

THIS IS NOT A PORN SITE
یہ ویب سائیٹ خاص طور پر نیلوفر کے دامادوں کے لئے بنائی گئی ہے- ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ- یا تو نیلوفر جھوٹ بول کر اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کرلے- یا سچ بول کر اپنی اولادوں کی عزت بچالے- جو لوگ مجھے براہ راست فون پر ثبوتوں کے ساتھ سن نہیں سکيں، وہ نيلوفر سے پوتوں یا نواسوں کے سر پر ہماری مقدس کتاب رکھوا کر سچ بولنے اور جھوٹ نہ بولنے کی قسم کھلوا کر مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات طلب کریں– الفاظ بالکل ایسے ہی رکھيے گا- اگر نيلوفر مںہ بند کرے، حیلہ کرے، بھاگ جائے یا کہے کہ یہ جھوٹ ہے تو مجھے امریکہ اي میل کریں-
kbjax43@hotmail.com KBJAX43@hotmail.com
1} سعودی عرب میں نيلوفر نے ارشد کے کزن زاہد کے ساتھ بیٹھ کر گندی اور ننگی جنسی تصاویر دیکھیں-
2} سعودی عرب میں نيلوفر نے اپنی شادی کے بعد کمال سمیت کم از کم تین مختلف غیر شادی شدہ نا محرم لڑکوں کے ساتھ مختلف وقتوں میں سیکس پر گفتگو کی-
3} سعودی عرب میں نيلوفر نے کمال سمیت کم از کم تین مختلف غیر شادی شدہ نا محرم لڑکوں کو بوسہ دیا-
4} نيلوفر نے گھر میں تقریباً تین سال سے ساتھ رہنے والے غیر شادی شدہ نا محرم لڑکے کو بتایا کہ کمال اس سے مل کر اتنا بے قابو ہو گیا تھا کہ غیر شادی شدہ کمال کو ٹوائلٹ میں جا کر اپنے آپ کو ہاتھ سے فارغ کرنا پڑا-
5} نیلوفر نے سعودی عرب میں تقریباً تین سال سے ساتھ رہنے والے اسی نامحرم لڑکے سے کہا کہ پہلے میں نے آپ کے متعلق سوچا تھا- نیلوفر کمال کے علاوہ اسی نا محرم لڑکے سے بھی سیکس پر باتیں کیا کرتی تھی-
6} نيلوفر نے تقریباً تین سال سے ساتھ رہنے والے اسی نا محرم لڑکے سے کس کروانے کے تین دن بعد ارشد کے کام پر جانے کے بعد اسی نامحرم لڑکے کو بتایا کہ ارشد نے رات میں کہا کہ ''کروانا ہے تو کروا لو ورنہ میں سو رہا ہوں- پھر ایسے کیا جیسے مشین میں گنا ڈال کر پیل دیا جائے-'' کچھ دیر بعد نیلوفر نے کافی ٹیبل پر ناشتہ کرتے ہوئے اچانک اپنا ہاتھ اسی نامحرم لڑکے کے ہاتھ میں ڈال کر کہا کہ ''میں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے دیں''- اس لڑکے کے ہاتھ چھڑاکر وہاں سے غصے میں گلاس پٹخ کر کچن میں بھاگنے پر وہ کچن کا راستہ روک کر لگاوٹ بھرے انداز میں اپنے آپ کو سپرد کرنے کی کوشش کرنے لگی- اس نامحرم لڑکے کی کامیاب مزاحمت پر تیسرے دن نیلوفر نے اس لڑکے کے مشترکہ دوست کو کال کرکے اس لڑکے پر الزام لگادیا- تاکہ اسے راستے سے ہٹا کر کمال کے لئے راستہ صاف ہو سکے-

ميں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے ديں
اگر ارشد آپ کو جھوٹ بول کر یہ یقین دلانا چاہے کہ نیلوفر پر یہ الزام سچ نہیں ہے تو آپ اس سے کہیے کہ اگر آپ ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں تو یہ الفاظ تین مختلف نشستوں میں تین مختلف وقتوں میں ہم تین گواہوں کے سامنے کہو– اگر ارشد مونہہ بند کرلے، حیلہ کرے یا بھاگ جائے تو سمجھ لیجیے کہ یہ سب سچ ہے– طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوگی اگر یہ سچ ہے- اگر یہ جھوٹ ہے تو طلاق نہیں واقع ہوگی-
"میں ارشد، اپنے ہوش و حواس میں اپنی بیوی نیلوفر کو مشروط طلاق دیتا ہوں اگر یہ مندرجہ ذیل سب کچھ سچ ہو- واقعی ہوا ہو"-
1} سعودی عرب میں نیلوفر نے اپنی شادی کے بعد کمال سمیت کم از کم تین مختلف غیر شادی شدہ نامحرم لڑکوں کے ساتھ مختلف وقتوں میں سیكس پر گفتگو کی-
2} اپنی شادی کے بعد سعودی عرب میں نیلوفر نے کم از کم تین مختلف غیر شادی شدہ نامحرم لڑکوں کو بوسہ دیا-
3} سعودی عرب میں نیلوفر نے ارشد کے کزن زاہد کے ساتھ بیٹھ کر گندی اور ننگی جنسی تصاویر دیکھیں-
4} کراچی میں نیلوفر کی ماں نے جدہ میں ارشد اور نیلوفر کے ساتھ رہ چکنے والے نامحرم لڑکے سے پہلی ہی ملاقات میں نہ صرف نیلوفر کے ارشد کے والد پر لگائے ہوئے بد نظری کے الزام کو دہرایا، بلکہ ارشد کے والد کی نیلوفر پر لڑکے پالنے کا الزام لگانے پر غصہ میں برا بھلا کہہ کر انہیں نیچ اور کمین کا خطاب بھی دیا-
مشروط طلاق کی تفصیلات یو ٹیوب میں موجود ہیں - بعد میں مجھے امریکہ ای میل کریں - اگر ارشد چاروں باتیں کہنے سے ہچکچائے تو صرف کوئی ایک بات سے شروع کر لے-

ارشد کے داماد تو ثبوتوں کے بعد سچ پالیں گے- دوسرے لوگ جو مجھے براہ راست فون پر سن نہ سکيں، وہ ارشد اور نيلوفر کے جھوٹ کو ظا ہر کرنے والا پولی گرافک ٹسٹ کراليں- Polygraph Test (Lie Detector Test) اس کا خرچ میں دوں گا- آلات تک دلوادوں گا- بہرحال ارشد نے مجھ سے اور نيلوفر نے ارشد سے مد ينہ منورہ تک میں بیٹھ کر جھوٹ بولا ہے-
میں ارشد اور نیلوفر کے ساتھ تقریبآ تین سال تک رہا- سولہ 16 جنوری 1983 اتوار سے نیلوفر نے کمال سے اپنے تعلقات کی کہانیاں مجھے سنانا شروع کیں- پھر وہ بری طرح سے میرے پیچھے پڑگئی-
ستائیس 27 فروری کو مجھ پر الزامات لگادیے اور چھ 6 مارچ 1983 کو میں اس گھر سے مکمل طور سے نکل گیا–

ارشد کو میں نے ہی اپنے ایک ساتھی کی ہدایت پر 1983 میں مشورہ دیا تھا کہ اپنی بیوی کو ہمیشہ پریگنینٹ کرتے رہو- تاکہ وہ الٹیاں کرتی رہے اور بچوں کی پرورش میں مصروف رہے- تاکہ اس کو ماضی کی طرح پھر کوئی اور افئیر چلانے کا وقت نہ مل سکے- شکر ہے کہ ارشد نے میری بات مان کر سات بچے اور بنائے- ماشاء اللہ کل نو بچے- جبکہ ہماری نسل کے لوگ دو، تین یا چار بچوں سے زیادہ پسند نہیں کرتے تھے-
