا تھا- خاندانی نسخہ سے بنا کر پاکستان سے بیس 20 ٹن حقہ کی تمباکو بینک کے ادھار پر درآمد کی تھی- اور مزید ساٹھ 60 ٹن کا سامان آرڈر کر دیا تھا- ساتھ ہی جدہ میں ایک کنسٹرکشن کمپنی میں ساجھے داری بھی قائم کی تھی۔ اس کنسٹرکشن میں ہم تین ساجھے دار تھے- ایک سعودی شخص، ایک بوڑھا پاکستانی آرکیٹکٹ پاشا اور میں۔ پاشا شاطر آدمی تھا، اور پیسے صرف میں نے لگائے تھے، اتنے کہ ان پیسوں سے میں جدہ میں ایک اچھا ریسٹورنٹ کھول سکتا تھا۔ پاشا نے حرم کے سامنے کھڑے ہو کر میرے ساتھ کاروبار میں ساجھے داری کی تھی، لیکن وہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے باز نہیں آیا۔ میں جدہ میں حقہ کی تمباکو درآمد کرتا تھا، اور میرے والد کراچی سے خاندانی نسخے کی بنیاد پر تمباکو بنوا کر ایکسپورٹ کرتے تھے۔ میں جدہ میں کامیاب ہونے کے بعد ریاض اور دھران میں بھی تمباکو کا کام ارشد اور شعیب کے ساتھ ساجھے داری میں بڑھانا چاہتا تھا، مگر چھببیس سال کی عمر کی نا تجربہ کاری سے شروع ہی میں اتنا نقصان اٹھا بیٹھا تھا جو میری اس وقت کی 24 ماہ کی تنخواہ کے برابر تھا۔ ہم پاکستان اور سعودی عرب میں قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ والد سمجھاتے تھے کہ نقصانات پورے کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پیسہ جہاں گرا ہے، وہیں سے اٹھاؤ۔ لیکن اس وقت نيلوفر کے ساتھ تعلقات کے باعث، گھر، دوست اور جدہ چھوڑنے کے بعد میری دماغی حالت اس قابل نہیں تھی کہ کچھ کر سکوں۔ طائف میں ملازمت تلاش کرتے وقت نئے آفس کے ساتھیوں نے ترس کھا کر میری مدد کی۔ تقریباً تین چار ماہ تک میں ہر وقت کھویا کھویا رہتا تھا۔ میرا پاکستان فون کرنے کا بل ہر ماہ ڈھائی تین ہزار ریال کے لگ بھگ آتا تھا تاکہ لمبی باتیں کرکے اپنے گھر والوں سے سکون حاصل کر سکوں۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے کیش فلو رک گیا۔ دونوں ملکوں کے بینک جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ سعودی عرب سے بھاگ جانے کا سوچتا تھا، مگر قرضوں اور کفیل کی وجہ سے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں خودکشی تک کی سوچا کرتا تھا۔ آج تک مجھے تمباکو کا کاروبار بند کرنے کا دکھ ہے۔ اگر میں کاروبار بند نہ کرتا تو یہ کاروبار کچھ ہی سالوں میں گلف کے سارے ممالک تک پھیل چکا ہوتا۔ کبھی کبھی تمباکو کے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے کا سوچتا ہوں، تاکہ یہ خاندانی نسخہ میرے ساتھ قبر میں نہ چلا جائے، لیکن میرے بچوں کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

ميری شا دی

میں ضیا بھائی سے اور ان کے والد ظہیر صاحب سے، جن کو ارشد بڑے ابا کہتا تھا، کراچی میں ان کے گھر پر اگست 1983 میں مل چکا تھا۔ ضیا بھائی ہی نے مجھے ہاتف کا ایڈریس بتایا تھا، اور انہوں نے ہی میرا رشتہ اسماء سے لگانے کی کوشش کی تھی، جس کے والدین کی رہائش کشمیر روڈ پر تھی۔ میں اس لئے فوری شادی کرنا چاہتا تھا کہ میں بھی ارشد اور نیلوفر کی طرح عزت دار بن جاؤں، مجھ پر آئندہ کوئی اور عورت الزام نہ لگا سکے اور کسی بناسپتی گھر کے بجائے میرا اپنا گھر ہو جائے۔ لیکن اسماء کے ہاں سے جواب آنے سے پہلے ہی میرے لئے کسی اور فیملی نے دلچسپی لی، اور جھٹ پٹ رشتہ طے ہوکر تین دن بعد میرے ہی گھر پر نکاح کا فیصلہ ہوا۔ لیکن لڑکی نے نکاح سے صرف ایک دن پہلے شادی سے انکار کردیا۔ یوں شادی سے پہلے ہی طلاق ہو گئی۔ اسماء کی طرف پلٹ کر آنے کی کوشش کی تو ضیا بھائی نے بتایا کہ گرم لوہے پر چوٹ نہیں پڑی تھی، اس لئے معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ یوں مجھے بغیر شادی ہی سعودی عرب واپس آنا پڑا۔ پھر میری شادی کی ہمت ختم ہوگئی۔ لیکن پھر چار سال کے بعد حادثاتی اور تجرباتی طور پر صرف تین دن کے اندر اندر جدہ ہی میں مختصرآ چپ چاپ میری شادی تو بغیر بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کی شرکت کے ہو گئی- لیکن بیوی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ میں بڑا ٹائم لگ گیا۔ میں شادی سے ایک دن پہلے بڑا پریشان سا تھا، جیسے ذبح ہونے جا رہا ہوں۔ میری ماں نے حرم میں طواف ختم کرتے ہوئے حجر اسود کے سامنے میرا پریشان چہرہ دیکھا تو روہانسی ہوکر بولیں کہ 'تمہیں ایسے دیکھ کر مجھے تمہارے سوا اور کوئی دعا یاد ہی نہیں رہتی'۔ صرف میرے ماں باپ ہی میری شادی میں موجود تھے، اور کوئی بہن بھائی تک شریک نہیں ہوسکا۔ انہیں شادی کا پتہ بھی ایک ہفتے کے بعد ہوا۔ پاکستان میں ہمارے گھر کی شادیوں میں تو سات سو کے قریب لوگ شریک ہوجاتے تھے۔ میری ہمت نہ ہوسکی-

Young boy committed suicide due to blackmailing

  

https://www.cnn.com/2022/05/20/us/ryan-last-suicide-sextortion-california/index.html  A 17 years old boy committed suicide in California, USA

Two-faced people comfort and harm simultaneously.

زاہد

نیلوفر نے ضمیر کی ایک بڑی خطاء شعیب اور ضمیر تک پہنچا کر ان کو میرے خلاف کردیا تھا۔ میں نے ضمیر کی خطا کو نیلوفر کو سمجھانے کے انداز میں بیان کیا تھا۔ بعد میں نیلوفر کی سکھائی ہوئی یہی ترکیب (حربہ) استعمال کرتے ہوئے میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفرنے آپ پر الزام لگايا ہے کہ زاہد بھائی نے پہلے گندے فوٹو دکھائے۔ پھر جب آپ دست درازی کے لیے اس کی طرف بڑھے، تو اس نے کھینچ کر لات ماری۔ اس پر زاہد نے نیلوفر کے پچھلے افئیرز کی اتنی زیادہ باتیں مجھ سے کیں کہ میں نے بعد میں سوچا کہ اگر میں زاہد سے یہ باتیں نہ سنتا تو میری ذہنی حالت کے لئے شاید زیادہ اچھا ہوتا۔ زاہد کے یہ کہنے پر کہ ارشد سننے سے بھاگ جاتا ہے، میں نے زاہد سے ڈھکے چھپے لفظوں میں پوچھا کہ اگر ارشد کی بیوی یہ سب کچھ بلا خوف بار بار کنوارے لڑکوں سے آشنائی کرتی ہے تو کہیں اس میں ارشد کی بھی اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے اپنی رضامندی تو نہیں شامل ہوتی؟ تو زاہد نے ہنس کر جواب دیا کہ اپنی شادیوں سے پہلے ہم دونوں ایک دوسرے کو چھیڑا کرتے تھے۔ "تیری بیوی میرے ساتھ - نہیں تیری بیوی میرے ساتھ"۔