نيلوفر کے 27 ستائیس فروری 1983 کو مجھ پر الزام لگانے پر میرا دماغ اجڑ گیا- وقتی طور سے عورت کے نام سے چڑ ہوگئی اور میں نے حرم میں بیٹھ کر دعا مانگی کہ یا اللہ مجھے بیٹیاں مت عطا کریں- اٹھارہ سال تک میرے پورے خاندان میں کوئی بیٹی نہیں ہوئی اور ہم سب بہن بھائیوں کے ہاں اس عرصے میں ماشاء اللہ گیارہ بیٹے پیدا ہوئے-
ارشد 1986 میں اپنے اقامہ کی تجدید کرانے سعودی عرب کچھ دنوں کے لئے اکیلا آیا- مجھ سے فون تک بات کرنا گوارا نہ کی- تو میں نے حرم میں بیٹھ کر دعا مانگی کہ یا اللہ ارشد کو بہت ساری بیٹیاں دیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارشد کے ہاں بیٹے پیدا ہونے بند ہوگئے اور پانچ بیٹیاں اس کے بعد پہ در پہ پیدا ہوئیں-
میری اپنے سارے بہن بھائیوں سمیت پاکستان سے مستقل دور رہنے کی دعا بھی قبول ہو گئی-
جب شعیب کے غلط مشوروں کی وجہ سے میرا گھر اجڑا اور اس کے علاوہ آخر میں شعیب نے مجھ سے انتقاماً میری موجودگی میں نیلوفر کے یار کمال کو گھر پر لانا شروع کر دیا- تو میں نے حرم میں بیٹھ کر دعا مانگی کہ یا اللہ شعیب کو کبھی گھر کا سکون مت دیجئے گا- اس وقت شعیب اپنی مستقبل میں ہونے والی بیوی سے شدید محبت کرتے تھے اور یہ بات مجھ سمیت کسی کے لئے بھی ناقابل یقین ہوتی کہ شعیب کی اپنی بیوی سے نہیں نبھ سکے گی- کافی سالوں بعد اپنی دعا قبول ہوتے دیکھی- ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے شعیب دس سال سے زیادہ عرصے تک اپنا کھانا بیوی سے علاحدہ خود ہی پکاتے تھے- لیکن جب وہ 2007 میں اپنے گھریلو حالات کی بنا پر راولپنڈی میں میرے کندھے پر سر رکھ کر روئے تو شعیب کی حالت دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا- 2018 میں شعیب نے اپنی بیوی کو قانونی طلاق بھی دے دی- وہ ارشد تک سے سبق نہیں سیکھ سکے- کہ ارشد نے اپنی بیوی کے بار بار کے عشقیہ افئیرز اور بدنامی کے باوجود بھی شادی نبھائی- جبکہ خود شعیب نے آخر تک اعتراف کیا کہ ان کی بیوی ایک وفادار بیوی اور پاکباز خاتون تھیں- صرف ضدی طبیعت کی تھیں- (جو کوئی وجہ طلاق نہیں ہونا چاہیے)- کاش میری شعیب سے پہلے جیسی دوستی رہتی تو شاید میں انہیں کچھ سمجھا پاتا-
جب شعیب نے نیلوفر کے ورغلانے پر مجھے گالیاں تک دیں اور اسی دوران ہمارے کاروبار میں نقصان کی وجہ سے مجھے طعنہ تک دیا کہ تمہارے باپ کی مالی حالت کا سب کو پتہ ہے- تو میں نے حرم میں بیٹھ کر دعا مانگی کہ یا اللہ میرے باپ کی مالی حالت شعیب کے باپ کی مالی حالت سے ہمیشہ بہتر رکھئے گا- میری یہ دعا بھی الحمدللہ قبول ہو گئی- اور میں نے بہت سالوں کے بعد شعیب کو اپنے اور اپنے سارے بہن بھائیوں کے گھر بھی الگ الگ لے جا کر اللہ تعالی کا فضل دکھا دیا-
شعیب کے ساتھ طائف جاتے ہوئے جب میں نے آخرکار شعیب کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے سچ بتانا چاہا تو شعیب نے نہ صرف بظاہر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں مان لیتا ہوں کہ وہ عورت (نیلوفر) رنڈی ہے- بلکہ اپنی کار کے گلو کمپارٹمنٹ سے کاٹن بال نکال کر کانوں میں روئی ٹھونس لی- تو میرے دل سے ایک آہ نکلی کہ اے اللہ اس شخص کو بہرا کردے- شعیب کو میں نے آخری عمر میں آلہ سماعت لگاتے دیکھا- مجھے شرمندگی ہوئی جب شعیب نے تمثیلاً نیلوفر کے لئے لفظ رنڈی استعمال کیا- کیونکہ میں بہرحال اس وقت تک ارشد کی فیملی کا احترام کرتا تھا-
مظلوموں کی آہیں عرش تک جاتی ہیں- جب چنگیز خان نے مسلمانوں کے اسکے لوگوں پر ظلم کرنے پر ساری رات کھڑے ہوکر اللہ سے التجا اور دعا کی- تو اللہ نے اسے مسلمانوں پر فتح دے دی-

جو لوگ مجھے براہ راست فون پر ثبوتوں کے ساتھ سن نہ سکیں- وہ ارشد سے پوتوں یا نواسوں کے سر پر ہماری مقدس کتاب رکھوا کر سچ بولنے اور جھوٹ نہ بولنے کی قسم کھلوا کر مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات طلب کریں جو کہ ارشد کو مجھ سے مدینہ منورہ میں پتہ چلے- الفاظ بالکل ایسے ہی رکھئے گا- اگر ارشد مونہہ بند کرلے، یا ارشد سوالوں سے بھاگ جائے، یا جھوٹ کہہ کر انکار کرے تو مجھے امریکہ ای میل کریں-
ارشد کو پتہ چلا کہ نیلوفر نے نا محرم لڑکے کو بتایا کہ نیلوفر نے جب ارشد کو بتایا کہ یہ (نامحرم لڑکا) میری جھکی حالت میں جب قمیص کا گلا کھلا ہو تو وہ اپنی نظریں نیچی کرلیتا ہے- تو ارشد بولا کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہاری طرف دیکھے-
ارشد کو پتہ چلا کہ نیلوفر نے اسی نا محرم لڑکے کو ہنستے ہوئے بتایا کہ جب نیلوفر نے ارشد سے شکایت کی کہ ارشد تم مجھے کم پیار کرتے ہو- تو ارشد نے جواب دیا تو میں کیا ہر وقت تمہیں پچ پچ کرتا رہوں-
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ ارشد نے نيلوفر پر شک کرتے ہوئے اسے کہا کہ پتہ نہیں یہ بچے (مونا اور ندا) میرے ہیں بھی یا نہیں-
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ ارشد کے والد مجھ پر غلط نظر رکھتے ہیں- کہتے ہیں یہ پہنو وہ پہنو- ان کو کیا حق ہے یہ کہنے کا-
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ ارشد مجھے ویڈیو پر ننگی فلم دکھاتے ہیں- مجھے ایسی فلم دیکھ کر الٹیاں آتی ہیں-
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ ارشد میرے منہ میں بھی ڈالتے ہیں- جبکہ اسی زبان سے کلمہ بھی پڑھا جاتا ہے-