 اس فعل کے کئی نام ہیں- ادلا بدلی، ڈبل پلیژر، ایک ٹکٹ میں دو مزے، جوائنٹ فیملی سسٹم، اوپن میرج، اور ٹو ان ون-

ہاتف

ہاتف کراچی پولی ٹيکنک کی اسٹوڈنٹس يونين کے صدر رہ چکے تھے–  انہوں نے نہ صرف زاہد کی باتوں کی تصديق کی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ تو بہت لحاظ کرکے بتا رہے ہیں– سلیم نے بتایا تھا کہ نیلوفر تو لڑکوں کے کمرے میں چلی آتی تھی اور پاجامے میں ہاتھ ڈال کے گھوڑا پکڑ لیتی تھی. یہ تمام واقعات اور تفصیلات مختلف داستانوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ بعد میں هاتف سے میری بھی خط و کتابت رہی– جب ارشد کو هاتف کے مشورے پر میں نے مدینہ منورہ جا کر نیلوفر اور کمال کے افيئر کے متعلق بتایا تو اس پر ارشد نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا۔ میں نے هاتف کو خط میں یہ تاریخی جملہ لکھا کہ ="فرض ادا ہو گیا– قرض رہتا ہے"=۔ میں نے یہ بھی لکھا کہ ارشد کا نیلوفر سے اب مجھ سے پردہ کرانے پر مجھے بڑی ہنسی آئی- جس عورت کا پردہ کبھی کسی سے نہیں رہا- ارشد اب اسی عورت کا مجھ سے پردہ کرا رہا ہے۔  ارشد نے بتایا کہ وہ هاتف سے تھوڑا ناراض ہے کیونکہ هاتف نے پہلے ضیا بھائی کی بہن کو پھانسا لیکن پھر شادی کہیں اور رچا لی۔ ارشد کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اسی گلی میں رہنے والے میرے دور کے رشتہ دار کا رشتہ ضیا بھائی کی اسی بہن کے لئے آیا تھا مگر انکار کر دیا گیا تھا- مجھے بھی کئی سال بعد پتہ چلا تھا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی هاتف کے بیٹے کو آرمی میں جنرل کا عہدہ عطا فرمائیں۔

شعیب

شعیب نے کہا کہ اگرتم نیلوفر کو وہ بات نہيں بتاتے جو صرف ميرے اور تمہارے درميان کہی گئی تھیں- تو ميں سمجھتا کہ يہ عورت ميرے دل ميں تمھارے لئے نفرت بٹھانے کی کوشش کررہی ہے- ميں نے جواب ديا کہ ارشد کی اچھائی کو اجاگر کرنے کے چکر ميں، ميں نے اپنی برائی بھی تو کردی تھی، - اس حقیقت پر وہ خاموش ہوگئے- میں نے شعیب کو یہ نہیں جتایا کہ اگر میری نیت نیلوفر کے لئے واقعی خراب ہوتی- تو میں شعیب کی وہ باتیں نیلوفر کو بتا کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی نہیں مارتا- اتنا بے وقوف میں ہرگز نہیں تھا- کاش نیلوفر شعیب کی یہ راز کی بات شعیب کو میرے خلاف کرنے کے لئے نہ بتاتی- باقی سب کچھ وہ بے شک بتادیتی- اگر نیلوفر شعیب کو شعیب کی یہ بات نہ بتاتی تو آپ کو یہ داستان پڑھنے کو نہ ملتی- اور میں کبھی بھی دوسروں کے راز افشا نہ کرتا- طائف جاب پر جانے کے بعد میں جب بھی تمباکو کا کام ختم کرنے ارشد کے ہاں آتا تھا- تو نیلوفر کو ایک دن پہلے فون کرکے بتا کے آتا تھا، مزید الزامات کے ڈر سے کہ نیلوفر اور جھوٹے الزامات نہ لگادے- نیلوفر حسب توقع شعیب کو فون کرکے بتادیتی تھی- اور شعیب اپنی دانست میں انتقامآ مجھے سلگانے کے لئے اپنے ساتھ کمال کو بھی فون کرکے ارشد کے گھر پر بلالیتے تھے- شعیب اب ارشد کے بجائے نیلوفر سے دوستی نبھاتے ہوئے نیلوفر کی ڈگڈ گی پر ڈانس کرنے لگے تھے-

TWO FACED PEOPLE

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں - تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے- https://youtube.com/watch?v=tA0IOfD8yM8&si=l_xmrBxE1_be6G-x

The Art of NEELOFAR

نیلوفر کا طریقہ واردات

دوستياں

نیلوفر نے میرے دوست کو کال کرکے میرے اوپر الزام لگائے- جو ضمیرشاہ (فرضی نام) اور شعیب تک پہنچے- بعد میں نیلوفر سے بولا کہ آپ نے شعیب سے میری دوستی خراب کردی- نیلوفر نے جواب دیا آپ اور دوست بنا لیجیے گا- (اگر نیلوفر کی نظر میں دوستی اتنی چھوٹی سی بات تھی تو وہ بھی کمال کو چھوڑ کر کوئی اور یار بنا لیتی)- پھر میں نے اس کو بالواسطہ کہا کہ کچھ عورتیں کتنی حرافہ ہوتی ہیں- یہ الفاظ میں نے نیلوفر کے لئے بولے تھے-


شعیب نے دوستی توڑ کر کہا کہ سعودی عرب کی دوستی بھی کیا دوستی ہے- لیکن پینتیس سال کے بعد میرے یاد دلانے پہ کہا کہ وہ غلطی پہ تھے- (کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ، ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا)=


زاہد سے دوستیوں خراب ہونے کی بات کی تو زاہد نے کہا کہ لوگ مر بھی تو جاتے ہیں- زاہد نے کسی حد تک ٹھیک کہا تھا - درحقیقت مرنے پر صبر آجاتا ہے لیکن کسی کے قتل پہ صبر نہیں آتا- میرا تو قتل ہوا تھا، شخصیت کا قتل- زاہد کو اپنی فکر پڑ گئی تھی کہ اگر بات آگے بڑھی تو کہیں اس کی بات نہ کھل جائے- جو نیلوفر نے مجھے بتائی تھی کہ زاہد بھائی نے اس کے ساتھ بیٹھ کر گندے فوٹو دیکھنے کے بعد اس پر (اپنے بھائی کی بیوی نیلوفر پر) دست درازی کی کوشش کی تھی- = ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہوتے ہیں بدنام - وہ قتل بھی کرتے ہیں تو ہوتے نہیں رسوا = (یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ زاہد نے جس بھائی کی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر ننگے فوٹو دیکھے- شادی کے بعد اسی بھائی سے شروع میں اپنی بیوی کا پردہ کرایا)-


میں نے خط میں نیلوفر کی ماں کو وارننگ دے کر لکھا تھا کہ اپنی بیٹی کو سمجھا لے اگر میری دوستیوں میں فرق پڑا اور زیادہ عرصہ تک دوستیاں ٹھیک نہیں ہوئیں تو خیر کی دعا کرےـ دعا کرے کہ میرے ہاتھ کبھی طاقت نہ آئے-


میں نے ارشد سے کہا کہ نیلوفر نے میری دوستیاں خراب کیں- دوستی ایک شیشے کی طرح ہوتی ہے- جس میں ایک دفعہ بال پڑ جائے تو جوڑا نہیں جاسکتا- ارشد نے کہا تم تو آسانی سے نئے دوست بنا لیتے ہو- میں چاہتا تھا کہ ارشد دوستوں کا یہ حلقہ چھوڑ دے اور اپنا منہ کہیں اور کالا کر جائے- وہ بھی تو اپنی بیوی کی حرکتوں کی تھوڑی سی ذمہ داری لے- لیکن نہیں- ارشد کو تو اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے دامن کی غلاظت میرے منہ پہ ملنی تھی اور سارا الزام صرف مجھ پر تھوپنا تھا- اس سے پہلے میری یہ کوشش رہی تھی کہ کم سے کم دو میں سے ایک دوستی ہی بچ جائے- ارشد سے یا شعیب سے- کیونکہ اپنے گھر کے باہر میں نے ساری زندگی کسی اور سے اتنی محبت کبھی نہیں کی- بالکل ہی آخر میں، میں صرف شعیب سے دوستی بچانا چاہتا تھا- دوستیوں میں امتحان بھی آتے ہیں- لیکن میرے دوست امتحان میں فیل ہو گئے-


شعیب اگر پاکستان میں مقیم اپنے پرانے دوست کی دوستی کی تعریف کرتے تھے تو میرا خون جلتا تھا- ان واقعات سے پہلے دوستی شہر میں جاب کی پوسٹنگ کے دوران جب جدہ آنے پر شعیب سے ملتا تھا- تو پہلا سوال شعیب سے یہ ہوتا تھا کہ آپ نے میرے پیچھے اور دوست تو نہیں بنا لئے- دوستی کا یہ جنون میں پہلے بھی کئی دفعہ دیکھ چکا تھا- میرا ایک پرانا کالج کا دوست دہران میں جاب سے چھٹی لیکر عمرہ کرنے دو دن کے لئے جدہ آیا تو ارشد سے پوچھ کر میں نے اپنے کمرے میں ٹھیرایا- ارشد سے میرے گہرے تعلقات دیکھ کر وہ بے حد جیلس ہوا اور انتہائی ناراضگی کے عالم میں واپس ہوا- یہ کہتے ہوئے کہ تم نے تو اپنی الگ دنیا بنا لی ہے-


https://www.facebook.com/ScoopNow/videos/407488436321103/  


میں گزرتے وقت کو سوچوں تو کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں

Book cover of 'When Friendship Hurts' by Jan Yager.
Urdu poetry about memories and friendship.
Urdu poetry written on brown paper with emotional themes.

نيلوفر اور رابعہ کی محلہ میں شہرت

کچھ لڑکوں کو کام پر لگا کر پہلے مردم شماری کے بہانے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاکے لوگوں سے کل افراد کی معلومات لیں اور بعد میں جب ان میں سے جوان لڑکوں سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ رابعہ اور نیلوفر اپوا گرلز اسکول سے واپسی پر لڑکوں کو اپنے پیچھے لگا کر فلرٹ کرتی ہوئی آتی تھیں– دونوں اس معاملے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھیں- ان کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا، خاص طور پر نیلوفر جو مختلف محافل میں اپنی سوشل کمنٹری کے باعث مشہور تھی- ان میں سے ایک لڑکا تو موٹر سائيکل پر مستقل آتا جاتا تھا- کئی محلوں میں ایک آدھ لڑکی ایسی آزادانہ اطوار کی ہوتی ہیں، جس پر چاہے لڑکی بدصورت بھی ہو، آوارہ لڑکے برے کام کے لئے چانس ملنے کی آس میں مکھیوں کی طرح بھنبھنایا کرتے ہیں- زاہد کی بات سچ نکلی کہ بد اچھا بدنام برا- = پتہ پتہ بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے- جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے- =

A vibrant blue lotus flower in bloom.

ارشد کا دوستوں میں مذاق بننا

زاہد نے ہی نیلوفر کے حوالے سے کچھ گندہ باتیں کرتے ہوئے مجھے سلیم ڈڈن، یونس، اور ملک سرفراز کا بھی حوالہ دیا تھا۔ جب ارشد نے مجھ سے مزید ملنے سے انکار کیا تو میں کافی مہینوں کے بعد ملک سرفراز سے ملا۔ وہ نہ صرف ارشد کو ننھا کہہ رہا تھا بلکہ نیلوفر کو بھی ننھی کہہ رہا تھا۔ یہ ننھی والی بات زاہد نے مجھے نہیں بتائی تھی۔ ملک نے بتایا کہ وہ زاہد کی شادی سے پہلے ارشد کے ہاں رہنے پر دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر زاہد کا مذاق بنایا کرتا تھا۔ کہ زاہد، تیری تو ساری انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑھائی میں۔ میں نے پوچھا کہ زاہد کا کیا جواب ہوتا تھا، تو ملک نے جواب دیا کہ زاہد بس مسکراتا رہتا تھا۔ پھر ملک ہنس کر بولا زاہد بہت ۔ ۔ ۔ ۔ ہے- زاہد سب کچھ کر لے اور چارپائی بھی نہ ہلنے دے۔ میں ملک سے بولا ایسا تو نہ بولو- میں بھی تو وہاں رہ رہا تھا۔ تو ملک بولا- لو۔ ۔ ۔ ۔ تم نے بھی تو خوب مزے اڑائے ہوں گے۔ اس کے کچھ دنوں بعد میری یونس سے ملاقات ہوئی۔ یونس مجھے دیکھتے ہی بولا- ننھا کہاں ہے- میں اور ارشد ہمیشہ دوستوں کے ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔ ہم لوگ ایک جان اور دو قالب کے مثل تھے- لیکن اس سے پہلے کبھی میں نے ننھا اور ننھی کسی کے منہ سے نہیں سنا تھا- یا لاعلمی کی وجہ سے توجہ نہیں دی تھی۔ = پتہ پتہ بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے- جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے= بعد میں ڈڈن نے بتایا کہ اس کے ساتھ نیلوفر کے پاجامے میں ہاتھ ڈالنے والی بات نہیں ہوئی- البتہ نیلوفر نے جب وہ لیٹی ہوئی تھی اور وہ اس کے بیڈ کی پائنٹی کے پاس کھڑا ہوا تھا، تو نیلوفر نے اپنا پیر آگے بڑھا کر ہنستے ہوئے ڈڈن کے پاجامے کی رومالی کو قمیص کے اوپر سے پیر سے چھوا تھا۔ ڈڈن نے یہ بھی بتایا کہ نیلوفر اس کو بھی بوسہ دے چکی ہے۔ ڈڈن نے یہ بھی کہا کہ سلیم نے نیلوفر کو نہیں چھوڑا ہوگا اور ضرور پیل دیا ہوگا (وارننگ: اسلام میں آپ کسی پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے جب تک چار راست گو مسلم گواہ عدالت میں گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ یا آڑ کے، سرمہ اور سرمہ دانی والا معاملہ خود اپنی آنکھوں سے صاف طور پر دیکھا ہے)۔ ڈڈن نے بتایا کہ جب سلیم کو پتہ چلا کہ نیلوفر ڈڈن کے ساتھ بھی چکر چلا رہی ہے اور ڈڈن کو بھی بوسہ دے چکی ہے- تو سلیم ناراض ہو گیا۔ اس بدمزگی پر ڈڈن نے سلیم کو کہا کہ یار ہماری دوستی اسکول کی آٹھویں جماعت سے ہے- یہاں تک کہ تم ہی مجھے سعودی عرب لائے- پھر ایسی عورت کے پیچھے کیوں اتنی پرانی دوستی خراب کرتے ہو- ڈڈن نے بتایا کہ یہ بات سلیم کی سمجھ میں آگئی۔ جب میں نے ڈڈن سے شکایت کی کہ اگر آپ ارشد کو اس کی بیوی کے کرتوت بتا دیتے تو مجھے یہ سب نہیں بھگتنا پڑتا- تو ڈڈن بولا کہ میں نے بتایا تھا اور ارشد نے بولنا چھوڑ دیا۔ ڈڈن نے پاکستان کے دوستوں کے ساتھ کا ایک واقعہ سنایا- یاسین (جو آج کل کینیڈا میں مقیم ہے)، ارشد، زاہد، ملک سرفراز، ڈڈن اور بھٹی صاحب گپ شپ کر رہے تھے- زاہد کے بھائی ہاتف کا ذکر آیا تو بھٹی صاحب نے دونوں بھائیوں کے لئے اشارتآ کہا- 'کہ ہیں تو بہت شریف- (پھر تھوڑا توقف کیا) اور کہا- لیکن ہیں رنڈی باز'- اس پر دوستوں کی محفل میں اس مذاق پر ایک زور کا قہقہہ پڑا۔

Two adults surrounded by colorful pacifiers, each with one in their mouth.