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ ارشد نیلوفر سے کہتے ہیں- "کتیا کہیں باہر سے کراکے آ–"
ارشد کو پتہ چلا کہ نيلوفرنے اسی نا محرم لڑکے کو بتايا کہ جب اس نے ارشد کی گیلی شلوار دیکھی تو اس نے ارشد سے کہا کہ ہاتھ سے کیوں فارغ ہوتے ہو- میں جو ہوں-
نیلوفر کو مدینہ منورہ میں ارشد سے اعتراف کرنا پڑا کہ کمال کے ساتھ اس کے عشقیہ تعلقات ہوئے-
ارشد کو اسی نا محرم لڑکے نے خود آ کر بتایا کہ میں نے تمہاری بیوی کو سبق سکھانے کے لیے کس کیا ہے- (الزام کے ڈر سے اپنی عزت بجانے کے لیے کس کرنا پڑا تھا)-
ارشد کو اسی نا محرم لڑکے نے یہ بھی بتایا کہ زاہد نے اسے منع کیا کہ ارشد کو نہ بتائیں- ارشد بھاگ جاتا ہے-
اگر ارشد نے اعتراف نہ کیا، انکار کیا یا بھاگ گیا تو جھوٹ ظاہر کرنے کا پولی گرافک ٹیسٹ کرالیں- پیسے میں دوں گا- آلات بھی دلوادوں گا- بہرحال ارشد نے مدینہ منورہ میں مجھ سے اور نایلوفر نے ارشد سے وہاں بیٹھ کر جھوٹ بولا ہے-

بھولا - ننھا
میرے پاس 9 مختلف ٹرمپ کارڈز ہیں جن میں ایک زاہد کا بھی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ زاہد کے کسی بیٹے کے ساتھ ارشد کے تین چار داماد بھی میرے ساتھ ٹیلیفون کانفرنس میں شریک ہوں- تاکہ زاہد کی طرف کی کہانی بھی خود اپنے کانوں سے سن سکیں- یہاں میں نے صرف کچھ اقتسابات لکھے ہیں- ارشد کو میں نے زاہد کے نیلوفر کے ساتھ کے معاملات کا ہی سوچ کر اشارۃ یہ بات خط میں لکھی تھی کہ "اچھائی اس برائی کا نام ہے جو چھپی ہوئی ہو"- لیکن ارشد سمجھ نہیں سکا-
اس بات کے سوا کہ "ارشد بھاگ جاتا ہے"- میں نے اس ویب سائٹ کی تکمیل تک زاہد کی مندرجہ ذیل باتوں میں سے کوئی بات بھی پچھلے بیالیس 43 سالوں میں ارشد کو گھر ٹوٹنے کے ڈر سے نہیں بتائیں- نیلوفر نے مجھے زاہد کے متعلق بتایا تھا کہ زاہد نے اپنی شادی سے پہلے نیلوفر کو گندے ننگے فوٹو دکھانے کے بعد اس پر دست درازی کی کوشش کی- تو نیلوفر نے کھینچ کر لات ماری- میں نے بعد میں سوچا کہ بات کچھ جمتی نہیں ہے- کیونکہ میرے ساتھ تو خود نیلوفر دو دفعہ دو موقعوں پر بے قابو ہوچکی تھی- میں نے نیلوفر سے کہا تھا کہ غلطی تو آپ کی بھی تھی کہ آپ نے کیوں وہ فوٹو دیکھے- تو نیلوفر نے جواب دیا کہ میں مانتی ہوں کہ وہ میری غلطی تھی- نیلوفر مجھے پہلے بتا چکی تھی کہ اپنے شوہر ارشد کے بلیو فلم دکھانے پر نیلوفر کو الٹی آتی تھی- (لیکن زاہد کے ساتھ گندے فوٹو دیکھنے پر نیلوفر کو الٹی نہیں آئی- یہ بات بھی کچھ جمی نہیں) - پھر زاہد کے گندے فوٹو دکھانے کے مرحلے تک پہنچنے تک کیا کیا باتیں پہلے ہوچکیں تھیں۔
بعد میں، میں نے یہ بھی سوچا کہ کیا زاہد کو کسی بات پر بلیک میل کرنے کے لئے نیلوفر کو اپنے اوپر زاہد سے دست درازی کروانے کے لئے جتن کرنے پڑے تھے؟ زاہد تو ارشد کا بھائی ہے- بے شک کزن صحیح لیکن ہے تو بھائی اور وہ بھی نمازی- اصل واقعہ کیا ہوا- یہ صرف زاہد ہی بتا سکتا تھا- زاہد کی کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے شادی ہوچکی تھی۔ میں زاہد کے کام کرنے کی جگہ پر زاہد ٹریکٹرز کمپنی میں صبح کے وقت پہنچا- زاہد کو باہر بلایا- ہم میری گاڑی میں بیٹھے- میں نے بہانہ بنایا کہ باہر سے گرد آرہی ہے- گاڑی کے شیشے چڑھا لیں- زاہد نہیں سمجھ سکا کہ میں گرد کو نہیں بلکہ باہر کی آوازوں کو روکنا چاہتا تھا- تاکہ ریکارڈنگ صاف ہو سکے۔
نیلوفر نے شعیب کو میرے خلاف کرنے کے لئے میری غلطی سے ضمیر (فرضی نام) کی خطائیں نیلوفر کو سمجھانے کے انداز میں بتانے پر، بعد میں شعیب اور ضمیر تک پہنچا کر ان کو میرے خلاف کر دیا تھا- نیلوفر کی سکھائی ہوئی یہی ترکیب (حربہ) استعمال کرتے ہوئے میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفر نے آپ پر الزام لگایا ہے کہ زاہد بھائی نے پہلے گندے فوٹو دکھائے- پھر آپ دست درازی کے لئے اس کی طرف بڑھے تو اس نے کھینچ کر لات ماری- زاہد نے یہ سن کر بے ساختہ پہلا جملہ یہ کہا کہ وہ بڑی بری عورت ہے- بیک وقت دو دو سے عشق لڑاتی ہیں- زاہد نے نیلوفر کے لات مارنے کی بات سن کر کہا کہ کیا ادھر کسی فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی - (یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ جس بھائی کی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر ننگے فوٹو دیکھے- شادی کے بعد اسی بھائی سے شروع میں اپنی بیوی کا پردہ کرایا)- جب میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفر نے اپنے افئیر کی خاطر میرے دوست کو فون کرکے میرے اوپر بھی الزام لگا دیا- تو زاہد نے خود ہی کمال کا نام لیا کہ نیلوفر کا کمال کے ساتھ افئیر چل رہا ہوگا- میں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے اندازہ ہوا تو زاہد نے بتایا کہ آج کل وہ کمال کی سب کے سامنے بڑی تعریفیں کر رہی ہیں- (عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے)-
زاہد نے جب طعنہ مارا کہ یہ اپنی ماں کے نقش قدم پر چل رہی ہیں- تو مجھے احساس ہوا کہ بیٹی کی حرکتوں پر ماں بدنام ہو رہی ہے-