ارشد کی نوجوانی میں کچھ ہم عصروں کے کارنامے

  میری 21 سال کی عمر تک کسی دوست نے کبھی بھی مجھ سے زنا کرنے کا اعتراف نہیں کیا تھا- ضمیرشاہ (فرضی نام) پہلا دوست تھا- جو عورتوں سے اپنے جنسی تجربات کا سب کے سامنے اکثر فخریہ ذکر کیا کرتا تھا- ضمیرشاہ کی باتیں کافی دفعہ سیکس پر شروع ہوتی تھیں اور سیکس پر ہی ختم ہوتی تھیں- ضمیرشاہ کی کچھ جنسی تجربوں اور فتوحات کے ذکراسی سائیٹ پرکہیں اورمذکورہیں- میں سوچتا تھا کہ اگرضمیر جیسے لوگ صرف دو کںواری لڑکیوں کو بھی چالو کرلیتے ہوں- اور وہ دو لڑکیاں تین تین لڑکوں کو بھی لائین پر لگا لیتی ہوں- پھر وہ چھ لڑکے مزید بارہ شریف لڑکیوں کو خراب کرلیں تو یہ بڑی تغداد بنتی ہے- دیے سے دیا جلتا ہے-

اگر میں گنتی کروں تومیرے ارشد کے ہاں رہائش کے دوران بیس بائیس واقف کاروں میں سے مختلف وقتوں میں تقریبآ سولہ سترہ (زیادہ ترغیرشادی شدہ) بظاہرشریف اورمعصوم شکل و صورت والے لڑکوں نے مختلف لڑکیوں کے ساتھ اپنے اپنے گناہوں کے قصے مزے لے لے کرمجھے یا ضمیر کو سنائے- کچھ لڑکیاں پیشہ ور تھیں- لیکن زیادہ ترعام گھروں کی گھریلو غیر شادی شدہ لڑکیاں ہوتی تھیں- کچھ نے فوٹوگراف بھی دکھائے- زیادہ ترلڑکیوں کے چہروں سے بھی معصومیت ہی جھلکتی تھی- شاید ضمیر کے بلا جھجھک اپنے قصے سنانے پر ان لڑکوں کا حوصلہ بڑھا تھا اور ان کی شرم بھی ہٹ گئی تھی- ارشد کا تو وہ اس کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے پھر بھی لحاظ کرتے تھے- اور اس کے سامنے پرہیزکرتے تھے- بلاخوف فخریہ پرچار کرنے کی ایک وجہہ غالبآ یہ بھی تھی- کہ وہ سب لڑکے پاکستان یا انڈیا کے مختلف شہروں سے عارضی طور پر آئے ہوئے تھے- اور کچھ سالوں میں سب نے اپنے اپنے مختلف شہروں میں واپس چلے جانا تھا- تو کسی کوبیرون ملک ہونے کی وجہ سے اپنی نیک نامی خراب ہونے کا ڈر نہیں تھا- میں ڈرتا تھا کہ جب اتنے بڑے بیمانے پر یہ کام ہو رہا ہے- تو وہ لڑکی جب شادی کرے گی تو جس کے حصہ میں آئے گی- تو اس کا شوہر یا تو بے وقوف بنے گا یا مجبورآ گزارا کرے گا- ایک مسئلہ یہ ذہن میں آتا تھا کہ اگر کوئی شریف لڑکا پہلے سے تجربہ کار نہیں ہے تو ایسی لڑکی کو پہچان نہیں سکتا- اور اگرکوئی لڑکا پہلے یہ تجربہ کرچکا ہو تو اس کو کوئی حق نہیں پہںچتا کہ شادی سے پہلے تجربہ کرچکنے والی بیوی پر اںگلیاں اٹھائے- زاہد نے رائے دی- کہ بہتر یہی ہے کہ شادی کے بعد کسی ذہنی تکلیف سے بچنے کے لئے بیوی سے اس کے ماضی کے بارے میں کرید نہ کی جائے-

 ارشد کے واقف کار لڑکوں میں سے کچھ لڑکوں کے غیر معمولی واقعات میں یہاں پر لکھ رہا ہوں-


ایک تیس سال کی عمر کے نئے شادی شدہ واقف کارنے جو اپنی پردہ دار بیوی کے ساتھ جدہ میں رہائش بذیر تھا-  اور ارشد کے ہاں بیوی کے ساتھ آتا تھا، یہ بتایا- کہ وہ اوراس کا ایک دوست اپنے ایک تیسرے دوست کے ہاں جاکر اس تیسرے دوست کی بیوی کے ساتھ اس کے شوہر کو ملا کرگروپ سیکس کرتے ہیں- اور کبھی کتھی دونوں دوست عورت کی سامنے کی شرمگاہ میں ایک ساتھ اپنا عضو داخل کرتے ہیں- میں نے اس بات کو اس کی جھوٹی بکواس سمجھا- کہ ایسا تو ممکن ہو ہی نہیں سکتا- مگراس نے قسمیں کھائیں- میں نے بیس سال کے بعد انٹرنیٹ کے آنے پر جب یہ عمل دیکھا- تو یقین کرنا پڑا- کہ ایسا ممکن ہے-


ایک اور لڑکا اپنی شادی سے پہلے افریقہ کے ایک ملک میں کسی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھا- وہ صاحب پاکستانی ایمبیسی میں فرسٹ سیکریٹری تھے- اس لڑکے کو ان کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور جسمانی تعلقات بھی ہو گئے- لیکن لڑکی کی ماں کا دل بھی اس لڑکے پر آگیا اور ایک دن ان سے بھی لڑکے کے ساتھ گناہ سرزد ہوگیا- لڑکے کا بار بار دونوں کے ساتھ یہ عمل ہوا- (ماں اور بیٹی کے ساتھ)- جب لڑکے کا محترمہ کی بیتی کے ساتھ رشتہ کی بات چلی تو لڑکا مولویوں کے پیچھے فتوی لینے کو دوڑا- آخراس وجہہ سے شادی نہیں ہو سکی- دونوں کی الگ الگ جگہ شادی تو ہو گئی- لیکن لڑکے کے دل سے لڑکی کی محبت نہ نکل سکی اور وہ شادی کے بعد بھی ملاقاتوں کا موقعہ ڈھونڈتا رہا-


جب میں نیلوفر کے الزامات لگانے کے بعد ارشد کے گھر سے نکل کرطائف میں جاب کے لئے پہںچا- تو اگرچہ خود مجھ پر گزری تھی لیکن مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے- میں غیر یقینی کی حالت میں پاگل سا ہوگیا تھا- (STATE OF DENIAL - غیریقینی کی کیفیت) وہاں جاب پر ایک پاکستانی صاحب نے مجھے بٹھا کر کئی بار سمجھایا- کہ شہوت کے ہاتھوں لوگ کہاں تک گرسکتے ہیں- اپنا واقعہ بتایا- کہ ان کے گاؤں کی ایک دیہاتی شہوت پرست عورت نےان کے ساتھ جسمانی تعلق بنانے کی خاطر پہلے اپنی سولہ سالہ بیٹی کو چارے کے طور پرپیش کیا- پھر انہیں ڈرا کر اپنا کام نکالا- وہ صاحب بہت دیندار ہوگئے تھے- اللہ سے معافیاں مانگتے تھے- کہ ماں اور بیٹی دونوں کے ساتھ ان سے گناہ سرزد ہوا- مجھ سے انہوں نے کہا کہ صرف آپ کی ہمدردی میں آپ کو سمجھانے کے لئے وہ بات بتادی جونہیں بتانا چاہئے تھا- اللہ تعالی ان کی بخشش اور مغفرت فرمائیں-


ایک لڑکے نے دعوی کیا کہ اس نے پاکستان میں ہی ایک بلیو فلم کی پکچرائیزیشن ہوتے ہوئے خود اپنی آںکھوں سے دیکھی ہے- وہ وہاں موجود تھا- پنجابی فلموں کے تھوڑے معروف اداکاروں پر فلمائی گئی تھی- اور صرف بڑے لوگوں کے لئے پرائیوٹ شوزکے لئے تیار کی گئی تھی- اس لڑکے نے مجھے اس فلم میں کام کرنے والوں کے نام بھی بتائے تھے-

ایک لڑکے نے فخریہ بتایا کہ اس نے بیک وقت دو لڑکیوں کے ساتھ یہ کام کیا- اور وہ راجہ اندر بنا ہوا لیٹا تھا اور دونوں لڑکیاں اس پر اورل سکس بھی پرفارم کر رہیں تھیں-