زاہد نے بتایا کہ آپ سے پہلے جو لڑکے ارشد کے ساتھ رہتے تھے (سلیم اور ڈڈن) انھوں نے ارشد کے ہاں سے نکلنے کے بعد میرے بڑے بھائی ہاتف کو جا کر بولا تھا کہ ہاتف ہم اس عورت کو صرف تیری وجہ سے چھوڑ رہے ہیں- ورنہ اس کے بلیو پرنٹس بنا کر اسے ساری زندگی ذلیل کرتے- (زاہد کی اسی بات پر مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ نیلوفر کو روکنا ضروری ہے کیونکہ ارشد بیٹیوں والا ہے- ورنہ نیلوفر کا حوصلہ بڑھنے پر کسی اور کے ساتھ آئندہ بات کبھی خون خرابے تک بھی پہنچ سکتی ہے)-
زاہد نے کہا آپ شام کو میرے گھر آئیں تو آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا- میں شام کو زاہد کے گھر پہنچا- زاہد کی اپنی طرف کی کہانی کے علاوہ 53 منٹ کی گفتگو میں سے کچھ اقتسابات پیش خدمت ہیں- زاہد نے اس گفتگو میں اپنے بھائی کی بیوی کو خوب ننگا کیا- گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے-
زاہد نے سب سے پہلے یہ کہا کہ ارشد کو کچھ نہ بتائیں وہ آپ کی باتوں پر یقین نہیں کرے گا- اور آپ کا دشمن ہو جائے گا-
زاہد نے کہا کہ سلیم اور ڈڈن تو ارشد کو "ننھا" کہتے تھے- یونس اور ملک سرفراز کو بھی ساری کہانیاں پتہ ہیں اور وہ بھی ارشد کو "ننھا" کہتے ہیں- (ملک سرفراز گجراںوالہ سے جدہ پہنچا تھا)-
میں نے زاہد کو بتایا کہ میرے پاس ثبوت ہیں- زاہد بولا کوئی فائدہ نہیں- آپ اگر ارشد کو اس کی بیوی کے بلیو پرنٹس بھی دکھا دیں گے تو بھی وہ کہے گا کہ میری بیوی بڑی بھولی ہے- (یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے- پاکستان میں تو پٹواری، یوتھیے، جیالے، بھیے اور دوسری پارٹیوں کے لوگ اپنے لیڈر کو معصوم ہی سمجھتے ہیں اور کرپشن کے الزامات کو جھوٹا پروپیگنڈا)- (زاہد نے کیا خوب کہا تھا- درحقیقت بعد میں ارشد نے بلیو پرنٹس سننے کے باوجود بھی یہی کہا- کہ نیلوفر بیوقوف تو اتنی ہیں کہ مذاق کو حقیقت سمجھتی ہیں- واہ رے ارشد ننھا= (کمال، مجھے، شعیب اور ارشد چار مردوں کو بیک وقت بے وقوف بنانے والی عورت کو ارشد بے وقوف کہہ رہا تھا)- اگر ارشد ایسا نہیں ہوتا تو نیلوفر بھی ایسی مکاری نہیں کیا کرتی- (اس جاہل عورت نے کبھی کالج کی شکل نہیں دیکھی مگر مکروفریب میں پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا)-
(ایک مکار عورت اپنی سے دگنی عمر کے مرد کو تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے- نیلوفر نے میرے زیادہ عمر والے دوست کے سامنے ڈگڈگی بجانی شروع کی- تو وہ شخص اس کے اشاروں پر بندر کی طرح ناچنے لگا)-
زاہد نے بتایا کہ ارشد بھاگ جاتا ہے- ارشد کو سب پتہ ہے کہ اس کی بیوی کیسی ہے- زاہد کے یہ کہنے پر کہ ارشد سننے سے بھاگ جاتا ہے، میں نے زاہد سے ڈھکے چھپے لفظوں میں پوچھا کہ ارشد کی بیوی یہ سب کچھ بلا خوف بار بار جو غیر شادی شدہ لڑکوں سے آشنائی کرتی ہے تو کہیں اس میں ارشد کی اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے اس کی اپنی نیم رضامندی بھی تو نہیں شامل ہوتی ہے- تو زاہد نے ہنس کر جواب دیا کہ اپنی شادیوں سے پہلے ہم دونوں ایک دوسرے کو چھیڑا کرتے تھے- "تیری بیوی میرے ساتھ – نہیں تیری بیوی میرے ساتھ"- (بہت یارانہ تھا)- غالباً اسی وجہ سے زاہد نے اپنی شادی کے بعد شروع شروع میں اپنی بیوی کا ارشد سے پردہ کرایا تھا- (اگر ارشد نیلوفر کے سلیم اور ڈڈن کے ساتھ پچھلے افئیرز کے وقت ان لڑکوں میں سے کسی کی پوری بات سن لیتا اور بھاگتا نہیں- تو مجھے یہ سب کچھ نہیں بھگتنا پڑتا- اور اگر میرے معاملے میں بھاگتا نہیں تو زاہد کو دوبارہ اپنے ہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتا- اور دونوں دفعہ بعد کی مشکلات سے بھی بچ جاتا- (اگر ارشد ایسا نہیں ہوتا تو نیلوفر بھی ایسی مکاری نہیں کیا کرتی)-
زاہد نے بتایا کہ ان لڑکوں نے نیلوفر کا نام "ثریا بھوپالی" رکھ دیا تھا کیونکہ نیلوفر ان لڑکوں کو بتاتی تھی کہ اس کے گھر والے بھوپال سے ہیں-
جب میں نے زاہد سے کہا کہ نیلوفر کو ارشد کے ساتھ بیٹھ کر بلیو فلم دیکھنا پسند نہیں ہے- ارشد کو منع کریں- تو زاہد نے کہا کہ ارشد کو اپنی بیوی کے ساتھ بلیو فلم نہیں دیکھنی چاہیے- یہ بہت ہی غلط بات ہے- (میں نے سوچا کہ لیکن زاہد کے خیال میں نیلوفر کا زاہد کے ساتھ بیٹھ کر گندے فوٹو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا)-
زاہد نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج رو رہے ہیں کل ہنس ہنس کر دوسروں کو بتائیں گے-
زاہد نے پھر مجھے ارشد کو بتانے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ کیچڑ میں جلنے سے اپنے ہی کپڑے گندے ہوتے ہیں- زاہد کو یہ ڈر بھی ہو گیا تھا کہ اگر میں نے ارشد کو بتایا تو کہیں اس کی بات بھی نہ کھل جائے-
زاہد نے کہا کہ ایک دن یہ عورت ارشد کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے گی- (زاہد کی ساری باتوں میں سے صرف ایک یہ بات غلط ثابت ہوئی)-
جب میں نے زاہد کو بتایا کہ نیلوفر نے کہا کہ وہ کمال کی شادی اپنی چھوٹی بہن سیما سے کرنا چاہتی ہیں تو زاہد ہنس کر بولا تو کیا وہ پہلے کمال کا خود ٹرائی لے رہی ہیں- جیسے ٹیلر سوٹ کو پہنا کر ٹرائی لیتے ہیں-
زاہد نے بتایا کہ نیلوفر میری طرح اس کو بھی اپنی خوش فہمی ان ہی الفاظ میں بتا چکی ہے کہ "جو بھی مجھے دیکھتا ہے میرا عاشق ہو جاتا ہے"- (قلوپطرہ کی ماں)-
زاہد نے بتایا کہ سلیم تو انتہائی خوبصورت خوبصورت لڑکیاں گھر لے کر آیا کرتا تھا- برے کام کے لئے- زیادہ تر ائر ہوسٹس ہوتی تھیں- (بعد میں ڈڈن نے بھی اس بات کی تصدیق کی)-
زاہد بولا کہ سلیم نیلوفر سے کہا کرتا تھا کہ تم ارشد کو چھوڑ دو- میں تم سے شادی کر لوں گا-
زاہد نے بتایا ڈڈن کا نام حسن پرویز ہے اور اس کی بندر روڈ پہ آٹو ریپیئر شاپ ہے _ _ کے نام سے-
جب میں نے زاہد سے پوچھا کہ ارشد کی بیوی کا یہ سب زبانی جمع خرچ ہے یا بات آگے تک جاتی ہے تو زاہد نے کہا- بد اچھا بدنام برا- جب ارشد نیلوفر سے شادی کرنا چاہتا تھا تو کسی لڑکے نے آ کر میرے بھائی ہاتف کو بولا تھا کہ اپنے بھائی سے بولو کہ یہاں شادی نہ کرے- ہم اس عورت کے ساتھ سب کچھ کر چکے ہیں- (وارننگ: اسلام میں آپ کسی پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے جب تک چار راست گو مسلم گواہ عدالت میں گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ یا آڑ کے، سرمہ اور سرمہ دانی والا معاملہ خود اپنی آنکھوں سے صاف طور سے دیکھا ہے)- یہاں لکھنے کا مقصد صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ زاہد کے خیالات اپنے بھائی ارشد کی بیوی کے لئے کیسے تھے- اور ان سب باتوں کے باوجود میرے بعد زاہد دوبارہ ارشد کے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنے چلا گیا-
زاہد نے شعیب پر بھی شک ظاہر کیا- اور میرے سختی سے تردید کرنے کے باوجود زاہد نے یقین نہیں کیا اور کہا کہ آپ کچھ بھی سمجھیں لیکن شعیب کی نیت خراب ہوگی- (اگر شعیب کو زاہد کی یہ بات پتہ چل جاتی تو زبردست جھگڑا پڑ جاتا)-
زاہد بولا کہ سب کو افسوس تھا کہ ارشد اپنی سے بڑی عمر کی عورت سے شادی کر رہا ہے- (مجھے پہلی دفعہ یہ بات زاہد سے ہی پتہ چلی کہ نیلوفر عمر میں ارشد سے بڑی ہے)-
زاہد نے یہ بھی کہا کہ نیلوفر اس کی بیوی سے بولی تھی کہ زاہد پہلے میرے پیروں کو غور سے دیکھا کرتے تھے- (پیروں کی خوبصورتی کو تکا کرتے تھے)-
زاہد نے مجھ پر احسان جتانے کی کوشش کی کہ ارشد سے میں نے ہی آپ کی سفارش کی تھی کہ اس کو گھر میں روم میٹ رکھ لیتے ہیں- یہ ٹھیک شخص لگتا ہے- (کاش میں وہاں نہ رہتا)-
زاہد نے یہ بھی کہا کہ میں تو مرد ہوں- یہ عورت مجھ پر کسی اور کے سامنے الزام لگا کے تو دیکھے-
جب مجھے 2009 میں زاہد کے عجیب غیر فطری حالات میں انتقال کی خبر ملی- تو مجھے شک ہوا کہ خدانخواستہ زاہد کو زہر تو نہیں دیا گیا تھا-

زاہد نے نیلوفر کے متعلق جو بتایا تھا اس میں اپنے بڑے بھائی ہاتف کا بھی ریفرنس دیا تھا۔ پاکستان جا کر میں نے ہاتف سے تصدیق کرنا ضروری سمجھا کہ کہیں زاہد اپنی بات کھلنے پر نیلوفر پر بہتان تو نہیں باندھ رہا ہے۔ لیکن ہاتف نے نہ صرف باتوں کی تصدیق کی بلکہ یہ تک کہا کہ آپ تو بہت لحاظ کرکے بتا رہے ہیں۔ سلیم نے بتایا تھا کہ نیلوفر تو لڑکوں کے کمرے میں چلی آتی تھی اور پاجامے میں ہاتھ ڈال کے گھوڑا پکڑ لیتی تھی۔ بعد میں ڈ ڈن نے بتایا کہ "اس کے ساتھ نیلوفر کے پاجامے میں ہاتھ ڈالنے والی بات نہیں ہوئی، البتہ نیلوفر نے جب وہ لیٹی ہوئی تھی اور وہ اس کے بیڈ کی پائنٹی کے پاس کھڑا ہوا تھا تو نیلوفر نے اپنا پیر آگے بڑھا کر ہنستے ہوئے اس کے پاجامے کی رومالی کو قمیص کے اوپر سے پیر سے چھوا تھا۔
ڈڈن نے یہ بھی بتایا کہ نیلوفر اس کو یعنی ڈ ڈ ن کو بھی بوسہ دے چکی ہے۔“ ڈ ڈ ن نے مزید کہا کہ اس وجہ سے اس کی سلیم سے بدمزگی بھی ہوئی، جس پر اس نے سلیم کو سمجھایا کہ ایسی عورت کے پیچھے کیوں اتنی پرانی دوستی خراب کرتے ہو، کیونکہ دونوں کی آٹھویں کلاس سے دوستی تھی۔ بلکہ سلیم ہی نے اس کو سعودی عرب کے لیے راغب کیا تھا۔ (اسی دوران جب ڈڈن نے نیلوفر کو پرکشش عورت کہا تو مجھے ڈڈن کی دماغی حالت پر شبہ ہوا)۔
ڈ ڈ ن سے جب میں نے شکایت کی کہ اگر وہ ارشد کو نیلوفر کی حرکتیں بتا دیتا تو مجھے یہ سب نہیں بھگتنا پڑتا، جس پر ڈ ڈ ن نے انکشاف کیا کہ اس نے ارشد کو بتایا تھا۔
ڈڈن نے یہ بھی کہا کہ سلیم نے نیلوفر کو نہیں چھوڑا ہوگا اور ضرور پیل دیا ہوگا۔ (وارننگ: اسلام میں آپ کسی پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے جب تک چار راست گو مسلم گواہ عدالت میں گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ یا آڑ کے، سرمہ اور سرمہ دانی والا معاملہ خود اپنی آنکھوں سے صاف طور سے دیکھا ہے)۔
ہاتف نے مجھے بتایا کہ نیلوفر تو اس پر بھی الزام لگا چکی ہے (یعنی ہاتف پر)۔ میں نے ہاتف سے یہ نہیں پوچھا کہ کس طرح کا الزام لگایا تھا۔
ہاتف نے بتایا کہ سلیم کا اتا پتہ آپ کو صدر میں رتن تلاؤ کی الیکٹرانکس کی دکانوں میں مل جائے گا۔
یہ بھی بتایا کہ سلیم ہاتف کو خطوط لکھتا رہا ہے۔ بعد میں ہاتف سے میری بھی خط و کتابت رہی۔ جب ارشد کو ہاتف کے مشورے پر میں نے مدینہ منورہ جا کر نیلوفر اور کمال کے افئیر کے متعلق بتایا اور اس پر ارشد نے مجھ سے قطع تعلق کرلیا، تو میں نے ہاتف کو خط میں یہ تاریخی جملہ لکھا کہ "فرض ادا ہوگیا- قرض رہتا ہے۔" ہاتف کی کہی ہوئی یہ باتیں میں نے ارشد کو نہیں بتائیں- صرف یہ بتایا کہ ہاتف نے یہ مشورہ دیا تھا کہ نیلوفر کا کمال کے ساتھ افئیر کا ارشد کو مطلع کردوں۔ ارشد طلاق ولاق نہیں دے گا۔
بعد میں ارشد نے اس پر بتایا کہ وہ ہاتف سے تھوڑا ناراض ہے کیوں کہ ہاتف نے پہلے ضیا بھائی کی بہن کو پھانسا لیکن پھر شادی کہیں اور رچالی۔
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہاتف کے بیٹے کو آرمی میں جنرل کا عہدہ عطا فرمائیں۔
ارشد کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اسی گلی میں رہنے والے میرے دور کے ایک رشتہ دار کا رشتہ ضیا بھائی کی اسی بہن کے لیے آیا تھا مگر انکار ہوگیا تھا۔ مجھے بھی اسی دوران پتہ چلا تھا۔