ایک لڑکے نے اپنے تجربہ کا ذکر کیا، کہ وہ اور اسکا دوست دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی واقف کار عورت کے ساتھ بیک وقت اپنے جسم کو ٹھنڈک پہنچائی-

ایک لڑکے نے بتایا کہ ایک شوہر نے پیسوں کے بدلے اپنی بیوی اسے اور اس کے دوست کو پیش کی- خود برابر والے کمرے میں موجود رہا- ان میاں بیوی کی محلہ میں کافی عزت تھی-

ایک لڑکے نے قسمیں کھا کھا کرایک کافی ناقابل یقین ذکر کیا کہ ایک بھائی نے دوسرے ملک سیٹ کرانے کے بدلے اپنی بہن تک آفر کردی- یہ کہانی اگرچہ پہلے بھی سنی تھی کہ لوگ منشیات کے ہاتھوں مجبور ہوکر رشتوں کا تقدس کھو بیٹھتے ہیں- لیکن مختلف وجہہ اپنے کانوں سے پہلی دفعہ سننا پڑا-

ایک اور لڑکے نے اپنے ایک ہینڈسم اسمارٹ دوست کے افئیرزکے متعلق بتاتے ہوئے کہا- کہ بہت سی خوبصورت، زیادہ تر ائرہوسٹس لڑکیاں نہ صرف اس کے گھر پہ آکر اپنے جسم کی پیاس بجھاتی ہیں، بلکہ اس پر پیسے بھی خرچ کرتی ہیں- عجیب بات یہ ہے کہ کئی لڑکیاں آپس میں واقف کار بھی ہیں، اور جانتے ہوئے بھی انھیں اعتراض نہیں ہوتا کہ وہ لڑکا دوسری لڑکیوں سے بھی کیوں تعلقات رکھتا ہے-


بہرحال میں نے عمومی طور سے دوست بنانے بند کردئے، خصوصآ ایسے لوگوں سے-

اںڈیا اور پاکستان میں توآجکل کے سروے کے مطابق تقریبآ ایک تہائی لوگ شادی سے پہلے ہی جنسی تجربات سے گزرچکے ہوتے ہیں- ہوسکتا ہے کہ سروے کے اعداد غلط ہوں- آپ خود گوگل کرلیں-

A peeled banana inside a peach.

متعدد آپشنز

میرے پاس الزام سے پہلے اور الزام کے بعد بھی متعد د اختیارات تھے- جو میں نے نیلوفر کے احترام میں اور ارشد کی محبت میں استعمال نہیں کئے- بہت سے تو میں نے یہاں لکھے بھی نہیں ہیں- ثبوتوں کے بعد آپ کو یقین آجائےگا-


٭ نیلوفر کے دو مختلف موقعوں پر بے قابو ہونے پر جو چاہتا وہ کرسکتا تھا-


٭ نیلوفر کی اپنے شوہر کے ساتھ جنسی معاملات کی باتیں سن کر اور مزید کمال اور نیلوفر کے درمیان کی ہرئی جںسی باتوں کا فائیدہ اٹھاکر نیلوفر کے ساتھ جو چاہتا وہ کرسکتا تھا-


٭ "جب نیلوفر نے میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کہا کہ 'ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں' - تو میں مزاحمت نہ کرتا اور اس کی بات مان سکتا تھا- بلکہ اپنے ہاتھ سے کمال کو بھی دولہا بنا کر گھوڑی چڑھاسکتا تھا-


٭ زاہد، ہاتف اور نیلوفر کی ماں کی ریکارڈنگ نیلوفر کو سنا کر، اسے بلیک میل کرکے جو چاہتا وہ کرسکتا تھا- 


٭ نیلوفر کو بلیک میل کرکے میں خود نیلوفر کی زبان سے الٹا شعيب پر الزام لگواسکتا تھا-


٭ میں ارشد کو کچھ بتانے سے پہلے چپ چاپ پاکستان گیا تھا اور نیلوفر کے گھر والوں کی گڈ بک میں تھا- نیلوفر اکثر ان سے میری تعریف کرتی رہی تھی- میں نیلوفر کی ماں کو کچھ بتائے بغیر نیلوفر کی چھوٹی بہن سے شادی کرسکتا تھا-


٭ نیلوفر کی ماں سے باتیں کرنے کے بعد بھی ان کو باقی سارے آڈیوز سنا کر چھوٹی بیٹی سے شادی کرسکتا تھا- اگر کوئی ہچکچاہٹ ہوتی- تو نیلوفر کے گھر کے کسی بڑے کو قریبی تھانے میں بلواکر مزاج پرسی کروادیتا تو اگلے دن ہی کام ہوجاتا- میرے تعلقات کافی تھے اور ویسے بھی پیسہ بڑا بادشاہ-


٭ نیلوفر کی بہن سے شادی کرکے میں نیلوفر کو بلیک میل کرکے زاہد کی بات کے مطابق نیلوفر کو ساری زندگی ذلیل کرسکتا تھا-


٭ نیلوفر کی بہن سے شادی کرکے میں اس کو کچھ ماہ کے بعد انتقامآ طلاق دے سکتا تھا-


٭ میں ارشد کو نیلوفر کے متعلق کچھ نہ بتاکر زاہد کی طرح ارشد کے گھر میں دوبارہ رہنے آسکتا تھا-


٭ میں ارشد کے والد کے رویہ پر انہیں سارے آڈیوز سنا کراور نیلوفر کی ماں سے ملا کر ساری بازی پلٹ سکتا تھا-


٭ میں ارشد کو سارے آڈیوز سنا کر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ .  


مگر میں نے ارشد کی محبت میں اوپر لکھے ہوئی باتوں میں سے کوئی بات نہیں کی- انتہائی غصہ کے عالم میں بھی یہ فکر کرتا تھا- کہ ارشد کو کوئی نقصان نہ پہںچے اور اس کو کم سے کم ذہنی پریشانی ہو- صرف نیلوفر کو ارشد کی لاعلمی میں ذہنی اذیت ہوتی رہے- اس کے علاوہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا سوچ کر مجھے آخرت کے انجام کی بھی فکر آتی تھی-

Road signs depicting choices and challenges.

ضمیر کی عدالت

جج کے سوالات


نیلوفر نے اپنے اوپر بلا تکا ری کی کوشش کا الزام مجھ پر لگایا- اگر پولیس تفتیش کرتی- اور کیس زمین کی عدالت میں جاتا تو یہ سوال پوچھے جاتے- آپ بھی نیلوفر سے پوچھ سکتے ہیں -


کیا ملزم نے زاہد کی طرح تم کو کبھی گندے فوٹو دکھائے؟


کیا ملزم نے تم سے کبھی جسمانی تعلق کی خواہش کا اپنی زبان سے اظہار کیا؟


کیا ملزم نے تم کو کبھی جسمانی تعلق کے لئے بلیک میل کرنے کی دھمکی دی؟


کیا ملزم نے کبھی تمہارے سینے پہ ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی؟


کیا ملزم نے کبھی تمہاری رانوں کے درمیان ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی؟


کیا ملزم نے کبھی تمہاری کمر یا کولہوں پہ ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی؟


کیا ملزم نے کبھی اپنے جسم کا مردانہ حصہ تمھارے جسم سے ٹکرانے کی کوشش کی؟


کیا ملزم نے کبھی تمہارا سینہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا؟


کیا ملزم نے کبھی تم سے تم کو بے لباس دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا؟


کیا ملزم نے کبھی تمہاری شلوار کا ناڑا کھولنے کی کوشش کی؟


(اوپر کی ساری باتوں کا جواب ملزم کا نفی میں ہے- مزید سوالات نیچے ہیں)-


تم نے  اپنے سسر کی بد نظری کا ملزم سے ذکر کیوں کیا؟


تم نے اپنے شوہر کے ساتھ جنسی حرکتوں اور جنسی معاملات کا ملزم سے کیوں بار بار ذکر کیا؟


تم نے کیوں اپنے یار کی جنسی باتوں اور حرکتوں کا ذکر ملزم سے کیا؟


تم نے شوہر کے کزن کے ساتھ بیٹھ کر ننگے جنسی فوٹو دیکھنے کا ذکر ملزم سے کیوں کیا؟


تم نے شوہر کے کزن کی تمہارے اوپر دست درازی کا ذکر ملزم سے کیوں کیا- بعد میں اس کزن کا دوبارہ تمہارے ہاں رہنے آنے پر شوہر کو متبنہ کیوں نہیں کیا- یا شعیب سے کیوں نہیں مدد مانگی؟


تم نے کیوں بار بار مختلف لڑکوں سے شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی تعلقات پیدا کئے؟

Judge's gavel with scales of justice in background.