اب میں نے نیلوفر کی ماں محترمہ شمیم صاحبہ سے مشورہ لینا ضروری سمجھا کہ کیسے ان معاملات کو روکا جائے- جب میں نے نیلوفر کی ماں کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے میرے اوپر الزام لگایا ہے تو ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ کہنے لگیں کہ اے ہے، وہ تو ہمیشہ تمہاری بڑی تعریف کرتی ہے۔ پھر میں نے ان کو نیلوفر اور کمال کے افئیر کا بتایا تو انہیں ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی۔ کوئی اور ماں ہوتی تو یقین نہ کرتی اور مجھے دھکے مار کے گھر سے باہر نکال دیتی، لیکن وہ کہنے لگیں کہ اس کو تو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس نے تو خود سوتیلے پن کا مزہ چکھا ہے۔ پھر اپنی بیٹی نیلوفر کا بتایا کہ بہت ضدی ہے۔ یہ بارش میں اوپر چھت پر چلی جاتی تھی، اور وہ اسے پکڑ کر گھسیٹ کر نیچے لاتی تھیں، یہ کہتے ہوئے کہ محلے کے لڑکے تیرے بھیگے جسم کو دیکھیں گے۔ مگر نیلوفر پھر ہاتھ چھڑا کر اوپر چھت پر چلی جاتی تھی۔ پھر غصہ میں کہنے لگیں کہ یہ گھر کے دروازے کی طرف بھی بہت بھاگتی تھی، جب بھی اسے باہر سے کوئی آواز آتی تھی۔ میں اسے منع کرتی تھی مگر یہ نہیں مانتی تھی- (کہ مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا)۔
جب میں نے ان کو بتایا کہ نیلوفر نے برا منایا ہے جب ارشد کے ابا اس کو کپڑوں کے انتخاب کا بتاتے ہیں، تو نیلوفر کہتی ہے کہ ان کو کیا حق ہے یہ کہنے کا کہ یہ پہنو یا وہ پہنو۔ تو وہ بولیں کہ ہاں وہ کہتے تو ہیں کہ یہ پہنو یا وہ پہنو۔ (البتہ کمال کا یہ چاہنا کہ وہ نیلوفر کو کپڑوں کے بغیر دیکھے، نیلوفر کو برا نہیں لگتا تھا)۔
پھر مجھے غصہ سے بتایا کہ سعودی عرب سے آ کر ارشد کے والد سب سے کہتے پھر رہے تھے کہ نیلوفر نے وہاں لڑکے پال رکھے ہیں۔ تو انہوں نے نیلوفر کو سمجھایا کہ اے بیٹی تم ہی اپنے آپ کو سنبھالو۔ اگر کوئی شخص اتنا 'نیچ اور کمین' ہے کہ شادی کے اتنے سالوں کے بعد بھی طلاق دلوانا چاہ رہا ہے، تو تم ہی اسے کوئی موقعہ نہ دو۔
پھر مزید بتایا، 'کہ میں نے ارشد کو بلاکے کہا کہ تیرا باپ خاندان میں میری بیٹی پر ناجائز تعلقات کا الزام لگاتا پھر رہا ہے۔ دیکھ تو اپنے باپ کو سمجھا لے۔ - - - - - - - ورنہ. - - - - - - - - - ۔

کچھ لڑکوں کو کام پر لگا کر پہلے مردم شماری کے بہانے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاکے لوگوں سے کل افراد کی معلومات لیں اور بعد ميں ان ميں سے جوان لڑکوں سے پتہ کيآ تو پتہ چلا کہ رابعہ اور نیلوفر اپوا گرلز اسکول سے واپسی پر لڑکوں کو اپنے پیچھے لگا کر فلرٹ کرتی ہوئی آتی تھیں- دونوں اس معاملے ميں ايک درسرے سے بڑھ چڑھ کر تھيں- انکا حلقہ احباب کافی وسیع تھا- ان ميں سے ایک لڑکا تو موٹر سائيکل پرمستقل آيا جايا کرتا تھا- ارشد سعودی عرب آنے سے پہلے پاکستان میں خود کبھی کوئی موٹرسائیکل نہیں رکھ سکا تھا-
زاہد کی بات سچ نکلی کہ بد اچھا بدنام برا- پتہ پتہ بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے- جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے- ننھی بدنام ہوئی ڈارلںگ تیرے لئے-

آپ پورے واقعات کو اگلے صفحہ پر مفصل Details کے تحت پوری طرح سمجھ کر مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اگر ارشد کو کسی کو گھر سے نکالنا ہی تھا تو نیلوفر کو نکالتا- اگر کسی سے قطع تعلق ہی کرنا تھا تو زاہد سے قطع تعلق کرتا- اگر کسی سے صرف گھر سے باہر ہی ملنا تھا تو شعیب سے گھر سے باہر ملتا- اگر کسی کا اپنے گھر آنا جانا پسند نہیں ہوتا تو یہ سعید صاحب کے لئے ہوتا- اور اگر کسی کو غلط قوت فیصلے کا الزام دینا تھا تو آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر غلط قوت فیصلہ والے کو الزام دیتا- اور ہاں، نیلوفر اور اس کی ماں کے بد نظری کے الزام پر اپنے والد سے ضرور اپنی بیوی کا پردہ کرواتا۔
میں یہی سوچتا رہ گیا کہ شاید ارشد نے میرے ساتھ اس لئے تعلق ختم کیا کہ میں نے اس کی بیوی کے ساتھ نہ خود کچھ کرنا چاہا اور نہ دوسرے کو کچھ کرنے دینا چاہا-

S. M. Ali Shah Zaheer - Zia Bhai / Bare Abba - Sayyad Manzil - 2/812 - Liaquat Abad
ارشد کے والد جولائی 1980 ميں رمضانوں ميں جدہ آئے- ہم دوست مل کر ان کے ساتھ اکثر تاش کھيلا کرتے تھے- مونا کی پيدائش 13 تیرہ اگست 1980 کو ہوئی- ارشد کے والد مولانا رشید گںگوہی کے بہت معتقد تھے- بیٹوں کے نام ارشد اور راشد اسی لئے رکھے تھے- اگر اور بیٹے ہوتے تو ان کے نام رشید، مرشد، رشدی اور ارشاد اور لڑکیوں کے نام رشیدہ، راشدہ رکھ سکتے تھے- جب ارشد کے والد اپنا حج کا پروگرام اچانک چھوڑ کر حج کيے بغير 11/ 12 گیارہ بارہ اکتوبر 1980 کو حج سے صرف چار پانچ دن پہلے اچانک پاکستان واپس چلے گۓ تو سب کو بڑی حيرت ہوئی– ايک ساتھی ضميرشاہ (فرضی نام) نے تو يہ تک مجہے مذاق ميں کہا- کہ ان کو گرل فرينڈ سے دوری برداشت نہ ہو سکی ہوگی- ٹچو لگانا چاہا ہوگا- ميں نے کہا- شرم کرو- وہ اس عمرميں کچھ نہيں کرسکتے- تو ضمیر نے ہںس کر جواب ديا کہ ٹچو تو لگا سکتے ہیں- چژا بھی تو چژی پہ چژھ کر جلدی سے ٹچو لگا ليتا ہے-
ارشد کو پہلی دفعہ کمال اور نيلو کے افئيرکے متعلق ميں نے ستمبر1983 ميں بتايا اور اس نے مجھ سے قطع تعلق کر ليا- ارشد نے پاکستان میں اپنے والد کو بھی کچھ عرصہ بعد مطلع کردیا کہ مجھ سے تعلق نہ رکھیں- ميرے ايک بہنوئی کا ٹريفک ايسیڈنٹ ميں انتقال ہوگیا تو میں پھرجولائی 1984 کے بالکل آخرميں ضيا بھائی کے ہاں ان لوگوں کو چہلم پہ بلانے کے لئے گیا- ارشد کے ابا نے دروازہ کھولا- ميں نے ان کو بتايا کہ ميرے بہنوئی کا انتقال ہو گيا ہے تو انہوں نے اکڑ کے جواب ديا- " ہوا ہوگا "- ميں نے پھرکہا کہ پرسوں چہلم ہے تو انہوں نے يہ کہہ کر" پھر مجھے کيا " دروازہ بند کرديا- کچھ دنوں کے بعد میں سعودی عرب واپس آگیا- نہ ارشد نے اور نہ ہی شعیب نے تعزیت کے لئے ٹيلیفون کال کرنے کی زحمت گوارا کی- جن کے ساتھ دن رات کا ساتھ تھا- ="جاتی ہوئی ميت ديکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے- دو چار قد م تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں"= ارشد کے ابا کو ميں نے صرف ارشد کی محبت ميں کوئی جواب نہيں ديا ورنہ اگر ان کو بتا د يتا کہ آپ کی بہو آپ پر بدنظری کا الزام لگاتی ہے اور آپ کی سمدھن آپ کو"نيچ اور کمين" کہہ چکی ہے تو اسی وقت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا- = میچ شروع ہونے سے پہلے ہی وکٹیں گرجاتیں= بہرکيف ميں نے ارشد کے ابا کے اجر يا مکافات کو آخرت کے ليے اس طرح سے موخرکرديا کہ جب مجھے ان کے انتقال کا کافی تاخیرسے پتہ چلا تو 2005 اور2006 کے درميان ميں کام پرآتے اور جاتے ہوئے 40 چالیس منٹ کے راستے پر ميں انہيں پڑھ پڑھ کر بخششتا ہوا جاتا تھا- اور اب بھی نمازکے بعد ان کو ایصال ثواب پہںچاتا ہوں تاکہ انہيں عالم برزخ ميں مستقل شرمند گی ہوتی رہے- ان کو میری طرف سے بخشش کی دعاؤں کا فائیدہ ہو یا نہ ہو لیکن ان کو مس کال کا پتہ تو چل جاتا ہوگا- آپ لوگوں کو میں گواہ بنا رہا ہوں-
اور آخرت ميں تو ان سے ملنا ہی ہے–(sweet revenge) يہی ميرا سوئيٹ رونج ہے-

میں جدہ میں ارشد کے گھر 1980 کے شروع میں رہائش کے لئے پہںچا- تقریبآ تین سال رہا- شعیب ہی مجھے وہاں لے کر پہںچے تھے- کمال اور نیلوفر کی عشقیہ کہانی 18 جنوری 1983 مںگل کو نیلوفر نے مجھے بتانا شروع کی اور چھ 6 مارچ 1983 کو میں اس گھر سے مکمل طور سے نکل گیا- لیکن اس 47 سینتالیس دن یا سات ہفتے کے اس ڈرامے نے میرے دل و دماغ کی دنیا ہمیشہ کے لئے بالکل تہہ و بالا کرکے رکھ دی- میں کاروبار میں ابتدائی نقصانات کی وجہ سے اپنی زندگی کے بدترین معاشی بحران سے گزررہا تھا- اور مجھے ان حالات کی وجہ سے اپنے کاروبار کو بند کرنا پڑ گیا- ان واقعات کا برا اثر ازدواجی زندگی سمیت میری پوری زندگی پر پڑ گیا- ساری زندگی مجھے PTSD (پوسٹ ٹرامیٹک اسٹرس ڈس آرڈر) بھگتنا پڑا- اور بعد کے Attention Deficit (اٹنشن ڈیفیسٹ) کی وجہ سے مجھے داخلے کے بعد امریکن یونیورسٹی چھوڑنی پڑ گئی- کاش ارشد میری زندگی میں کبھی نہ آیا ہوتا- مجھے جو بھگتنا پڑا، اس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے-
میں اب ہر سال 24 فروری کو یوم دفاع کے طور پر مناتا ہوں- میرے ارشد اور نیلوفر کے ساتھ تقریبآ تین سال رہنے سے پہلے بھی نیلوفر کا چکر سلیم اور ڈڈن کے ساتھ چل چکا تھا- جس کا زاہد کو اور ارشد کو علم تھا- جبھی مونا کی اور ندا کی پیدائش کے بعد ارشد نے نیلوفر کو طعنہ دیا تھا کہ پتہ نہیں یہ بچے میرے ہیں بھی یا نہیں- (اس وقت تک ڈی این اے ٹیسٹنگ مارکیٹ میں موجود نہیں تھی– DNA Test - 2000 میں متعارف کرائی گئی)- پھر بھی ارشد نے مجھے دس ماہ کی واجبی سی جان پہچان کے باوجود اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دی- جبکہ زاہد بھی اپنی شادی سے پہلے ارشد کے ساتھ رہ رہا تھا- اور شادی کے بعد وہاں سے نکل گیا تھا- پھر جب ارشد کو نیلوفر کے کمال کے ساتھ افئیر کے متعلق بتانے کے بعد میں نے دبے لفظوں میں ارشد کو یہ بتایا کہ نیلوفر نے زاہد پر بھی الزام لگایا ہے- تو اس کے باوجود ارشد نے میرے بعد زاہد کو اپنے ساتھ رہنے کے لئے دوبارہ بلالیا- جبکہ شروع میں زاہد کا اپنی بیوی سے ارشد کا پردہ کرانے پر ارشد چراغ پا بھی تھا- میں زاہد کا ارشد کے ساتھ دوبارہ رہنے پر حیران ہوگیا- کہ ارشد کی زاہد کے ساتھ کیا ڈیل ہوئی- اور بعد میں کیا نیلوفر نے میری طرح سے زاہد کو بھی ہاتھ میں ہاتھ پھنس کر آفر دی- کہ "میں آپ کو ہر طرح سے خوش رکھوں گی اگر آپ مجھے کمال سے ملنے دیں"- نیلوفر نے مجھے ورغلانے میں ناکام ہونے کے بعد مجھ پر تین طرف سے دھوبی پاٹ مارا- مجھ پر دست درازی کا جھوٹا الزام لگایا- میرے ماضی کو بڑھا چڑھا کر اور توڑ مروڑ کر آشکارا کیا- اور ارشد کو مقابلتاً بہتر اور اچھا دکھانے کے چکر میں اپنی اور دوسرے دوستوں کی جو برائی ظاہر کر بیٹھی، وہ نیلوفر نے اسی دوست کو شکایت کردی- تاکہ محھے ہتا کر اپنے یار کے لئے اپنا راستہ صاف کر سکے- (نیلوفر نے ضمیر(فرضی نام) کا غصہ بھڑکانے کے لئے ضمیر کی یہ بات تک دوست کو بتا دی تھی کہ ضمیر کو اس کی ماں نے گھر میں ہی کسی لڑکی کے ساتھ غلط کام کرتے ہوئے پکڑا تھا- ماں غیر متوقع وقت پر جلدی گھر واپس آگئیں تھیں- ضمیرشاہ نے اسی بات پر مشتعل ہوکر شعیب سے اپنے تعلقات ہمیشہ کے لئے ختم کرلئے- کیونکہ یہ بات ضمیر نے صرف شعیب کو بتائی تھی جو شعیب نے مجھے بتادی تھی- درحقیقت اسی بات پر شعیب میرے خلاف ہوگئے اور مجھ سے کئی سالوں تک کے لئے اکھڑ گئے- جب نیلوفر مجھ سے بولی تھی کہ وہ اناڑی نہیں ہے کہ ارشد کو اس کے کمال کے ساتھ افئیر کا پتہ چل جائے- تو میں نے تنبیہ کے طور پر اس کو بتایا تھا کہ جب ضمیرشاہ جیسا عقلمند شخص پکڑا گیا تھا تو وہ بھی پکڑی جا سکتی ہے- (جس پر ارشد اس کو چھوڑ دے گا)- بعد میں ارشد نے بھی اپنی عزت بچانے کے لئے اپنی بیوی ہی کی طرح اپنے دامن کی غلا ضت میرے منہ پر مل دی-