جھوٹے الزامات: کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا؟

مجھ پر بلیک میلنگ کے، کرید کر پوچھنے کے، ٹوہ لینے کے جھوٹے الزامات لگائے گئے اور ارشد نے الزام لگانے والے کو نہیں روکا بلکہ تائید کی- کیا مجھے جھوٹے الزامات کے جواب میں وہ کرنا چاہئے تھا جو نہیں کیا- آپ لوگ بھی سوچیں گے کہ جب نیلوفر سیکس پر مجھ سے اتنی باتیں کررہی تھی تو میرا تجسس کیوں نہیں جاگا اور میں نے اس سے یہ سوالات کیوں نہیں کیے جو کہ نیچے لکھے ہوئے ہیں-

 نيلوفر نے مجھے بتایا کہ ارشد نے نيلوفر پر شک کرکے نیلوفر سے کہا کہ پتہ نہیں یہ بچے میرے ہیں بھی یا نہیں- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ ارشد کو ایسا شک کیوں ہوا-

 نيلوفر نے مجھے بتایا کہ ارشد کے والد مجھ پر غلط نظر رکھتے ہیں- کہتے ہیں یہ پہنو وہ پہنو- کیا مجھے جتانا چاہیے تھا کہ کمال تو یہ تک چاہتا ہے کہ کچھ نہ پہنو-

 نیلوفر نے بھولی بنتے ہوئے شوہر کے ساتھ جنسی ملاپ کے متعلق کہا کہ شادی سے پہلے اس کو پتہ نہیں تھا کہ شادی کے بعد ایسا سب کچھ بھی ہوتا ہے- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ پھر تمہاری پیدائش کیسے ہوئی تھی یا پھر ارشد نے کیسے سمجھایا-

 نیلوفر نے بتایا تھا کہ ارشد کہتے ہیں کہ کتیا کہیں باہر سے کراکے آ (آجا)- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ ارشد کس موقعے پر اور تمہاری کس حالت میں یہ کہتے ہیں- اور کیا اسی وجہ سے تم نے کمال سے تعلقات پیدا کئے-

 نیلوفر نے بتایا تھا کہ ارشد مجھے ویڈیو پر گندی فلم دکھاتے ہیں جسے دیکھ کر مجھے الٹیاں آتی ہیں- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ زاہد کے ساتھ ہنسی خوشی گندے اور ننگے فوٹو دیکھنے پر کیوں نہیں الٹیاں آئیں-

 نیلوفر نے بتایا کہ ایک دن اس نے صبح کو ارشد کی شلوار گیلی دیکھی تو ارشد سے کہا ایسا کیوں کرتے ہو- میں جو ہوں- (ہاتھ سے فارغ ہونے کی کیا ضرورت تھی)- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا آپ کو اس دن پیریڈز آئے ہوئے تھے-

 نیلوفر نے یہ بتایا کہ زاہد بھائی نے پہلے مجھے گندے فوٹو دکھائے- پھر دست درازی کے لئے میری طرف لپکے تو میں نے کھینچ کر لات ماری- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ مجھ سے اور کمال سے کس کروانے پر کیوں نہیں لات ماری- بلکہ دو دفعہ تو میرے سامنے خود بے قابو ہو رہیں تھیں-

 نیلوفر نے مجھے ہنس ہنس کر بتايا کہ کمال اس دفعہ مجھ سے مل کر اتنے بے حال ہو گئے تھے کہ باتھ روم چلے گئے اور باہر آکر مجھے ہنس کر بتایا کہ انہیں اپنے آپ کو ہاتھ سے فارغ کرنا پڑا- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ کمال نے آنے والے دنوں میں اور کیا کیا کیا-

 نیلوفر نے کہا کہ کمال کا پاکستانی پڑوسی جوڑا گھر کی چابیاں کمال کو دے کر ایک مہینے کے لئے پاکستان جا رہا ہے تو کمال اور مجھے دونوں کو تنہائی میں ملاقات کا موقع مل جائے گا- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کا کمال کے ساتھ اکیلے میں کیا کرنے کا پروگرام ہے-


 جب میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ بہت سی طلاقیں صرف شک کی بنیاد پر ہوجاتی ہیں تو نیلوفر نے ہنس کر جواب دیا- وہ اناڑی ہوتی ہوں گی- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کتنی بڑی کھلاڑی یا شکاری ہیں اور کس نے یہ ہنر سکھایا ہے-


 نیلوفر نے بتایا کہ ارشد میرے منہ میں بھی ڈالتے ہیں- کیا مجھے پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا ارشد حلق سے نیچے بھی اتارتے ہیں (ڈیپ تھروٹ)- کیا آپ نے ذائقہ دار بنانے کے لئے کبھی کوئی میٹھا شیرہ بھی لگایا ہے- منہ کے علاوہ ارشد اور کن کن سوراخوں میں ڈال دیتے ہیں- کیا ارشد کریم بھی کھلاتے ہیں- کیا آپ لالی پاپ کی طرح چوستی ہیں یا آئس کریم کی طرح چاٹتی ہیں- اور پھر اس کے بعد آپ کو کونسی پوزیشن پسند آتی ہے- اوپر بیٹھ کر گھڑ سواری کرنا- یا گھوڑی بن کر سواری کروانا- یا ہاتھ پیر ہوا میں اٹھا کر دعوت دینا کہ آ بیل مجھے مار-


 مگر میں نے کچھ بھی نہیں پوچھا- پوچھنا تو درکنار، اس وقت تو نیلوفر کی یہ مختلف کہانیاں سننا بھی بڑا مشکل لگتا تھا-

Promotional image of two serious characters with Arabic text.

پردہ

  بہت کم لوگ ہیں جو اپنی بيويوں کا پردہ شرعئی حکم سمجھ کر کراتے ہيں- اسلامی تعلیمات تو دیور تک سے پردے کا حکم دیتی ہیں- کہ دیور تو موت ہے- بہت سے لوگ سماجی يا معاشرتی دباؤ کی وجہہ سے يا بھيڑچال ميں پردہ کراتے ہيں- کچھ لوگ صرف کچھ مردوں سے اس لئے پردہ کراتے ہيں کيوںکہ انہيں سامنے والے پر يا اس کی بدنظری کی وجہہ سے اعتبار نہيں ہوتا- کچھ لوگوں کو اپنی بيوی پر اعتبار نہيں ہوتا اس لئے پردہ کراتے ہيں- کچھ لوگ اپنے ہی آئينے ميں دنيا کو ديکھتے ہيں کہ جيسے وہ خود ہيں ويسا سامنے والا بھی ہوگا تو پردہ ضروری ہوا- کجھ اپنی جوانی ميں شادی سے پہلے دوستوں سے رازداری نہيں برتتے اورہمراز ہونے کی وجہہ سے پردہ مجبوری بن جاتا ہے- کچھ جوانی ميں پردہ نہيں کرتے اور بڑھاپے ميں جا کر پردے کی سوجھتی ہے- کچھ اپنے آپ کو دھوکا ديتے ہيں کہ يہاں وہاں تو پردہ کرليا اور فيس بک پر تصويريں ڈال ديں کہ ساری دنيا بلا روک ٹوک کے نظارہ کرے- نيلوفرنے بتايا تھا کہ ارشد کے خاندان ميں اسکے ميکے والوں سے زيادہ پردے کی پابندی ہے- واقعی ںیلوفر کا پردہ ارشد کے خاندان والوں کے مقابلے میں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تھا- نیلوفر نے ثابت کرکے دکھادیا- ہاتف کو ميں نے بہت بعد میں لکھا کہ ارشد کا نیلوفر کا مجھ سے اب پردہ کرانے پرمجھے بڑی ہںسی آئی- جس عورت کا پردہ کبھی کسی سے نہیں رہا- ارشد اب اسی عورت کا مجھ سے پردہ کرارہا ہے-

پردہ نشیں کو بے پردہ نہ کردوں، تو جعفر میرا نام نہیں ہے- (بہو پردے دار اور ساس بے غیرت)-

Woman in black bikini with a cloth covering her mouth.