1986 کے درمیان ارشد اپنے اقامہ کی تجدید کروانے اکیلا جدہ آیا- حسیب صاحب سے ارشد نے ملاقات کی- مگر مجھے ارشد نے ٹیلیفون تک نہیں کیا- حسیب صاحب نے کہا کہ ارشد نے بتایا کہ ماضی میں شعیب کی ایک بات اسے بری لگی تھی- جب ارشد جدہ میں شعیب کے گھر میں میاں بیوی کے بیڈ روم میں اچانک چلا گیا تھا- تو شعیب نے ٹوکا تھا کہ کسی کے بیڈ روم میں بلا اجازت نہیں آنا چاہئے- (جو کہ شعیب کی مناسب بات تھی)- لیکن ارشد نے اس طرح سے بدلہ لیا کہ کراچی میں شعیب کے نسبتاً چھوٹے گھر میں جہاں بیڈ روم الگ تھلگ نہیں تھا، ارشد نے طنزیہ اجازت طلب کی کہ کیا میں آپ کے بیڈ روم میں آسکتا ہوں- جس پر شعیب کی بیوی نے کہا کہ ارشد بھائی آپ بھی ہمارا مذاق بنا رہے ہیں-
ان واقعات کو تینتالیس 43 سال گزر چکے ہیں- نیلوفر اور ارشد کے لئے اپنی عزت بچانے کی خاطر کوئی جھوٹی کہانی گھڑنے کے لئے یہ بہت بڑی مدت ہے- مثلًا یہ کہ ثبوت جعلی ہیں- اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے بنائے ہوئے ہیں- یاد رہے کہ 1983 میں اے آئی کا کوئی وجود نہیں تھا- پھر بہت سے سائنسی ٹیسٹ Forensic Test موجود ہیں- اس کے علاوہ پولی گرافک ٹیسٹ سے بھی جھوٹ کا پتہ چلایا جا سکتا ہے- (پاکستان کے سارے سیاستدانوں اور کرپشن میں ملوث لوگوں کا بھی براہ راست ٹی وی پر یہ پولی گرافک ٹیسٹ کرانا چاہیے)- یا پھر نیلوفر کو دو دامادوں کے ساتھ مکہ مکرمہ لے جا کر حرم میں بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں- سارے خرچے میرے ذمہ- دیکھنا یہ ہے کہ سچ ثابت ہونے تک ننھا ارشد کتنی قلابازیاں کھاتا ہے- اور نیلوفر کتنی مکاری سے جھوٹ بولتی ہے- میری غلطی تھی جو میں نے ارشد سے بات کی- ڈائریکٹ نیلوفر سے ڈیل کرنا چاہیے تھا- ارشد سے اب بات نہیں کرنا ہے- ہو سکتا تھا، وہ کر لی- باقی ارشد نے یہ کہہ کر سننے سے انکار کر دیا تھا کہ اس نے سب کچھ ذہنی طور سے قبول کر لیا ہے- تو اب ارشد سے مزید بات نہیں کرنا ہے-
ارشد کے دامادوں کو نیوٹرل نہیں رہنا ہے- یا تو میرے ساتھ ہوں، یا میرے خلاف ہوں- نیوٹرل رہنے والے کو میں اپنے خلاف ہی سمجھوں گا- ارشد کی اولادوں کو بھی اپنی ماں کے افئیرز کی یہ داستان پڑھنی چاہیے تاکہ وہ بھی محسوس کرسکیں کہ میں نے کیسا محسوس کیا تھا- میں بھی ان کی ماں کو ان ہی کی طرح مقدس ہستی سمجھتا تھا- میں وقت کو ٹالتا رہا- آج تو انٹرنیٹ کا زمانہ ہے- جبکہ پہلے انٹرنیٹ کا وجود نہیں تھا- غصے کے عالم میں 43 تینتالیس سال پہلے سے بہت سے پلان بناتا رہا اور ٹالتا رہا- کتاب لکھ کے چھپواؤں- فلم بنواؤں- نیلوفر ڈرامہ اسٹیج پر پیش کرواؤں-
یا کراچی میں لوفر گروپ کامیڈی اسٹيج شو کرواؤں اور اخبار میں اشتہار دوں-
= لوفر گروپ =
کمال کی چمیاں
نیلوفر کی مستیاں
ننھے کی قلابازیاں
سسرے کی شوخیاں
زاہدوں کی گستاخیاں
محلے میں سرگوشیاں
سلیم ڈ ڈ ن کی مدہوشیاں
دوستوں کے مزاحیہ خا کے
ننھی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
پاکستان کے پرانے اداکار کمال اور اداکارہ نیلو کی پرانی فلمیں
نہلے پہ دہلا- انصاف- بنجارن- قتل کے بعد- صبح کہیں، شام کہیں- جٹ کمالا گیا دوبئی-
پاکستان کے اداکار فواد خان اور اداکارہ ماہرہ خان کی نئی فلم نیلوفر-

ارشد نے مجھے بتایا کہ راشد نے جوابھی کالج میں تھا ارشد سے ایک موٹرسائیکل خرید کر اسے دینے کی فرمائیش کی ہے- جس پر ارشد نے راشد کو منع کرتے ہوئے کہا کہ جب خود کمانے لگو تو اپنے پیسوں سے خود خرید لینا- ارشد سعودی عرب آنے سے پہلے پاکستان میں کبھی کوئی موٹرسائیکل نہیں رکھ سکا تھا۔
نومبر 1980 میں ارشد، نیلوفر اور ارشد کے چھوٹے بھائی راشد نے میری بہن کی کراچی میں شادی میں شرکت کی- میں نے ان سب کا تعارف اپنے گھر والوں سے کرایا- نیلوفر نے میرے ساتھ فوٹوگرافر سے فوٹوگراف بھی کھنچوائے-
ارشد اور راشد آپس میں بہت بے تکلف تھے- ان دنوں میں دونوں بھائی آپس میں لڑکیوں کی باتیں بھی بلا تکلف دوستوں کی طرح کر لیا کرتے تھے- کوئی بیس بائس سال بعد ارشد قدوسی نے بتایا کہ اب راشد اللہ والا ہو گیا ہے-
نیلوفر نے بتایا کہ زاہد نے نیلوفر کو گندے فوٹو دکھانے کے بعد دست درازی کی کوشش کی- تو نیلوفر نے کھینچ کر لات ماری-
ارشد نے بتایا کہ وہ ہاتف سے ناراض ہے کیوں کہ ہاتف نے پہلے ضیا بھائی کی بہن کو پھانسا لیکن پھر شادی کہیں اور رچالی-

جانے تم کیسی کیسی چال چلو گی، جانے کتنوں کا برا حال کرو گی
جسے چاہو گی اسے نہال کرو گی، تم جو بھی کرو گی کمال کرو گی
تم جو بھی ہو دل آج دو، کل یہ سماں پھر ہو نہ ہو
دل دھڑکتا ہے، ڈر سا لگتا ہے، میں لٹ جاؤں، کہیں ایسا نہ ہو
یہ کپڑے بدل لو، وہ کپڑے پہن لو، ہم پیار کرنے والے ہیں، کوئی غیر نہیں،
ارے ہم تم پہ مرنے والے ہیں، کوئی غیر نہیں
او مونا کے دادا، تو ہے میرا دلدادہ، جا پیار کرنے والے تیری خیر نہیں،
ارے او ہم پہ مرنے والے تیری خیر نہیں
We use cookies to analyze website traffic and optimize your website experience. By accepting our use of cookies, your data will be aggregated with all other user data.