ایسے حجاب کا کیا فائیدہ                

حیرت انگیز مماثلت

نیلوفر اور کںول کی نا قابل یقین حد تک حیرت انگیز مماثلت

مجھ کو تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کنول اور نیلوفر کے معاملات میں کوئی خاص فرق نہیں تھا- ایسا لگتا تھا کہ جیسے ایک ہی اسکرپٹ پر دو فلمیں بنی ہیں- صرف کردار بدل گئے تھے- کہانی ایک ہی تھی لیکن ہیرو، ہیروئین اور پٹواری بدل گئے تھے- واقعات کی اتنی مماثلت، کہ یقین نہ آئے-


دونوں عورتوں کے نام پھولوں پر ہیں: نیلوفر اور کنول۔

کنول کے 4 بچے ہیں جبکہ نیلوفر کے 9 بچے۔

کنول کے ایک بیٹے اور 3 بیٹیوں کے مقابلے میں نیلوفر کے 2 بیٹے اور 7 بیٹیاں ہیں۔

کنول کا ایک بھائی اور ایک بہن ہے، اور نیلوفر کا بھی ایک بھائی اور ایک بہن ہے۔

دونوں کا صرف ایک بھائی اور ایک بہن تھی۔

دونوں بہت سے لوگوں کا اپنی طرف عاشق ہونے کا گمان رکھتی تھیں اور شادی سے پہلے اپنے محلے میں اپنے وسیع حلقہ احباب کی وجہ سے مقبول تھیں۔

کنول کا سگا جیٹھ اس پر محبت میں شعر بناتا تھا اور 25 سال کی عمر میں ہی انتقال کر گیا۔ نیلوفر کا رشتے کا جیٹھ نیلوفر کو ننگے فوٹو دکھا کر دست درازی پر اتر آیا اور 52 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

نیلوفر نے 2 بچوں کے بعد 26 سال کی عمر میں ایک اور معشوق خود پھانسا، اور کنول نے بھی 4 بچوں کے بعد 26 سال کی عمر میں ایک معشوق پھناسا۔

کنول کے معشوق نے شعیب کو ہمراز بنایا اور نیلوفر نے بھی شعیب ہی کو ہمراز بنایا۔

دونوں اپنے معشوقوں کو بھائی بنانے کی تجویز پر سخت غصہ ہوئیں۔

دونوں نے دروازے میں راستہ روک کر بوسہ دینے اور آغوش میں آنے کی کوشش کی۔

کنول اپنے شوہر کے کس کرنے پر اپنے معشوق کا تصور کرتی تھی، جبکہ نیلوفر اپنے معشوق کے کس کرنے پر اپنے شوہر کا تصور کرتی تھی۔

دونوں اپنے معشوقوں سے اکیلے کسی گھر میں ملنے کے پلان پر اصرار کربی تھیں۔

 دونوں فساد ڈال کر معشوق کے ساتھ ایک ہی گھر میں عارضی طور پرشوہرسمیت منتقل ہونے میں کامیاب ہوگئیں-

دونوں نے زندگی بھر کے یارانے کے لیے اپنی بہن کی شادی اپنے معشوقوں سے کرانی چاہی۔

دونوں اپنے شوہروں کے ساتھ سیکس کی تفصیلات بلا جھجھک بیان کرتی تھیں-

دونوں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ جنسی نا آسودگی کا ذکراکثر کرنے لگیں تھیں-

 دونوں کے شوہروں نے اپنی اپنی بیویوں کو بلیو فلم دکھائی تھی-

کنول کا شوہر کنول پر اورل سیکس کرتا تھا، جبکہ نیلوفر کا شوہر نیلوفر سے اورل سیکس کراتا تھا۔

دونوں نمائشی تھیں اور بغیر خوف کے دوسروں سے اپنے عشق کا ذکر کرتی تھیں۔

 دونوں نے سمجھانے والے لڑکوں کواپنی دانست میں سلگانے کے لئے اپنے اپنے معشوق کا ایک پسندیدہ گانا بار بار ٹیپ ریکارڈرپران سمجھانے والے لڑکوں کے سامنے باآوازبلند بار بار لگایا-

 دونوں سمجھانے والے لڑکوں پر الزام لگا کر انہیں گھر سے نکلوانے میں کامیاب ہو گئیں-

 دونوں کی آںکھوں میں سورکا بال آنے پر دونوں بے حس اور بے رحم ہوجاتی تھیں-

دونوں کے شوہروں نے الٹا سمجھانے والے لڑکوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

 دونوں دفعہ شعیب نے عورتوں کے یار کا ساتھ دیا-

دونوں کے شوہر اپنی بیویوں کے ہر افئیر کے بعد ان سے زیادہ محبت کرنے لگتے تھے۔

  

آپ کو شاید یقین نا آۓ کہ کںول مجھ کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لئے کہتی تھی- کہ میں دعا ماںگتی ہوں کہ میرے چاروں بچے ایک دم سے مرجائیں (ایک ساتھ)- تاکہ آپ کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے-

  

https://en.wikipedia.org/wiki/Nymphaea 

Nymphaea species of flowers included Kanwal & Neelofar

Flower of Lotus is Gul-e-Nilofar

Water Lily Flower is Kanwal

Nympho

شہوت زدہ عورت

Nymphomania

جنونی حد تک جنسی خواہش

Two white water lilies with yellow centers.

میرے سعودیہ کے کچھ پروجیکٹس

اللہ تعالی نے مجھے بڑے بڑے پروجیکٹس کے اوپر کام کرنے کی توفیق دی- الحمدوللہ- اس کی وجہ سے کئی اہم لوگوں سے بھی شناسائی ہوئی- 1983 ہی میں وزیربلدیہ والقرویہ پرںس متعب بن عبدالعزیز کے طائف میں دوسو 200 ملین ریال کے محل کی تعمیر کے دوران ایک پچپن 55 سال کی عمر کے ترک انجینئر ارطغرل دنکتاش سے روزگپ شپ ہوتی تھی- ساتھ ہی میں رہائیش تھی- سات سو 700 لوگ کام کرتے تھے- وہ پروجیکٹ مینیجرتھا- اور مجھے بہت پسند کرتا تھا- اس کی خوبصورت بیوی جوانی ہی میں اس کو چھوڑکر ہالی وڈ کی فلموں میں کام کرنے کے ارادے سے چلی گئی تھی- لیکن اس کا بیٹا جوان ہوکر نیو یارک میں ٹیکسی ڈرائیور کا کام کرنے لگا تھا- میرے پاس ارطغرل کے ساتھ فوٹوگرافس بھی ہیں- وہ کہتا تھا کہ اس کا سیاستدان بھائی قبرص کا صدر بنے گا- تو اس کو بھی بہت زمین الاٹ ہو جائے گی- پھر وہ میرے ساتھ اپارٹمنٹس بنائے گا- میں اس کی بات کو مذاق سمجھتا تھا- سات سال بعد 1990 میں اس کا بھائی رؤف دنکتاش واقعی قبرص کا صدر بن گیا- میں امریکہ میں تھا- وہ پندرہ 15 سال صدر بنا رہا-


میں نے 1984 میں الباحہ کے ایک ہوٹل پروجیکٹ پہ کام شروع کیا- جو اس وقت کے وزیر خارجہ پرںس سعود بن فیصل کی ملکیت میں تھا- میرے پاس ان کی وزٹ پر کھینچے ہوئے فوٹوز یادگار ہیں- اس پروجیکٹ کی تکمیل پر کنگ فہد کو بھی بلایا گیا تھا- مگر مصروفیت کی وجہ سے وہ آ نہ سکے-


میں نے 1985 میں اپنے آئیڈیاز پر سنگاپور، انڈیا جا کر اور پاکستان میں روزنامہ جنگ اخبار کے جناب میرخلیل الرحمن سے مل کر ایک انٹرنیشنل لیول کا میگزین سنگاپور سے نکالنے کی کوشش کی- میں نے شیخ کا انٹرویو پاکستان میں شائع کرایا- یہ تحریری رپورٹ اپنے شیخ کی وساطت سے پرںس سعود بن فیصل کو پیش کی- ساتھ میں ایک اور اس سے منسلک میڈیا پروجیکٹ کے طور پر جدہ میں ایک انٹرنیشنل ٹیلیویژن اسٹیشن کا قیام رپورٹ میں شامل تھا- انہوں نے پروجیکٹ کی تعریف تو کی- لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر پذیرائی نہ ہو سکی- میر صاحب کے لیٹر کی کاپی آج بھی میرے پاس موجود ہے-


پھر 1986 میں ایک بہت چھوٹے انڈین فلم پروڈیوسر سے اسکے جدہ میں مقیم بھائی کی وساطت سے بات چیت ہوئی- بمبئی جانا ہوا- شوٹنگز دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا- جیتندر اور جیہ پرادا کی فلم کی فلمبندی بھی دیکھی- 1200 ڈالرز خرچ کرکے دلیپ کمار سمیت تقریباً دس 10 مشہور اداکاروں کے انگلش میں ٹائپ کئے ہوئے انٹرویوز، ہائی ڈیفینیشن کے فوٹوگرافس سلائیڈز کے ساتھ، اور اشاعت کے حقوق کے ساتھ خریدے- جنگ گروپ کے آفس میں کام کرنے والے اسد جعفری صاحب کے حوالے کئے- جو انگلش سائیڈ پر ہفت روزہ میگ جریدے میں تھے- اسد جعفری صاحب پاکستانی فلموں کے کافی بڑے ایکٹر بھی رہ چکے ہیں- دو ہفتے کے بعد دیکھا تو دلیپ کمار کا انٹرویو اسد جعفری صاحب کے نام سے چھپا تھا- اور میگ کے سب سے اوپر ٹائیٹل پر دلیپ کمار کی بڑی سی تصویر چھپی تھی- بڑا غضب آیا- باقی انٹرویوز اور سلائیڈز کوشش کرکے واپس لے آیا- ابھی بھی میرے پاس رکھے ہیں-


امریکہ آ کر بھی اللہ تعالی نے کافی بڑے بڑے کام میرے ہاتھوں سے کروائے- اکیس 21 لوگوں کو امریکہ میں سیٹل ہونے میں مدد کی- جب امریکہ کے قوانین نرم تھے تو ارشد کو بھی دعوت دی تھی- کہ اولاد میں سے یا دامادوں میں سے کسی کو یا کئی ایک کو امریکہ سیٹل کرادے- لیکن ارشد نے کوئی دلچسپی نہیں لی- شروع میں 20 رہائشی مکانات خریدے اور کرائے پر لگائے- پھر جب ٹرک کا کاروبار کیا تو انیس 19 ٹرالر کمپنی میں جمع کر لئے- ٹوٹل ریوینیوز کا صرف دو 2 فیصد منافع ہوتا تھا- لیکن کافی تھا- بعد میں چودہ 14 ریٹیل اسٹورز رکھے- جن میں ٹوٹل سیلز کا 15 فیصد تک منافع ہو جاتا تھا- ان میں جیولری اسٹورز، کپڑوں کے اسٹورز اور گفٹ اسٹورز وغیرہ شامل تھے- اب تو خیر سے ریٹائر ہو چکا ہوں-


امریکہ کے پروجیکٹس کی تفصیل بھی آنے والے مہینوں میں لکھوں گا-


ان باتوں کا مقصد بڑائی دکھانا نہیں ہے- اللہ ہمیشہ کسی قسم کے تکبر سے بچائے- صرف یہ بتانا مقصود ہے- کہ ساری زندگی شکست نہیں کھائی لیکن ایک جاہل عورت نے خاک چٹا دی- ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص کو تارا مسیح جیسے شخص نے 1979 میں پھاںسی گھاٹ پر لیور کھینچ دیا اور اجرت میں صرف پچیس 25 روپئے وصول کئے- عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے- لیکن یہ بات حرف آخر ہے کہ میں نے ارشد کے خاندان سے بے حد محبت کی تھی- جس کا خوب صلہ ملا-


تقابلی جائزہ


اگر آپ نیلوفر کے معاملات پر لوگوں کے سلوک اور برتاؤ کا انفرادی سطح پر مطالعہ کریں گے اور اس برتاؤ کا تقابلی جائزہ بڑے بڑے گروپس کے برتاؤ کے ساتھ کریں گے تو آپ کو ان کے برتاؤ میں بڑی مماثلت نظر آئے گی- 


کسی بھی سیاسی لیڈر کے چاہنے والوں کے سامنے آپ اس کی کرپشن کے کچھ بھی ثبوت رکھ دیں، وہ نہیں مانیں گے- جیسا کہ زاہد نے کہا تھا کہ اگر آپ ارشد کو اس کی بیوی کے بلیوپرنٹس بھی دکھا دیں گے، تب بھی وہ یہی کہے گا کہ اس کی بیوی بڑی بھولی ہے-


دنیا کے ڈھائی ارب سے زیادہ لوگ اس مضحکہ خیز بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں- اور اللہ تعالی کے ساتھ اس کائنات کو چلا رہے ہیں- آپ انہیں نہیں سمجھا سکتے-


جس طرح عمران خان کے خلاف باطل قوتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر اکھٹی ہوگئیں- جو پہلے سرعام ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتی تھیں- ایسے ہی میرے خلاف بھی کئی افراد نے مل کر محاذ بنا لیا تھا-


نہ صرف پاکستان میں قومی سطح پر مختلف گروپس کا اور سیاسی جماعتوں کا برتاؤ اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس سے ملتا جلتا نظر آئے گا- بلکہ اور دوسری قوموں میں بھی نظر آئے گا- کیونکہ قوموں کا اجتماعی سلوک اور برتاؤ جنرل پبلک کے انفرادی سلوک اور برتاؤ کا ہی آئینہ ہوتا ہے- ایک اور مثال یہ ہے- آپ ایک لمحہ نیلوفر کو اسرائیل سمجھیں، شعیب کو امریکہ، زاہد کو ایران، ارشد کو فلسطینی عوام اور مجھے اقوام متحدہ- تو آپ کو میری بات سمجھ میں آ جائے گی-

Profile of Rauf Denktaş, a prominent political figure.

Celebrity

Men in traditional attire walking in a garden.

 پرنس سعود بن فیصل في الباحه 

Legendary

Elegant dining room with long table and ornate chairs.

پرنس متعب بن عبدالعزیز کے محل کا ایک کمرہ

History

Men in traditional attire near black luxury cars.

 پرنس سعود بن فیصل في الباحه 

The Motel Al-Baha

Monumental Palace - Taif

Collage of desert scenes including a car, dome structures, hillside terraces, and two men working.

میرا الباحہ کا کام اور کمپنی کی گازی مرسیڈیز

Changed Past

Monumental Palace - Taif

Monumental Palace - Taif

Person sitting on a car with a plastic sheet reflection.

میں اور کمپنی کی دی ہوئی مرسیڈیز کار

Monumental Palace - Taif

Monumental Palace - Taif

Monumental Palace - Taif

Vintage photo album and panoramic images from Murad Colour Film Lab.

پرنس متعب بن عبدالعزیز کا طائف کا زیرتعـمیر محل

VideoS

PLAYER

میں کھلاڑی تو اناڑی

ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں

thrill

پردہ نشیں کو بے پردہ نہ کردوں، تو جعفر میرا نام نہیں ہے

Meaning of CHUTZPAH

https://www.youtube.com/watch?v=sioHaayFXDg

الزام لگا کر کہنا کہ اگر جعفر بھائی بہن سمجھتے تو کیا میری شکایت کرتے

مرکزی گانا THEME SONG

جانے تم کیسی کیسی چال چلو گی، جانے کتنوں کا برا حال کرو گی 

جسے چاہو گی اسے نہال کرو گی، تم جو بھی کرو گی کمال کرو گی

اٹھو منڈیو پاؤ دھمال، کتی رل گئی چوراں نال

Copyright © 2026 Neelofar - All Rights Reserved.

Powered by

This website uses cookies.

We use cookies to analyze website traffic and optimize your website experience. By accepting our use of cookies, your data will be aggregated with all other user data.

Accept